بیجنگ (شِنہوا) چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران چین کے تھوک اور پرچون شعبوں نے مستحکم ترقی ریکارڈ کی ہے جس سے مضبوط ملکی منڈی کی تعمیر میں مدد ملی ہے۔
وزارت کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران چین کے تھوک اور پرچون شعبے کی مجموعی اضافی قدر گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.1 فیصد اضافے کے ساتھ 35 کھرب یوآن (تقریباً 510.4 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 10.5 فیصد ہے۔
تھوک کے شعبے میں وزارت کی نگرانی میں آنے والی اہم اشیاء کی منڈیوں کے لین دین کا حجم پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.6 فیصد بڑھا۔ ان میں پیداواری مواد کی منڈیوں میں 16.1 فیصد اور صنعتی اشیائے صرف کی منڈیوں میں 10.7 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت کے مطابق پرچون کے شعبے میں اشیاء کی فروخت پہلی سہ ماہی میں 113 کھرب یوآن تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.2 فیصد زیادہ ہے۔
دیہی علاقوں میں آن لائن پرچون کی تیز رفتار ترقی بھی جاری رہی۔ پہلی سہ ماہی میں دیہی علاقوں میں آن لائن پرچون فروخت گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد بڑھی جبکہ زرعی مصنوعات کی آن لائن فروخت میں 14.7 فیصد اضافہ ہوا۔
اشیائے صرف کے تبادلے کی سکیم بھی مزید مقبول ہو رہی ہے۔ اسمارٹ عینکیں، جنہیں اس سال پہلی بار سبسڈی کے لئے اہل قرار دیا گیا، ایک نئے نمایاں پہلو کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے بڑی کمپنیوں کے سمارٹ چشموں کی فروخت میں پہلی سہ ماہی کے دوران تعداد کے لحاظ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 42.4 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 46.8 فیصد اضافہ ہوا۔
چین کے تھوک اور پرچون شعبوں میں پہلی سہ ماہی کے دوران مستحکم اضافہ ریکارڈ



