تحریر: محمد نذیر
راولپنڈی ڈویژن کا اہم علاقہ روات اپنی جغرافیائی اہمیت، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور جی ٹی روڈ پر مرکزی محلِ وقوع کے باعث نہ صرف پوٹھوہار ریجن بلکہ آزاد جموں و کشمیر اور جنوبی پنجاب کی جانب سفر کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے ایک اہم گزرگاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس قدر اہم خطہ آج بھی جدید اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہے۔
روات میں قائم ٹی ایچ کیو ہسپتال کی عمارت کئی برس قبل مکمل کر لی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے یہ منصوبہ تاحال مکمل طور پر فعال نہ ہو سکا۔ عوامی حلقوں کے مطابق اس ہسپتال کے قیام کا اعلان ماضی میں بڑے دعوؤں اور بلند دعوؤں کے ساتھ کیا گیا تھا اور اسے پورے پوٹھوہار خطے کے لیے ایک جدید طبی مرکز قرار دیا گیا تھا، لیکن حکومتوں کی تبدیلی، انتظامی غفلت اور سیاسی ترجیحات بدلنے کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ روات، گوجرخان، کہوٹہ، کلر سیداں، ٹیکسلا کے مضافاتی علاقوں، دیہی یونین کونسلز اور جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کو علاج معالجے کے لیے راولپنڈی کے بڑے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں پہلے ہی مریضوں کا شدید دباؤ موجود ہے۔ خصوصاً ٹریفک حادثات، ہارٹ اٹیک، فالج، زچہ و بچہ کی ایمرجنسی اور دیگر تشویشناک طبی صورتحال میں بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
مقامی آبادی کے مطابق گوجرخان سے راولپنڈی کے فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال تک کوئی ایسا بڑا سرکاری طبی مرکز موجود نہیں جہاں جدید ایمرجنسی، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، تشخیصی سہولیات اور زچہ و بچہ کے معیاری علاج کی مکمل سہولت میسر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے افراد مہنگے نجی ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی مریض مالی مشکلات کے باعث مناسب علاج سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ روات ٹی ایچ کیو ہسپتال کی عمارت مکمل طور پر تیار ہے اور اگر حکومت فوری طور پر جدید طبی مشینری، ادویات، ایمبولینسز، تشخیصی آلات فراہم کر دے جبکہ ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ایمرجنسی عملے کی تقرری کر دی جائے تو یہ ہسپتال چند ہفتوں میں پورے خطے کے لیے ایک فعال طبی مرکز بن سکتا ہے۔
عوام کا یہ بھی دیرینہ مطالبہ ہے کہ اس ہسپتال کو محض ایک روایتی ٹی ایچ کیو ہسپتال تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے “روات ماڈل ہسپتال” کا درجہ دیا جائے تاکہ یہاں جدید ٹراما سینٹر، 24 گھنٹے ایمرجنسی سروس، آئی سی یو، ڈائیلاسز یونٹ، جدید لیبارٹری اور زچہ و بچہ وارڈ جیسی بنیادی اور جدید طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق روات کی جغرافیائی پوزیشن اسے ایک مثالی ماڈل ہسپتال بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ یہ جی ٹی روڈ کے مرکزی روٹ پر واقع ہے جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں اور حادثات کی صورت میں فوری طبی امداد انتہائی ضروری ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی یہ ہسپتال ایک اہم طبی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، روات، گوجرخان، مندرہ اور گردونواح کے علاقوں کی ایک بڑی تعداد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں پر مشتمل ہے، جن میں خصوصاً برطانیہ اور مختلف یورپی ممالک میں آباد افراد شامل ہیں۔ ان اوورسیز پاکستانیوں کے اہلِ خانہ، بزرگ والدین اور رشتہ دار بدستور اپنے آبائی علاقوں میں مقیم ہیں، جہاں انہیں معیاری طبی سہولیات کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ مقامی شہریوں کے مطابق کسی بھی طبی ایمرجنسی، ہارٹ اٹیک، فالج، حادثے یا زچہ و بچہ کی پیچیدہ صورتحال میں بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث اکثر مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اوورسیز کمیونٹی کا مؤقف ہے کہ روات ٹی ایچ کیو ہسپتال کو فوری طور پر مکمل فعال اور جدید سہولیات سے آراستہ کیا جانا ناگزیر ہے تاکہ مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے خاندانوں کو بھی بروقت اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں۔
عوامی و سماجی حلقے پُرامید ہیں کہ موجودہ پنجاب حکومت، بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب، صحت کے شعبے میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت روات کے عوام کے اس دیرینہ مطالبے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر روات ٹی ایچ کیو ہسپتال کو ایک جدید ماڈل ہسپتال میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ نہ صرف پوٹھوہار ریجن کے لاکھوں افراد کے لیے ایک تاریخی تحفہ ہوگا بلکہ راولپنڈی کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بھی نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔
عوام کا مؤقف ہے کہ ایک مکمل تیار عمارت کو غیر فعال رکھنا جبکہ لوگ علاج نہ ملنے کے باعث مشکلات اور اموات کا سامنا کر رہے ہوں، ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے جس کا فوری حل ناگزیر ہو چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ روات ماڈل ہسپتال کو عملی طور پر فعال کر کے اسے حقیقی معنوں میں عوامی خدمت، جدید طبی سہولیات اور انسانی فلاح کی علامت بنایا جائے۔



