تحریر: عابد حسین قریشی
آج یوم عرفہ ہے۔ بخشش اور مغفرت کا دن۔ تقریباً ساڑھے چودہ سو سال قبل آج ہی کا دن، کیا روح پرور منظر ہے۔ یہ وہی مکہ ہے، جہاں سے چند سال قبل نہایت مشکل حالات میں ہجرت کرنا پڑی۔ اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنا کس قدر اذیت ناک تھا، بیان کرنا ممکن نہیں۔ مگر آج اسی شہر میں ایک لاکھ سے زائد کا جم غفیر نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے اور سننے کے لئے پرجوش بھی ہے، اور بیتاب بھی۔
سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی میدان عرفات میں آج ہی کے دن ایک تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا۔ نبی محتشم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الوداعی خطبہ جسے خطبہ حجتہ الوداع کہا جاتا ہے، ویسے تو اس خطبہ مبارکہ کا ایک لفظ سونے میں لکھنے کے قابل ہے۔ اسے پڑھتے جائیں تو یہ گمان ہوتا ہے کہ کائنات کے سب سے عظیم مدبر، دانشور اور داعی حق نے اپنی امت کے لیے رہتی دنیا تک ایک فلسفہ زندگی، ایک جامع لائحہ عمل، ایک عظیم الشان پیغام ریکارڈ کرایا۔
اس منفرد اور عالی شان خطبہ کے بڑے دور رس مذہبی پہلو تو یقیناً ہیں، مگر اس خطبہ میں جو اخلاقی اور معاشرتی پیغام ہے، وہ بڑا جاندار، معنویت میں ایک چشمہ فیض، اعلیٰ محاسن اخلاق کا مجموعہ اور حکمت و دانائی کا انمول خزینہ ہے۔
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی اس کائنات میں بلند اخلاق و کردار، اور اعلیٰ ترین اوصاف حمیدہ کا مجموعہ اور پیکر ہے، کہ جس پر انسانیت بجا طور پر نازاں ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انہی اوصاف حمیدہ، اخلاق عالیہ اور اعمال صالحہ نے آپ کے لیے ہمارے دلوں میں چاہت و محبت کی انمٹ شمعیں روشن کیں ہیں اور دلوں کو سرور و کیف کی سر مستیاں بخشی ہیں جو بیان سے باہر ہیں۔
خطبہ حجتہ الوداع کا اخلاقی و معاشرتی پیغام
خطبہ حجتہ الوداع میں جو اخلاقی اور معاشرتی پیغام ہے، اس میں شامل ہے:
– عورتوں کے حقوق اور معاشرتی مساوات
– لوگوں کو تنگ نہ کرنے کی تاکید
– سود کا خاتمہ
– گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں، صرف فوقیت اسے ہے جو اعمال میں بہتر ہے
– عورتوں سے نرم رویہ رکھنے اور انکے جملہ حقوق ادا کرنے کا حکم
– ہر طرح کے تعصبات اور عصبیتوں کی حوصلہ شکنی
اور آخر میں یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میں تم میں اپنے پیچھے قرآن کریم اور اپنے اہل بیت چھوڑ کر جارہا ہوں۔
متذکرہ بالا وہ منتخب حصے اس خطبہ مبارک سے لیے گئے ہیں، جو ہماری اخلاقی اور معاشرتی اساس کو چھوتے ہیں۔ یہ خطبہ دراصل اسی پیغام جاں فزا کا تسلسل تھا جس کے نفاذ کے لیے گزشتہ تئیس سال سے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جد و جہد اور تگ و دو فرما رہے تھے۔
ظلم و استحصال کا خاتمہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عظیم الشان پیغام کے ذریعے معاشرہ سے ہر قسم کے ظلم اور استحصال کا خاتمہ فرمایا، تمام باطل امتیازات کا قلع قمع کیا۔ اپنے اعلیٰ و ارفع حسن کردار، بے مثل تواضع و انکسار، شدید مصائب و تکالیف کے باوجود بلند حوصلگی، اور دشمنوں کے لیے بھی جذبہ خیر خواہی سے بنی نوع انسان کو یہ ابدی پیغام دیا کہ معاشرتی اور اخلاقی طور پر لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنے کے لیے انتقام اور بدلہ کی بجائے عفو و درگزر اور صبر و تحمل میں جو مسرت و لذت اور فخر و انبساط کے احساسات موجزن ہیں، انہی کی بدولت انسانی اقدار زندہ رہیں گی۔
اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا ثابت کرنے کی دوڑ میں اکثر انسان راستہ میں گر جاتے ہیں اور گرد راہ بن جاتے ہیں۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس خطبہ میں ان خود غرضانہ اور ناپسندیدہ دعووں اور عملوں کا قلع قمع کیا گیا ہے۔
سود کا خاتمہ اور انسانی وقار
اسی خطبہ مبارکہ میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت سب سے بڑی معاشرتی برائی سود کے خاتمہ بلکہ اس کے معاف کرنے کا بھی اعلان کیا۔ سود کی حرمت اگرچہ قرآن کریم میں واضح طور پر آ چکی تھی مگر جن لوگوں کے ذمہ واجب الادا سود تھے اور جو پرانے حساب کتاب تھے، ان کی معافی کا اعلان اس بھرپور انداز میں کیا کہ سود کی حرمت کے حکم میں کوئی ابہام باقی نہ رہا۔
کسی دوسرے انسان کو تنگ نہ کرنے اور کسی کا نقصان نہ کرنے میں جو معاشرتی اور اخلاقی درس ہے، یہ دلوں کی تسخیر کرنے والا ہے۔ اس حکم کے بعد کسی کمزور کو تنگ اور پریشان کرنے اور کسی کا جان بوجھ کر نقصان کرنے کی قطعیت کے ساتھ ممانعت کر دی گئی، تاکہ معاشرہ میں باہمی محبت و احترام کے رشتے پروان چڑھیں.
عورت کی عزت و تکریم
عورت کی عزت و تکریم، اس کے حقوق کی پاسداری اس معاشرے میں جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، کسی انقلاب عظیم سے کم نہ تھا۔ آج عورتوں کے حقوق کی خاطر آواز اٹھانے والے صرف ایک نظر اس خطبہ مبارک پر نظر دوڑا لیں تو وہ ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں جو آج عورتوں کے حقوق اور اسلام کی بابت پھیلائی جا رہی ہیں۔
خطبہ حجتہ الوداع ایک مکمل چارٹر ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ دلوں پر دستک دے رہا ہے۔ یہ ایک مقدس دستاویز ہے، ایک ایسا جامع اور اکمل پیغام ہے جس میں انسانیت کے لیے عافیت ہے، محبت و شفقت ہے، محویت و استغراق ہے، تواضع و انکسار ہے، عقل و فہم ہے، غور و فکر ہے، حکمت و دانائی ہے، اور آخر میں قرآن کریم اور اہل بیت اطہار علیہ السلام کی محبت و عقیدت اور ان کے ساتھ وابستگی کا دلکش پیغام ہے۔
خطبہ حجتہ الوداع: ایک عظیم پیغام، ایک اخلاقی اور معاشرتی چارٹر



