واشنگٹن(نیشنل ٹائمز)برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے وائٹ ہاؤس میں سرکاری عشائیے کے دوران ٹرمپ پر ہلکے پھلکے انداز میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے ، اپنے خطاب میں چارلس نے ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن زبان بول رہے ہوتے ۔چارلس نے کہاحال ہی میں جناب صدرآپ نے کہا کہ اگر امریکا نہ ہوتا تو یورپی ممالک جرمن بول رہے ہوتے ۔ کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم نہ ہوتے تو آپ فرانسیسی بول رہے ہوتے ،جنوری میں ڈاووس سمٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی مدد نہ ہوتی تو آپ جرمن اور تھوڑا جاپانی بول رہے ہوتے ۔لیکن بادشاہ کے یہ ہلکے پھلکے مذاق اس گرمجوشی کو ظاہر کرتے تھے جس میں وہ اور ٹرمپ لندن اور واشنگٹن کے خاص تعلقات پر بات کر رہے تھے ، باوجود اس کے کہ ایران جنگ کے حوالے سے تناؤ موجود تھا۔اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ میں چارلس کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کانگریس میں ایک شاندار تقریر کی۔ ڈیموکریٹس کو کھڑا کیا ، میں یہ کبھی نہیں کر سکا۔چارلس نے صدر کو برطانوی سب میرین کی گھنٹی پیش کی، جسے 1944 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران لانچ کیا گیا تھا۔بادشاہ نے کہا یہ ہماری قوموں کی مشترکہ تاریخ اور روشن مستقبل کی گواہی کے طور پر ہے ۔
برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے :چارلس



