امریکہ ایران مذاکرات اور ایران کےمنجمد اثاثے

تحریر: منظر نقوی

امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ سفارتی رابطوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذاکرات کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی حتمی اور پائیدار امن معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، مگر تہران کی جانب سے اس تاثر کو محتاط انداز میں رد کیا گیا ہے۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ مذاکرات نہایت حساس مرحلے میں ہیں اور دونوں فریق ابھی اعتماد کے بحران سے باہر نہیں نکل سکے۔

اس وقت اصل مسئلہ صرف ایران کے جوہری پروگرام، خلیج فارس کی سلامتی یا آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا۔ مذاکرات کا ایک اہم اور بنیادی نکتہ ایران کے منجمد اثاثے بن چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایران اپنے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز کی بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مختلف رپورٹس میں یہ رقم 12 ارب ڈالر سے 24 ارب ڈالر تک بتائی جا رہی ہے، جبکہ قطر میں موجود تقریباً 6 ارب ڈالر بھی مذاکرات کا ایک اہم نکتہ سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ رقم پہلے انسانی بنیادوں پر خوراک، ادویات اور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے استعمال ہونی تھی، مگر بعد میں سیاسی پابندیوں اور امریکی دباؤ کے باعث اس کا استعمال محدود ہو گیا۔

ایران کے نزدیک یہ رقم کسی کی رعایت یا امداد نہیں بلکہ اس کا اپنا حق ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ اثاثے ایران کی قانونی دولت ہیں جنہیں پابندیوں کے ذریعے روکا گیا۔ دوسری طرف امریکہ کا مؤقف یہ ہے کہ ان اثاثوں کی فوری بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایران اپنے جوہری پروگرام، علاقائی کردار اور سکیورٹی معاملات پر قابل اعتماد یقین دہانیاں نہ دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ اب صرف مالی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے۔

ایران کے منجمد اثاثوں کی اصل مقدار کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے اثاثے تقریباً 100 ارب ڈالر تک ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ رقوم چین، قطر، جنوبی کوریا سے منتقل شدہ اکاؤنٹس، عراق، جاپان اور دیگر ممالک میں مختلف قانونی پابندیوں کے تحت موجود ہیں۔ اس پیچیدہ مالی صورت حال نے مذاکرات کو مزید مشکل بنا دیا ہے کیونکہ ہر ملک میں موجود فنڈز پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہیں۔

موجودہ حالات میں ایک ممکنہ فارمولا مرحلہ وار ریلیف کا ہو سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایران کو محدود رقم تک رسائی دی جائے، خاص طور پر انسانی ضروریات، ادویات، خوراک اور معاشی استحکام کے لیے۔ اس کے بعد مزید فنڈز کی بحالی کو ایران کی جانب سے جوہری وعدوں، عالمی معائنوں اور علاقائی کشیدگی میں کمی سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ یہ راستہ عملی بھی ہے اور دونوں فریقوں کو اپنی سیاسی پوزیشن بچانے کا موقع بھی دیتا ہے۔

تاہم یہ طریقہ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب امریکہ اور ایران دونوں سیاسی بیانات کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پابندیوں کا سب سے زیادہ نقصان عام ایرانی عوام کو پہنچا ہے۔ مہنگائی، ادویات کی کمی، کرنسی کا دباؤ اور معاشی بے یقینی نے عام شہریوں کو متاثر کیا ہے۔ اگر منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ شفاف نگرانی کے تحت انسانی مقاصد کے لیے جاری کیا جائے تو یہ اعتماد سازی کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔

ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ اثاثوں کی بحالی علاقائی سلامتی سے الگ نہیں ہو سکتی۔ دنیا کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرے گی جس سے خلیج میں کشیدگی بڑھے یا جوہری پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے۔ وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے ایران کو اپنی خودمختاری کے ساتھ ساتھ خطے کو یقین دہانی بھی دینی ہوگی۔

امریکہ کو بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ 2015 کا جوہری معاہدہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک معاہدہ طے تو ہو سکتا ہے مگر امریکی داخلی سیاست کے باعث کمزور بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر واشنگٹن واقعی دیرپا امن چاہتا ہے تو اسے ایسا معاہدہ بنانا ہوگا جو صرف ایک صدر یا ایک انتظامیہ کے مزاج پر منحصر نہ ہو بلکہ ادارہ جاتی، قابل تصدیق اور مستحکم ہو۔

بہتر راستہ یہی ہے کہ ایک متوازن معاہدہ کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں ایران کے کچھ منجمد اثاثے جاری کیے جائیں، ان کے استعمال کی نگرانی ہو، پابندیوں میں بتدریج نرمی کی جائے، جوہری معائنوں کا نظام بحال کیا جائے اور دونوں فریق فوجی کشیدگی سے بچنے کی واضح یقین دہانی کرائیں۔ ایسا معاہدہ تمام اختلافات ختم نہیں کرے گا، لیکن جنگ کے خطرے کو ضرور کم کر سکتا ہے۔

پاکستان اور مسلم دنیا کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کا اثر صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے اثرات خلیجی ممالک، تیل کی قیمتوں، علاقائی تجارت، سمندری راستوں اور بیرون ملک کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں پر پڑتے ہیں۔ پاکستان کو اس معاملے میں محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری کی حمایت کرنی چاہیے۔ پاکستان کا مفاد ایک ایسے خطے میں ہے جہاں جنگ نہیں بلکہ تجارت، توانائی تعاون اور استحکام ہو۔

ایران کے منجمد اثاثوں کو مستقل دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ رقوم اگر شفاف اور ذمہ دارانہ طریقے سے جاری کی جائیں تو یہ امن کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ امریکہ اگر واقعی امن چاہتا ہے تو اسے معاشی ریلیف کے لیے راستہ کھولنا ہوگا۔ ایران اگر واقعی تعلقات میں بہتری چاہتا ہے تو اسے قابل اعتماد ضمانتیں دینا ہوں گی۔

آج دنیا کو مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں۔ دنیا کو ایک سنجیدہ، متوازن اور قابل عمل معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اگر دانشمندی سے کی گئی تو یہ امن کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے سیاسی ضد اور طاقت کے مظاہرے کی نذر کر دیا گیا تو یہ ایک اور ضائع شدہ موقع ہوگا، جس کی قیمت صرف ایران یا امریکہ نہیں بلکہ پورا خطہ ادا کرے گا۔



  تازہ ترین   
پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ
فلسطین کو تسلیم کیے بغیر ابراہیمی معاہدے پر کوئی لچک نہیں دکھائیں گے: اسحاق ڈار
بجٹ 27-2026 میں ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے کا امکان
ایران کا چین اور روس کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولتیں دینے کا اعلان
ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس بے نتیجہ ختم، ایران کے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہوسکا
ایرانی وزیرِ خارجہ کا عمانی ہم منصب سے رابطہ، مکمل حمایت کا اظہار
بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان
پنجاب انسداد دہشتگردی ایکٹ میں نئی دفعہ شامل، علیحدہ عدالتی طریقہ کار متعارف ہوگا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر