ٹوکیو (شِنہوا) جاپان میں رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کے مطابق نصف سے زائد آبادی نے حکومت کے مہلک ہتھیاروں کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔
کیوڈو نیوز کی جانب سے جاری کردہ ایک سروے کے مطابق 57.2 فیصد جواب دہندگان نے مہلک ہتھیاروں کی برآمدات کی اجازت دینے کو مسترد کیا جبکہ 37.1 فیصد نے اس کی حمایت کی۔
اسی طرح سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کی جانب سے 8 سے 10 مئی کے دوران کئے گئے ایک اور سروے میں 52 فیصد افراد نے حکومت کے مہلک ہتھیاروں کی برآمدات کا راستہ کھولنے کے اقدام کی مخالفت کی جبکہ 35 فیصد نے اس کی حمایت کی۔
21 اپریل کو وزیر اعظم سنائی تاکائیچی کی قیادت میں جاپانی حکومت نے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق “تین اصولوں” اور ان کے نفاذ کے رہنما اصولوں میں باضابطہ ترمیم کی۔ اس ترمیم کے تحت جاپان کے دفاعی سازوسامان کی برآمدات کو صرف 5 غیر جنگی زمروں تک محدود رکھنے والی پابندیاں ختم کر دی گئیں اور اصولی طور پر مہلک صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں سمیت اسلحے کی بیرون ملک فروخت کی اجازت دے دی گئی۔ اس فیصلے پر جاپان میں شدید تشویش اور احتجاج سامنے آیا ہے۔
نصف سے زائد جاپانی آبادی مہلک ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی ختم کرنے کی مخالف



