تحریر: محمد نذیر
پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد جب پوٹھوہار کے تاریخی اور زرخیز خطے میں تعمیر کیا گیا تو مقامی آبادی کو یقین دلایا گیا تھا کہ یہ شہر ترقی، خوشحالی اور جدید سہولتوں کی علامت بنے گا۔ لوگوں نے اپنی زمینیں قربان کیں، اپنے آبائی گاؤں چھوڑے اور ریاست کے فیصلے کو قومی مفاد سمجھ کر قبول کیا۔ مگر آج نصف صدی گزرنے کے بعد یہی سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا اسلام آباد واقعی مقامی پوٹھوہاری عوام کے لیے ترقی کا ذریعہ بنا، یا پھر ان کے حقوق، شناخت اور مستقبل کو دبا دینے کا ایک خاموش منصوبہ ثابت ہوا؟
اسلام آباد کی بنیاد پوٹھوہار کے سینکڑوں دیہاتوں کی زمینوں پر رکھی گئی۔ ان زمینوں کے اصل وارث مقامی کسان اور دیہی خاندان تھے جنہوں نے نسلوں تک ان علاقوں کو آباد رکھا۔ لیکن جیسے جیسے شہر پھیلتا گیا، مقامی لوگ اپنی ہی زمینوں پر غیر مؤثر اور بے اختیار ہوتے گئے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسلام آباد میں مقامی پوٹھوہاری آبادی تعداد، اثر و رسوخ اور سرکاری نمائندگی کے لحاظ سے بتدریج اقلیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ باہر سے آنے والی آبادیاں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور سرمایہ دار طبقہ شہر کے وسائل، کاروبار اور مواقع پر حاوی ہو گیا، جبکہ اصل باشندے دیہاتوں اور مضافاتی علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے۔ یہ صرف آبادی کا مسئلہ نہیں بلکہ شناخت، اختیار اور حقِ ملکیت کا سوال بن چکا ہے۔
مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ ان کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی یہ ہوئی کہ ان کی زمینیں تو لے لی گئیں، مگر انہیں ترقی کے ثمرات میں شریک نہیں کیا گیا۔ سرکاری اداروں، خاص طور پر کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA)، کے نظام میں مقامی لوگوں کی آواز کمزور ہوتی گئی۔
دیہاتوں کے لوگ آج بھی شکایت کرتے ہیں کہ نوکریوں میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح نہیں دی جاتی، ترقیاتی منصوبوں میں مقامی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، دیہاتوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا، زمینوں کے تنازعات میں طاقتور طبقے کو فوقیت ملتی ہے، اور سی ڈی اے قوانین مقامی آبادی پر سختی سے نافذ کیے جاتے ہیں جبکہ بڑے سرمایہ کاروں کو آسانیاں دی جاتی ہیں۔ مقامی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اسلام آباد ان کی زمینوں پر آباد ہوا تو پھر اس شہر میں ان کا حصہ کیوں کم ہوتا جا رہا ہے؟
اسلام آباد کو جدید شہر کہا جاتا ہے، مگر اس کے اردگرد آباد اصل دیہاتوں کی حالت مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ کئی علاقوں میں آج بھی معیاری اسپتال، بنیادی مراکزِ صحت اور جدید تعلیمی ادارے موجود نہیں۔ دیہاتی آبادی کے مریضوں کو علاج کے لیے شہر کے بڑے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں مہنگا علاج اور پیچیدہ نظام ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کے مواقع بھی محدود ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس خطے نے پاکستان کو دارالحکومت دیا، وہی خطہ بنیادی سہولتوں کے لیے ترس رہا ہے۔
اسلام آباد کی چمکتی ہوئی عمارتوں اور وسیع مارکیٹوں کے باوجود مقامی نوجوانوں میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مناسب نمائندگی نہ ہونے اور نجی شعبے میں بیرونی اثر و رسوخ کے باعث پوٹھوہاری نوجوان خود کو معاشی دوڑ سے باہر محسوس کرتے ہیں۔
بہت سے خاندان جنہوں نے زمینیں فروخت کیں یا ایکوائر کروائیں، وقتی مالی فائدے کے بعد مستقل آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو گئے۔ نتیجتاً نئی نسل نہ زمین کی مالک رہی اور نہ ہی مضبوط معاشی مستقبل حاصل کر سکی۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ اس کے قوانین اور پالیسیوں کا سب سے زیادہ دباؤ مقامی دیہاتوں پر پڑتا ہے۔ چھوٹے گھروں، دکانوں اور دیہی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں تو فوری ہو جاتی ہیں، مگر بڑے ہاؤسنگ منصوبوں اور طاقتور حلقوں کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
کئی قدیمی دیہات آج بھی بنیادی انفراسٹرکچر، سیوریج، سڑکوں اور قانونی تحفظ سے محروم ہیں۔ مقامی آبادی محسوس کرتی ہے کہ انہیں جدید اسلام آباد کے نقشے میں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پوٹھوہار صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ اپنی زبان، ثقافت، روایات اور تاریخ رکھنے والی ایک مکمل تہذیب ہے۔ مگر اسلام آباد کی تیز رفتار شہری توسیع نے مقامی ثقافت کو پس منظر میں دھکیل دیا۔
آج نئی نسل اپنی مادری زبان، روایتی طرزِ زندگی اور ثقافتی شناخت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتِ حال جاری رہی تو آنے والے برسوں میں پوٹھوہاری شناخت صرف کتابوں اور قصوں تک محدود ہو جائے گی۔
مقامی عوام کا سب سے بڑا درد یہی ہے کہ وہ اپنے ہی شہر میں اجنبی بنتے جا رہے ہیں۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی ترقی میں ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا گیا ہے۔
یہ احساسِ محرومی صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور ثقافتی بھی ہے۔ جب کسی علاقے کے اصل باشندے اپنے ہی وسائل، زمین اور فیصلوں سے دور کر دیے جائیں تو وہاں بے چینی اور عدم اعتماد پیدا ہونا فطری امر ہے۔
اگر حکومت واقعی اسلام آباد کو ایک منصفانہ اور مثالی دارالحکومت بنانا چاہتی ہے تو اسے پوٹھوہار کے مقامی عوام کو صرف تماشائی نہیں بلکہ برابر کا شریک تسلیم کرنا ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں خصوصی کوٹہ مقرر کیا جائے، دیہاتوں کو جدید شہری سہولتیں فراہم کی جائیں، صحت اور تعلیم کے معیاری ادارے قائم کیے جائیں، سی ڈی اے قوانین میں مقامی آبادی کے لیے انسانی اور منصفانہ اصلاحات لائی جائیں، زمینوں کے تنازعات شفاف طریقے سے حل کیے جائیں، پوٹھوہاری ثقافت اور زبان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں، اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
اسلام آباد کی خوبصورتی اور ترقی اپنی جگہ، مگر ایک دارالحکومت اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اصل باشندے خود کو محروم، بے اختیار اور اقلیت محسوس کرتے رہیں۔ پوٹھوہار کے لوگوں نے اس شہر کے لیے اپنی زمینیں، اپنے گاؤں اور اپنی نسلوں کا مستقبل قربان کیا۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کا اعتراف صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی انصاف، برابر کے حقوق اور حقیقی شراکت داری کے ذریعے کرے۔



