واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ہفتہ کے روز ایرانی حکام سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، یہ ایرانی قیادت کی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ایران کے کچھ رہنما خاموشی سے چاہتے تھے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں وینس مرکزی کردار ادا کریں۔ایک علاقائی عہدیدار اور مذاکرات سے باخبر چار افراد کے مطابق ایران وینس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے میں نسبتاً جنگ مخالف شخصیات میں سے ایک سمجھتا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وینس کی یہ ساکھ ، جو ان کی سیاسی شناخت کا مستقل حصہ رہی ہے تہران کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں وہی ایسے شخص ہیں جو نیک نیتی کے ساتھ کسی معاہدے کی کوشش کر سکتے ہیں۔حساس سفارتی معاملات کے باعث ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ وینس کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ صرف صدر ٹرمپ کا تھا، اور حتمی طور پر وہی طے کریں گے کہ کون سا معاہدہ قابلِ قبول ہوگا۔مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ دونوں کے لیے انتہائی اہم ہیں ، کیونکہ واشنگٹن ایک غیر مقبول جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے ، جبکہ امریکا میں نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات میں صرف سات ماہ باقی ہیں۔
مذاکرات کیلئے جے ڈی وینس کو ایران کی خواہش پر بھیجا گیا



