ہانگ کانگ (شِنہوا) عالمی یوم کتاب و حق تصنیف کے موقع پر ہانگ کانگ میں روزمرہ کی مصروف زندگی کے باوجود بہت سے لوگ تیز قدموں سے چلنے کے بجائے رک کر عجائب گھروں، پارکوں، کتب خانوں اور سٹیڈیمز میں غیر رسمی مطالعہ کرنے لگے۔
ہانگ کانگ خصوصی انتظامی خطے کی حکومت کی جانب سے مطالعے کے فروغ کے لئے “آدھا گھنٹہ مل کر پڑھیں” کے عنوان سے 200 سے زائد سٹال قائم کئے گئے۔
70 برس سے زائد عمر کی چھو نامی خاتون نے ہانگ کانگ میوزیم آف لٹریچر میں نثری مجموعہ پڑھتے ہوئے کہا کہ “میں صفحات کے درمیان سکون اور لطف تلاش کرتی ہوں۔”
ہانگ کانگ بھر کے 20 سے زائد پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کے طلبہ نے کلاس رومز اور آڈیٹوریمز میں کتابیں پڑھیں جبکہ بعض سکولوں نے کتاب میلے اور مصنفین سے ملاقات کے پروگرام بھی منعقد کئے۔
کتابوں کی دکانوں نے بھی مطالعے کے شوق کو نمایاں کرنے کی کوشش کی جو شہر کی ثقافتی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ جوائنٹ پبلشنگ (ہانگ کانگ) نے وان چھائی میں اپنی دکان پر کتابی پوسٹرز کی نمائش منعقد کی جبکہ کمرشل پریس (ہانگ کانگ) لمیٹڈ نے متعدد کتاب دوست افراد سے ان کی پسندیدہ کتابوں کے بارے میں ویڈیو میں رائے لی۔
ہانگ کانگ پیلس میوزیم کے ڈائریکٹر لوئس نگ چھی وا نے قدیم مصری ثقافت پر ایک کتاب کی سفارش کی جو میوزیم میں جاری اسی موضوع کی نمائش کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
کتاب کے عالمی دن پر ہانگ کانگ میں یکسوئی کے ساتھ مطالعے کا فروغ



