بیجنگ (شِنہوا) چین نے یورپی یونین (ای یو) کی جانب سے روس کے خلاف پابندیوں کے 20 ویں پیکیج میں چینی کمپنیوں کو شامل کرنے کے اقدام پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی بھرپور مخالفت کی ہے۔
چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ چین نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے اور یورپی یونین کی جانب سے چینی کمپنیوں اور افراد پر نام نہاد “طویل بازو دائرہ اختیار” کو بھی مسترد کرتا ہے۔
ترجمان نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کا یہ اقدام چین اور یورپی یونین کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کی روح کے منافی ہے اور اس نے باہمی اعتماد اور چین و یورپی یونین کے درمیان مجموعی تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین یورپی یونین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر چینی کمپنیوں اور افراد کو پابندیوں کی فہرست سے خارج کرے، رہنماؤں کے اتفاق رائے کی روح کا احترام کرے اور باہمی خدشات کو مکالمے اور مشاورت کے ذریعے حل کرے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین اپنی کمپنیوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کرے گا اور اس کے تمام نتائج کی ذمہ داری یورپی یونین پر عائد ہوگی۔
روس پر یورپی یونین کی پابندیوں میں چینی کمپنیوں کی شمولیت، چین کا سخت ردعمل



