تہران (شِنہوا) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کے خلاف کوئی بھی خطرہ عالمی تجاررت کے لئے بڑے پیمانے پر نتائج کا حامل ہوگا۔
ان کے دفتر کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے یہ بات اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی۔ یہ گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حالیہ دھمکی کے تناظر میں ہوئی جس میں انہوں نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں کو روکنے کے لئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا ذکر کیا تھا۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ اس سٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے تسلسل کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس خطے کی سلامتی کے خلاف کوئی بھی خطرہ عالمی تجارت کے لئے دور رس نتائج کا سبب بنے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے فریم ورک کے اندر کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کے حوالے سے پزشکیان نے ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لئے ایران کی سنجیدگی اور خیر سگالی کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان بعض معاملات پر اتفاق کے باوجود امریکی حکام کے ” ضرورت سے زیادہ مطالبات اور سیاسی عزم کی کمی” نے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں رکاوٹ ڈالی۔
پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران صرف بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر اور ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کی خاطر امن مذاکرات جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے اور امریکہ کو ان فریم ورکس کی تعمیل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کو کسی بھی قسم کا خطرہ عالمی تجارت کو نقصان پہنچائے گا، ایرانی صدر کا انتباہ



