امریکہ ایران جنگ: پاکستان کی خاموش ثالثی اور ذمہ دار سفارتی رابطے –

تحریر: منظر نقوی

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطے کے امن، توانائی کی سلامتی اور عالمی سفارت کاری کے لیے سنگین امتحان بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ رابطوں کا جاری رہنا نہایت اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ امریکا نے بظاہر ایران کی 14 نکاتی تجویز کو مسترد کیا، لیکن تہران کے مطابق امریکی جانب سے نظرثانی شدہ نکات اور تحفظات پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایران تک پہنچائے گئے اور ایران نے بھی اپنا جواب اسی چینل کے ذریعے دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک خاموش راستہ اب بھی موجود ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا یہ کہنا کہ عمل “پاکستان کے ذریعے جاری ہے” اسلام آباد کے لیے ایک نازک مگر اہم سفارتی کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی عالمی سفارت کاری کے اہم مواقع پر پل کا کردار ادا کر چکا ہے، خاص طور پر 1970 کی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان رابطوں کے آغاز میں۔ آج ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے ماحول میں پاکستان ایک بار پھر خاموش سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ کردار محض علامتی نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے قومی مفاد سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد ملتی ہے، خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے اہم معاشی اور افرادی روابط ہیں اور امریکا، چین اور مسلم دنیا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات اہم نوعیت کے ہیں۔ ایران کے ارد گرد کسی بھی قسم کی بڑی جنگ یا کشیدگی پاکستان کی سلامتی، معیشت، توانائی کی درآمدات اور علاقائی روابط کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے ثالثی صرف ایک سفارتی خدمت نہیں بلکہ خطے کو جنگ سے بچانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا قانونی حق ہے اور یہ حق جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی این پی ٹی کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ تہران اسے ناقابلِ مذاکرات معاملہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی افزودگی کی سطح، ذخائر اور مستقبل کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اصل چیلنج یہی ہے کہ ایسا سفارتی فارمولا تلاش کیا جائے جو ایران کے قانونی مؤقف کو مکمل طور پر نظر انداز نہ کرے اور ساتھ ہی عالمی برادری کے خدشات کو بھی شفافیت، نگرانی اور اعتماد سازی کے ذریعے کم کرے۔

موجودہ صورتحال تمام فریقوں سے سفارتی بالغ نظری کا تقاضا کرتی ہے۔ سخت بیانات اور عوامی سطح پر تجاویز کو مسترد کرنا وقتی سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، مگر اس سے بحران حل نہیں ہوتے۔ اگر واقعی نظرثانی شدہ تجاویز کا تبادلہ جاری ہے تو تہران اور واشنگٹن دونوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مذاکرات کے دروازے بند کر دیں۔ سفارت کاری اکثر خاموشی میں آگے بڑھتی ہے اور جب تک بات چیت کا راستہ موجود ہو، جنگ کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ اس بحران کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ صرف ایران، عمان یا خلیجی ریاستوں کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی توانائی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل کی قیمتوں، سمندری تجارت اور عالمی معیشت کو متاثر کرسکتی ہے۔ پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے آبنائے ہرمز میں عدم استحکام براہ راست معاشی دباؤ کا باعث بنے گا۔ اس تناظر میں ایران اور عمان کے درمیان محفوظ سمندری گزرگاہ کے لیے مشاورت ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے علاقائی سطح پر آگے بڑھانا چاہیے۔

ایران کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر قانونی کارروائی کی کوششیں بھی اس بحران کے ایک نئے پہلو کو ظاہر کرتی ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ پابندیوں، مداخلت اور جنگی اقدامات کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ ان قانونی اقدامات کے عملی نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، یہ بات واضح ہے کہ فریقین کے درمیان بداعتمادی بہت گہری ہو چکی ہے۔ مسلسل الزامات، پابندیاں اور دھمکیاں اس خلیج کو مزید وسیع کریں گی۔

ایرانی ترجمان کا یہ کہنا بھی قابلِ غور ہے کہ ایران کو امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں بلکہ اس کا اختلاف امریکی حکومتی پالیسیوں سے ہے۔ عالمی تنازعات میں ایسی تفریق اہم ہوتی ہے، کیونکہ یہی مستقبل میں مصالحت اور عوامی سطح پر بہتر روابط کی بنیاد بن سکتی ہے۔ قوموں کے درمیان مستقل دشمنی فطری نہیں ہوتی؛ اکثر تنازعات سیاسی فیصلوں، تزویراتی مفادات اور حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

خطے کا وسیع تر منظرنامہ بھی تبدیل ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان ممکنہ عدم جارحیت یا اعتماد سازی کے انتظامات کی باتیں اس بات کی علامت ہیں کہ خطے کے ممالک اب یہ سمجھ رہے ہیں کہ سلامتی کا نظام ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے ذریعے نہیں چل سکتا۔ مشرق وسطیٰ کو ایک ایسے علاقائی سلامتی فریم ورک کی ضرورت ہے جس میں ایران، سعودی عرب، عمان، کویت اور دیگر ہمسایہ ممالک براہ راست کردار ادا کریں۔ اعتماد سازی، باہمی احترام اور عدم مداخلت ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

پاکستان کو اس صورتحال میں نہایت محتاط، متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلام آباد کو مذاکرات، تحمل، بین الاقوامی قانون کے احترام، سمندری راستوں کے تحفظ اور خطے میں عدم مداخلت کے اصولوں کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔ ساتھ ہی پاکستان کو کسی بھی محاذ آرائی یا بلاک سیاست کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کا بہترین کردار یہی ہے کہ وہ رابطے کا قابلِ اعتماد ذریعہ بنے اور خطے کو جنگ کے بجائے مذاکرات کی طرف لے جائے۔

ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کے ذریعے جاری بالواسطہ رابطے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سفارت کاری اکثر بظاہر بند دروازوں کے پیچھے بھی زندہ رہتی ہے۔ بحران کے اوقات میں ایسے بیک چینلز غلط فہمیوں کو کم، کشیدگی کو محدود اور سمجھوتے کے امکانات کو زندہ رکھتے ہیں۔ خطے کو ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں۔ اسے تحمل، سنجیدہ مذاکرات اور ذمہ دار سفارتی راستے کی ضرورت ہے۔



  تازہ ترین   
ٹرمپ کا سعودیہ، قطر اور یو اے ای کی درخواست پر ایران پر طے شدہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان
ایران دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا: مسعود پزشکیان کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل
پاکستان سمیت 10 ممالک کی گلوبل صمود فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت
امریکا نے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ہٹانے پر آمادگی ظاہر کر دی: برطانوی میڈیا
قطر کی غزہ جانے والے قافلے روکنے، امدادی کارکنوں کو حراست میں لینے کی مذمت
امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کیلئے پوری طرح تیار ہیں: ایران
سان ڈیاگو کی مرکزی مسجد میں فائرنگ، سکیورٹی گارڈ سمیت 5 افراد ہلاک
پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر