سولہ جنوری 1979 میں جب شاہ نے ایران سے فرار حاصل کیا اس وقت وہ جان لیوا بیماری لیمفوما کینسر میں مبتلا تھا۔ اس بیماری کا انکشاف دو سال قبل ہوا تھا لیکن اسے خفیہ رکھا گیا۔ شاہ کا علاج فرانس کے ماہر ڈاکٹرز کرتے رہے۔ سولہ جنوری کی صبح رضا شاہ پہلوی کا جہاز امریکا جانے کے لیے تیار کیا گیا۔ اس نے اپنے وزراء اور شاہی محل کے عملے سے الوداعی مصافحے کیے۔ اسی دوران اس کو امریکی سفارتخانے سے پیغام پہنچایا گیا کہ فی الحال امریکا میں آپ کے شایانِ شان بندوبست ممکن نہیں ہو پایا لہذا آپ کچھ دنوں کے لیے مصر تشریف لے جائیں۔ دراصل جمی کارٹر نہیں چاہتے تھے کہ شاہ فرار ہو کر سیدھا امریکا آ جائے۔
قاہرہ میں مصری صدر انور سادات جو امریکا کے اتحادی اور شاہ کے دوست بھی تھے انہوں نے خود استقبال کیا۔ائیرپورٹ پر گارڈ آف آنر دیا گیا۔ اکیس گولیوں کی سلامی دی گئی۔ اور انور سادات نے چند روز شاہ کی خوب مہمان نوازی کی۔ لیکن رضا شاہ پہلوی جلد از جلد امریکا جانا چاہتا تھا۔ اس کو اب اپنے علاج کی فکر تھی جو سب سے بہترین امریکا میں ممکن تھا۔ شاہ بظاہر صحتمند دکھائی دیتا تھا مگر کینسر اسے دن بہ دن مار رہا تھا۔ امریکا میں جمی کارٹر شاہ کو لے کر کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ تہران میں خمینی صاحب اُتر چکے تھے۔ انقلاب آیا چاہتا تھا۔
چند روز گزرے تھے کہ قاہرہ میں شیعہ آبادی نے حکومت مخالف احتجاج شروع کر دیے۔ ان کے اندر شاہ کا مصر میں ہونا غصہ بڑھا رہا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا شاہ کو مصر سے نکال کر واپس ایران بھیجا جائے تاکہ وہ اپنے جرائم کا سامنا کر سکے۔ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انور سادات نے شاہ کی مہمان نوازی سے معذرت طلب کر لی۔یہ صورتحال خود شاہ کے ساتھ انور سادات کے لیے بھی پریشان کُن تھی۔ ایک بار پھر رضا شاہ نے قاہرہ میں موجود امریکی سفیر سے رابطہ کیا۔ دوسری جانب نری خاموشی تھی۔
بلآخر مراکو کے بادشاہ حسن دوم نے اپنے دیرینہ تعلقات کے سبب رضا شاہ کو اپنے ہاں دعوت دے دی۔ حسن دوم کا شاہی خاندان ایرانی شاہی خاندان سے خوشگوار تعلقات رکھتا تھا۔ رضا شاہ کو مراکو جانا پڑا جہاں اس کے شایان شان بندوبست موجود تھا۔ حسن دوم نے شاہی محل میں اسے مہمان ٹھہرایا تھا۔ تہران میں صورتحال دن بہ دن بگڑ رہی تھی۔ ایک دن مشتعل ہجوم نے تہران میں واقع امریکی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا۔ شاہ کی رخصتی کے ساتھ ہی امریکا اپنا زیادہ تر سفارتی عملہ تہران سے نکال چکا تھا اور صرف ضروری عملہ وہاں موجود تھا۔ تہران میں واقع امریکی سفارتخانہ مڈل ایسٹ میں سب سے بڑا سفارتخانہ تھا۔ مشتعل مظاہرین نے حملہ کر لے 66 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا۔ تہران میں امریکی سفارتخانے پر حملے کے بعد مراکش میں قائم امریکی قونصل خانے کے سامنے بھی چند مظاہرین جمع ہوئے لیکن فورسز نے ان کو منتشر کر دیا۔ البتہ یہ صورتحال حسن دوم کے لیے تشویشناک تھی۔ رضا شاہ کا مراکو میں مزید قیام صورتحال کو بگاڑ سکتا تھا۔ لیکن امریکا تاحال اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔
بلآخر برطانیہ نے اپنے زیر انتظام باہاماس کے جزیرے پر اس کے قیام کا بندوبست کیا۔ باہاماس پہنچ کر رضا شاہ غصہ میں بھرا تھا۔ اس کے قیام واسطے جو رہائش گاہ منتخب کی گئی تھی وہ اس کے شایانِ شان نہیں تھی۔ مگر کیا ہو سکتا تھا۔ اُدھر تہران میں امریکی سفارتی عملے کو یرغمال بنانے کے بعد ایران امریکا تعلقات سنگین حد تک پہنچ چکے تھے۔ امریکا نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس کے تمام اثاثے منجمد کر دیے۔ سنہ 1979 میں منجمد شدہ اثاثے دس بلین ڈالرز (آج کے پچاس بلین ڈالرز کے مساوی) تھے۔ خمینی صاحب نے اس کے جواب میں سخت تقریر کر ڈالی۔ ایران نے امریکی سفارتی عملے کی رہائی کے بدلے تین مطالبات پیش کر دیے
۔تمام اثاثے ڈی فریز کر کے ایران کو واپس کیے جائیں
۔رضا شاہ پہلوی کو ایران کے حوالے کیا جائے
۔ امریکا ایران میں مداخلت قبول کرے اور ان حرکات پر عام معافی مانگے
یہ صورتحال برطانیہ کے تشویش کا باعث بن رہی تھی کیونکہ شاہ باہاماس میں قیام پذیر تھا۔ برطانیہ نے شاہ کو باہاماس چھوڑنے کا کہہ دیا۔ امریکا چونکہ اب ایک نئی پریشانی میں مبتلا ہو گیا تھا اس واسطے شاہ کی اہمیت بن گئی تھی۔ وہ اسے امریکا نہیں لانا چاہتے تھے لیکن اسے بے یار و مددگار چھوڑنا بھی اب امریکی مفاد میں نہیں رہا تھا۔ کل کو شاید اپنا سفارتی عملہ بچانے کے لیے شاہ کو ایران کے حوالے کرنا پڑ سکتا تھا۔ امریکا نے میکسیکو کی حکومت کو شاہ کی مہمان نوازی کرنے کا کہا۔ شاہ کو میکسیکو جانا پڑ گیا۔ لیکن اسے اصل فکر اپنے علاج کی تھی جو نہیں ہو پا رہا تھا۔
میکسیکو میں شاہ کا قیام چند ماہ رہا۔ وہاں لیمفوما کے علاج کی سہولیات ناکافی تھیں۔ البتہ جتنی بھی تھیں اس کا علاج شروع ہوا۔ اسی دوران سابقہ امریکی صدر رچرڈ نکسن نے میکسیکو کا دورہ کیا اور رضا شاہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں نکسن نے کہا امریکا کو اپنے دوست تنہا نہیں چھوڑنے چاہئیے اگر ہم ایسا کریں گے تو کل کو ہمارے ساتھ دوستی کون نبھاہے گا ؟۔ نکسن کا یہ بیان بظاہر امریکی صدر جمی کارٹر کے خلاف تھا لیکن درحقیقت امریکی انتظامیہ اس وقت تک شاہ کی میڈیکل کنڈیشن سے آشنا ہو چکی تھی اور یہ جان چکی تھی کہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پائے گا۔ بلآخر 22 اکتوبر سنہ 1979 کو یعنی ایران سے رخصتی کے نو ماہ بعد رضا شاہ کو امریکا داخلے کی اجازت مل گئی۔ اس کی رہائش گاہ کیلیفورنیا میں ایک عالی شان مینشن قرار پائی۔ امریکا میں اس کا علاج شروع ہوا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ طبیعت بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ آخر کار رضا شاہ نے امریکا کی “مہمان نوازی” سے دلبرداشتہ ہو کر قاہرہ جانے کا فیصلہ کیا۔ 24 مارچ 1980 کو اسے ائیر ایمبولینس سے قاہرہ لایا گیا۔ چار ماہ بعد جولائی 1980 میں شاہ کا قاہرہ میں انتقال ہو گیا۔
اقتدار ہمیشہ دائمی نہیں ہوتا اور طاقت ہمیشہ تحفظ نہیں دیتی۔نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا “حکمرانوں کو تخت پر ہی مرنا چاہیے، کیونکہ تخت سے اتر کر زمین بھی انہیں قبول نہیں کرتی۔”۔ شاہ کی زندگی اس قول کی جیتی جاگتی تصویر بن گئی۔



