بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت عوامی تحفظ نے پیر کو ڈرون فلائٹ کنٹرول سسٹم کے غیر قانونی استعمال کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے ایسے 10 اہم مقدمات پیش کئے ہیں۔
وزارت کے مطابق بعض مقدمات میں افراد نے تکنیکی ذرائع استعمال کرتے ہوئے پرواز کی بلندی کی حد اور ڈرون کی نو فلائی زونز جیسی حدود کو غیر قانونی طور پر عبور کرنے میں دوسروں کو مدد فراہم کی یا پھر ڈرون فیکٹری میں وزن اٹھانے کے مقرر کردہ معیارات میں رد و بدل کیا تاکہ غیر مجاز ڈرون پروازوں کے ذریعے ناجائز منافع کمایا جا سکے۔
وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات عوامی اور قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ ان 10 مقدمات میں ملوث تمام مشتبہ افراد کے خلاف پولیس نے فوجداری نوعیت کے لازمی اقدامات کئے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
وزارت کے ایک عہدیدار نے خبردار کیا کہ ڈرون مالکان کے لئے نو فلائی زون اور بلندی کی پابندیاں ختم کرنے کی خدمات نجی طور پر فراہم کرنا بھی فوجداری جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس قانون کے مطابق ایسے اقدامات کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔
ماہرین کے مطابق وہ ڈرون جن کی بلندی کی پابندیاں ختم کر دی جائیں، سول ایوی ایشن کے فضائی راستوں میں داخل ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر تصادم جیسے سنگین حادثات کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ جغرافیائی پابندیوں سے آزاد کئے گئے ڈرون فوجی کنٹرول والے حساس علاقوں میں داخل ہو کر ریاستی راز افشا ہونے کے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین نے مزید کہا کہ جن ڈرونز کے کارکردگی سے متعلق معیارات میں تبدیلی کی جاتی ہے، ان کے دوران پرواز بے قابو ہو کر گرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں جو انسانی جانوں اور املاک کے لئے براہ راست خطرہ بن سکتے ہیں۔
چین کا ڈرون پرواز کے نظام میں غیر قانونی تبدیلیوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم



