تہران (نیشنل ٹائمز) امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کو دو ماہ گزرنے کے بعد ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں ایک غیر معمولی اور تاریخی تبدیلی سامنے آئی ہے، جس نے نہ صرف اندرونی طاقت کے توازن کو بدل دیا ہے بلکہ واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ مذاکرات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 1979 کے انقلاب کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایران کے نظام کے اوپر کوئی ایک غیر متنازعہ مذہبی رہنما موجود نہیں۔ جنگ کے پہلے ہی دن آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور ان کے زخمی بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو آگے لانے کے بعد اقتدار کا توازن واضح طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔



