چین میں زیرتعلیم پاکستانی طالب علم کو خوشی اور تحفظ کا ایک مستقل احساس

ہوہوت (شِنہوا) پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم ہارون محمد کے لئے چین کے شمالی اندرونی منگولیا خود مختار علاقے کے شہر ہوہوت میں اپنی 3 سالہ تعلیم کے دوران سب سے گہرا اور حقیقی احساس، تحفظ کا وہ احساس تھا جو ان کی روزمرہ زندگی میں رچ بس گیا ہے۔ ایک اجنبی ملک میں آمد کے وقت کی ابتدائی احتیاط سے لے کر اب کی بے فکر اور پرسکون زندگی تک ہارون نے اپنے تجربات کے ذریعے ایک چینی طرز کے محفوظ شہر کی گرمجوشی اور طاقت کا مشاہدہ کیا ہے۔ہارون 2023 میں اندرونی منگولیا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں تعلیم حاصل کرنے آئے۔ جب وہ پہلی بار ہوہوت پہنچے تو وہ اس انجانے چینی شہر کے بارے میں اجنبیت محسوس کرتے تھے اور ہمیشہ ڈرے سہمے رہتے تھے۔ لیکن محض چند ماہ میں ہوہوت کے انتہائی پرامن ماحول اور وہاں کے لوگوں کے سادہ مزاج نے ان کے پرانے تصورات کو پاش پاش کر دیا اور ان کا طرز زندگی مکمل طور پر بدل دیا۔ہارون کہتے ہیں کہ “میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی شہر دن کے 24 گھنٹے ذہنی سکون فراہم کر سکتا ہے۔ اب میں مکمل طور پر ریلیکس ہو چکا ہوں اور یہاں کی زندگی کی رفتار میں پوری طرح ڈھل گیا ہوں۔”
وہ دن بھر کی کلاسوں کے بعد اکثر کیمپس کے آس پاس کی سڑکوں پر اکیلے ٹہلتے ہیں اور شہر کے رات کے نظاروں سے لطفف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے “ہفتہ وار چھٹیوں پر میں اکیلا بس میں بیٹھ کر شہر کی گلیوں اور کوچوں کی سیر کرتا ہوں، پارکوں، کاروباری مراکز اور پرانی سڑکوں پر جاتا ہوں اور اندرونی منگولیا کی مخصوص سوغاتیں، جیسے دودھ والی چائے اور ہاتھ سے کھایا جانے والا گوشت چکھتا ہوں۔ یہاں تک کہ اگر میں لائبریری میں رات گئے اس کے بند ہونے تک پڑھتا رہوں، تب بھی خالی فٹ پاتھ پر اکیلے چلتے ہوئے میں خود کو محفوظ محسوس کرتا ہوں اور مجھے کوئی فکر نہیں ہوتی۔”جس تجربے نے ہارون کو مکمل طور پر بے فکر کر دیا، وہ ان کا ایک ذاتی اور دل چھو لینے والا واقعہ تھا۔ پچھلی سردیوں میں شدید برف باری کے بعد شہر کی رات سرد اور خاموش تھی۔ ہارون ویڈیو کال کے ذریعے اپنے آن لائن دوستوں کو کیمپس میں برف باری کا منظر دکھا رہے تھے۔ چلتے اور باتیں کرتے ہوئے وہ غلطی سے اپنا بیگ سڑک کے کنارے ایک بنچ پر بھول گئے جس میں ان کا لیپ ٹاپ، پاسپورٹ، نقدی اور پڑھائی کا تمام مواد موجود تھا۔
جب وہ ہاسٹل پہنچے تو انہیں احساس ہوا کہ بیگ غائب ہے۔ رات کے 10 بج چکے تھے اور سڑک پر لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ محض ایک کوشش کے طور پر جلدی سے اسی راستے پر واپس گئے تاکہ اسے تلاش کر سکیں۔ ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ ان کا گہرے نیلے رنگ کا بیگ بنچ پر اپنی اصل جگہ پر بالکل صحیح سلامت موجودتھا۔
ہارون نے بتایا کہ “اکثر ممالک میں اگر رات گئے قیمتی سامان گم ہو جائے تو اسے مکمل طور پر واپس پانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ لیکن یہاں کا تحفظ بہت اطمینان بخش ہے۔”
روزمرہ کی زندگی کے دوران ہارون نے بتدریج دریافت کیا کہ تحفظ کا احساس شہر کے ہر چھوٹے کونے میں چھپا ہوا ہے۔ شہر کی بڑی اور چھوٹی سڑکوں، سکولوں کے گرد و نواح اور گلی کوچوں میں باقاعدہ گشت کرنے والے پولیس اہلکار ہر جگہ دیکھے جا سکتے ہیں جو 24 گھنٹے شہر کے امن کی حفاظت کرتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں بھی تجارتی مراکز اور کھانے پینے کی گلیاں پررونق مگر پرامن ہوتی ہیں جہاں شہری بلا خوف و خطر سکون سے وقت گزارتے ہیں۔
ہارون نے بتایا کہ کمیونٹی پولیس افسران اور گرڈ ورکرز باقاعدگی سے کیمپس میں آتے ہیں تاکہ غیر ملکی طلبہ کو حفاظتی لیکچرز دیں اور پالیسیوں سے آگاہ کریں، وہ ویزا پروسیسنگ، سفری حفاظت اور رہائش کی رجسٹریشن جیسے مختلف سوالات کے تحمل سے جواب دیتے ہیں۔ ان باریک بین اور آسان خدمات نے دور دراز سے آنے والے بین الاقوامی طلبہ کی تشویش کم کر دی ہے اور ان کے سکون قلب میں اضافہ کیا ہے۔
اب ہوہوت ہارون کا دوسرا گھر بن چکا ہے۔ وہ ہر روز تصاویر اور مختصر ویڈیوز کے ذریعے پاکستان میں اپنے والدین اور دوستوں کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات بانٹتے ہیں۔ہارون کہتے ہیں کہ “میں اپنے آس پاس کے ہر شخص کو بتاؤں گا کہ چین محفوظ ترین ملک ہے۔ یہاں پڑھتے اور رہتے ہوئے میں مکمل تحفظ اور خوشی محسوس کرتا ہوں۔” ہارون کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ اپنی تعلیم تندہی سے مکمل کریں گے اور چین اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تبادلے کے لئے ایک نوجوان سفیر کے طور پر کام کریں گے تاکہ وہ مزید غیر ملکی دوستوں کو چین میں اپنے مشاہدات اور یہاں کی حقیقی کہانیاں سنا سکیں۔



  تازہ ترین   
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عباس عراقچی آج سے اسلام آباد، مسقط، ماسکو کا دورہ کرینگے: ایرانی میڈیا کی تصدیق
عالمی پیچیدہ سکیورٹی چینلجز کے باوجود پاکستان دنیاوی امن کیلئے کوشاں ہے: وزیراعظم
اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، جنگ بندی کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کے تمام ڈپازٹ بروقت واپس کر دیئے
خیبر: سکیورٹی فورسز کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 22 خوارج جہنم واصل
اسرائیل لبنان جنگ بندی میں 3 ہفتے کی توسیع، ایران سے دیرپا معاہدہ چاہتے ہیں: ٹرمپ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر