تحریر: منظر نقوی
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا 23 سے 26 مئی 2026 تک چین کا چار روزہ سرکاری دورہ پاکستان چین تعلقات کے ایک نہایت اہم مرحلے پر ہوا ہے۔ یہ دورہ محض دو دوست ممالک کے درمیان معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس بات کا اہم موقع ہے کہ پاکستان چین کی آزمودہ دوستی کو معاشی بحالی، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور علاقائی استحکام کے عملی ایجنڈے میں تبدیل کرے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھے ہیں۔ چین نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے جبکہ پاکستان نے بھی ہر عالمی اور علاقائی فورم پر چین کے ساتھ اپنی وابستگی کو ثابت کیا ہے۔ تاہم موجودہ دور میں صرف روایتی دوستی کافی نہیں۔ آج پاکستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو صنعت، برآمدات، زراعت، آئی ٹی، قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری اسٹوریج، ڈیجیٹل معیشت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے۔
وزیراعظم کے دورے کا آغاز چین کے صوبہ ژی جیانگ کے شہر ہانگژو سے ہونا نہایت معنی خیز تھا۔ ژی جیانگ چین کی اُن ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے جہاں نجی شعبہ، ای کامرس، ڈیجیٹل اکانومی، صنعتی جدت، سبز ترقی اور ٹیکنالوجی نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہی وہ ماڈل ہے جس سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب پاکستان کو صرف سڑکوں، توانائی منصوبوں اور انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی، زرعی جدت، برآمدی صنعتوں اور خصوصی اقتصادی زونز کی فعالیت سے جوڑنا ہوگا۔
ہانگژو میں پاکستان چین بزنس کانفرنس کے دوران پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان 1.22 ارب ڈالر مالیت کے تعاون کے معاہدے ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہیں۔ آئی ٹی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج، زراعت، فارماسیوٹیکل، توانائی اور جدید صنعتوں کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کی دلچسپی پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ لیکن اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ معاہدے صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ انہیں فیکٹریوں، برآمدات، روزگار، ٹیکنالوجی سینٹرز اور مقامی پیداواری صلاحیت میں بدلنا ہوگا۔
بیجنگ میں چینی قیادت کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقاتیں بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ بات چیت میں سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط جیسے شعبے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کے سامنے ایک واضح، قابل عمل اور سرمایہ کار دوست روڈ میپ رکھنا چاہیے۔ سرمایہ کاری اسی وقت آئے گی جب پالیسیوں میں تسلسل، ٹیکس نظام میں وضاحت، معاہدوں پر عملدرآمد، سیکیورٹی کی ضمانت اور فیصلہ سازی میں تیزی نظر آئے گی۔
چینی سرمایہ کاری کے لیے سیکیورٹی کا سوال انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں پر ماضی میں ہونے والے حملوں نے بیجنگ کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ چینی سرمایہ کاری سرکاری منصوبوں سے آگے بڑھ کر نجی شعبے، صنعت اور ٹیکنالوجی میں آئے تو اسے چینی سرمایہ کاروں، انجینئرز اور کارکنوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے لیے صرف سیکیورٹی انتظامات ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر سیاسی اتفاق رائے بھی ضروری ہے کہ سی پیک پاکستان کی معاشی بقا اور ترقی کا قومی منصوبہ ہے۔
یہ دورہ علاقائی تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ایران امریکا تنازع، توانائی کی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی اور علاقائی سلامتی کے بدلتے ہوئے حالات پاکستان کے لیے براہِ راست اہم ہیں۔ چین خطے میں امن، رابطہ کاری اور معاشی تعاون کا بڑا حامی ہے۔ پاکستان کے لیے چین کے ساتھ اسٹریٹجک مشاورت نہ صرف سفارتی لحاظ سے بلکہ توانائی تحفظ، تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
پاکستان چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں یہ دورہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ سال صرف تقریبات، بیانات اور یادگاری تقاریب کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز بنانا چاہیے۔ اس نئے دور میں پاکستان چین تعلقات کو قرضوں اور انفراسٹرکچر سے آگے بڑھا کر مشترکہ سرمایہ کاری، برآمدی پیداوار، صنعتی زونز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، زرعی جدیدیت اور نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے مواقع سے منسلک کرنا ہوگا۔
پاکستان کو اب اپنی داخلی تیاری مکمل کرنا ہوگی۔ خصوصی اقتصادی زونز کو فعال بنانا، ون ونڈو آپریشن کو حقیقی شکل دینا، بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانا، سرمایہ کاروں کے لیے زمین، اجازت ناموں اور ٹیکس سہولتوں کا واضح نظام بنانا اور برآمدی صنعتوں کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کام نہ کیے گئے تو بہترین سفارتی دورے بھی مطلوبہ معاشی نتائج پیدا نہیں کر سکیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ چین بلاشبہ پاکستان کے لیے امید، اعتماد اور نئے مواقع کا پیغام لایا ہے۔ اس نے سی پیک فیز ٹو کو دوبارہ قومی بحث کے مرکز میں رکھا ہے اور چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ نئے دروازے کھولے ہیں۔ لیکن اس دورے کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ تصاویر، مشترکہ اعلامیوں یا معاہدوں کی تعداد سے نہیں ہوگا بلکہ اس بات سے ہوگا کہ پاکستان کتنی جلدی ان وعدوں کو زمین پر منصوبوں، صنعتوں، ملازمتوں اور برآمدات میں تبدیل کرتا ہے۔
پاک چین دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دوستی معاشی نتائج، صنعتی ترقی اور عوامی خوشحالی کی آزمائش پر بھی پوری اترے۔



