بانس دستکاری کی عالمی مقبولیت سے یونان میں چین-ویتنام تجارت کے نئے روابط قائم

کونمنگ (شِنہوا) جب بہار وومینگ پہاڑوں کو سبزے سے رنگ دیتی ہے چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے شہر ژاؤتونگ کی داگوان کاؤنٹی میں چھیونگ ژو بانس کے جنگلات پھیل جاتے ہیں۔ بانس کے کاشتکار باغات میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، کوئی بانس کی کونپلیں کاٹ رہا ہے تو کوئی صحن میں بانس کو دھواں دے کر خشک کر رہا ہے۔
سینکڑوں کلومیٹر دور چین-ویتنام سرحد پر واقع ہیکو بندرگاہ پر حال ہی میں خوبصورت انداز میں پیک کی گئی مراقبے کی چھیونگ ژو کرسیوں کی ایک کھیپ کسٹمز کلیئرنس کے بعد ہنوئی میں صارفین کے لئے روانہ کی گئی۔ پہاڑوں کا یہ منفرد بانس سرحدیں عبور کرتے ہوئے چین، ویتنام اور آسیان خطے کے درمیان ماحول دوست معیشت اور تجارت کا ایک نیا ربط بن رہا ہے۔
اسی سال فروری میں داگوان کاؤنٹی سے مراقبے کی چھیونگ ژو کرسیوں کی پہلی کھیپ ہیکو بندرگاہ کے ذریعے ویتنام برآمد کی گئی۔ اپنی نفیس کاریگری کی بدولت یہ مصنوعات مقامی مارکیٹ میں جلد ہی مقبول ہو گئیں۔ پہلی آرڈر کے بعد سے داگوان کی چھیونگ ژو مصنوعات، جن میں مراقبے کی کرسیاں اور چھڑیاں شامل ہیں، کی ویتنام میں طلب بڑھ رہی ہے اور ان کے آرڈرز کا سلسلہ جاری ہے۔
یون نان شی ژی بانس کلچر ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے چیئرمین او شیان چھن نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ معیار کی بانس کی مصنوعات سرحدوں سے آگے جا سکتی ہیں اور بیرون ملک دوستوں کو چینی بانس ثقافت کی دلکشی محسوس کرا سکتی ہیں۔ گزشتہ سال فنون و دستکاری کے متعلق آسیان تبادلہ اجلاس میں کمپنی کے چھیونگ ژو نمونوں نے ویتنامی تاجروں کی فوری توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد کئی مراحل کی بات چیت کے بعد ہنوئی کی ایک تجارتی کمپنی کے ساتھ تعاون طے پایا۔
چھیونگ ژو بانس کی ایک ایسی قسم ہے جو چین کے لئے منفرد ہے۔ داگوان کاؤنٹی کے مخصوص موسمی اور جغرافیائی حالات اسے اس کی پیداوار کا مرکزی علاقہ بناتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اس کاؤنٹی میں چھیونگ ژو کی کاشت کا رقبہ 68 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا جبکہ اس کے مکمل صنعتی سلسلے میں کاشت، پروسیسنگ اور فروخت شامل ہیں۔ اسی سال بانس کی صنعت کی مجموعی پیداوار کی مالیت 3.1 ارب یوآن سے تجاوز کر گئی۔
داگوان میں چھیونگ ژو زرعی و سیاحتی انضمام کے صنعتی پارک میں مشینوں کی آوازیں گونجتی ہیں جبکہ مزدور بانس کو کاٹنے اور تراشنے میں مصروف ہیں۔ پالش کے بعد مراقبے کی خوبصورت کرسیاں، چھڑیاں اور آرائشی اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔
داگوان کاؤنٹی کے بانس انڈسٹری ڈیویلپمنٹ سنٹر کے نائب ڈائریکٹر ژونگ تینگ جون نے کہا کہ ہماری بانس کی مصنوعات قدرتی خام مال سے تیار کی جاتی ہیں جو ماحول دوست اور پائیدار ہیں۔ روایتی چینی نقش و نگار کی تکنیک کے امتزاج نے بہت سے غیر ملکی خریداروں کو متوجہ کیا ہے۔”پلاسٹک کے متبادل کے طور پر بانس” کی حکمت عملی کے تحت یہ پارک صنعتی کڑی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور ماحولیاتی فوائد کو معاشی فوائد میں بدلنے کی رفتار تیز کر رہا ہے۔
چھیونگ ژو صنعت کی برآمدات نے مقامی کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچایا ہے۔ ایک کاشتکار شئی کائی چھینگ نے کہا کہ پہلے بانس کی کاشت سے محدود آمدنی ہوتی تھی لیکن اب بیرون ملک فروخت سے ہمیں مارکیٹ کے مزید مواقع ملے ہیں۔ اب زیادہ سے زیادہ مقامی لوگ چھیونگ ژو کی کاشت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور آمدنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
او شیان چھن کے مطابق کمپنی ہیکو میں تقسیم کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ویتنام کے ساتھ تجارتی روابط مزید ہموار ہوں اور مارکیٹ کو وسعت دی جا سکے۔ کمپنی بیرونی طلب کے مطابق مصنوعات کے ڈیزائن اور کاریگری کو مزید بہتر بنائے گی تاکہ یون نان کی چھیونگ ژو مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکے۔
داگوان کی نمایاں صنعت کے طور پر چھیونگ ژو مصنوعات کی بڑے پیمانے پر ویتنام برآمد نے اس صنعت کو “صرف مقامی فروخت” سے “مقامی و بین الاقوامی روابط” میں تبدیل کر دیا ہے جو یون نان کی ماحولیاتی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ژونگ تینگ جون نے کہا کہ کاؤنٹی اس برآمد کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرے گی، مصنوعات کے ڈیزائن کو بہتر بنائے گی اور فروخت کے ذرائع کو وسعت دے گی، تاکہ وو مینگ کی چھیونگ ژو مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں اور چینی بانس ثقافت سرحد پار تبادلوں میں مزید نمایاں ہو سکے۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں امریکا–ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ
وزیراعظم سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی ملاقات، امن کوششوں پر تبادلہ خیال
پاکستان کا مذاکرات کا دوسرا دور یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دیں گے: عطاء اللہ تارڑ
ٹرمپ کی جنگ بندی میں توسیع کی کوئی اہمیت نہیں: سپیکر ایرانی پارلیمنٹ
وزیراعظم کا جنگ بندی توسیع کی درخواست قبول کرنے پر ٹرمپ سے اظہار تشکر
جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر