تہران (شِنہوا) ایران نے امریکہ کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہ کرنے کے اپنے فیصلے کو “حتمی” قرار دیا ہے۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے تاکہ مذاکرات کے لئے مزید وقت دیا جا سکے۔
تسنیم کے مطابق پاکستانی ثالث کو ایران کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ ایرانی عوام کے حقوق کے مکمل تحفظ کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی میڈیا اور حکام کی جانب سے پھیلائی گئی خبروں اور افواہوں کے باوجود ایران کی مذاکراتی ٹیم بدھ کے روز مذاکرات کے لئے پاکستان کا سفر نہیں کرے گی اور اس کی مختلف وجوہات پہلے ہی پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی گئی ہیں۔
تسنیم نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے اور حالیہ تبادلوں میں “غیر معمولی مطالبات” کر رہا ہے، جن کے باعث نمایاں پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی بحری دباؤ، جس میں ناکہ بندی اور دیگر “مخاصمانہ اقدامات” شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ وعدوں کی خلاف ورزیوں نے بھی ایران کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے اگلے دور میں شرکت سے روک رکھا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف ایک منصوبہ بند حملہ موخر کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ تہران کو ممکنہ مذاکرات سے قبل ایک “متفقہ تجویز” پیش کرنے کا وقت دیا جا سکے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کے سٹریٹجک امور کے مشیر مہدی محمدی نے ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد کہا کہ جنگ بندی میں توسیع ایک “چال” ہے تاکہ اچانک حملے کے لئے وقت حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سمندر میں امریکی دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان اس ہفتے پاکستان میں امن مذاکرات کے دوسرے دور کی توقع تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا تاہم یہ مذاکرات ناکام رہے تھے۔
امن مذاکرات کو خارج از امکان قرار دینے کا فیصلہ حتمی ہے، ایران



