واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ پہلی بار کانگریس کی امریکی ہائوس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔کمیٹی اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دفاعی بجٹ کو 1.5 کھرب ڈالر تک بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا، اس موقع پر امریکی وزیر جنگ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کمیٹی کے سامنے موقف پیش کیا۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ان کے مطابق یہ تنازع امریکا کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور حکومت ملک کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکی عوام کو اپنی افواج پر فخر ہے اور صدر ٹرمپ وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے موثر فیصلے کیے۔جنرل ڈین کین نے ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری پر بریفنگ دی اور کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے منظم اور پیشہ ور فوج ہے، ان کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی میں اپنے اہداف حاصل کیے ہیں اور ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔جنرل ڈین کین نے مزید کہاکہ مجوزہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ مستقبل کی سیکیورٹی کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری ہے، کیونکہ جدید جنگوں میں ٹیکنالوجی کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسی کے مطابق دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ضروری ہے۔
ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،امریکی وزیرجنگ



