تیانجن (شِنہوا) چین میں چھنگ منگ تہوار یا قبروں کی صفائی کے دن کے موقع پر تیانجن یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علم محمد شعیب نے مقامی پارک کا دورہ کیا تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ چینی خاندان اپنے آباؤ اجداد کو کیسے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے خاموشی سے اپنے پیاروں کو بھی یاد کیا۔35 سالہ شعیب نے کہا کہ ایک متاثر کن تجربہ پورے خاندانوں کو بڑی عقیدت اور خلوص کے ساتھ مل کر قبروں کی صفائی کرتے ہوئے دیکھنا تھا۔ سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ ہے کہ چینی لوگ نسل در نسل بزرگوں کی خدمت اور یادوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آباؤ اجداد کی تعظیم کرنا انہیں اپنے دلوں اور روایات میں زندہ رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔چھنگ منگ، جو اس سال 5 اپریل کو منایا گیا، ایک روایتی تہوار ہے جس کی تاریخ 2500 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ پورے چین میں اسے قبروں کی صفائی اور خاندانی یادوں کے طور پر منایا جاتا ہے۔تیانجن فارن سٹڈیز یونیورسٹی کے پروفیسر ہونگ چھانگ نے اس بات پر زور دیا کہ قبروں کی صفائی چھنگ منگ کی ایک بنیادی سرگرمی رہی ہے۔ یہ عمل چینی فلسفے کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد رخصت ہو جانے والوں کی تعظیم کرنا اور اپنی زندگی پر غور و فکر کرنا ہے۔ آباؤ اجداد کو گہرے احترام کے ساتھ یاد کرنا خاندان کے مضبوط بندھنوں کو ظاہر کرتا ہے اور انسان کو زندگی کے اصل جوہر اور معنی کو سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔شعیب نے بتایا کہ پاکستان میں بھی وفات پا جانے والوں کو یاد کرنے کی روایات موجود ہیں۔ زیادہ تر لوگ 10 محرم، عید الفطر یا عید الاضحیٰ پر اور سال بھر قبرستان جاتے ہیں کیونکہ اسلام موت کو یاد رکھنے اور مرحومین کی خاطر دعا کرنے کے لئے اکثر قبروں کی زیارت کی ترغیب دیتا ہے۔تیانجن یونیورسٹی کے ایک اور پاکستانی طالب علم 26 سالہ رمضان اللہ نے دونوں ثقافتوں کے درمیان مماثلت بیان کی۔ دونوں ثقافتوں کے درمیان مماثلت یہ ہے کہ دونوں ہی فوت شدہ خاندانی ارکان کے لئے محبت، احترام اور مسلسل یاد کا اظہار کرتی ہیں۔ دونوں معاشروں میں لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پیاروں کے ساتھ جذباتی رشتے موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ یہ روایات نئی نسل کو اپنی جڑوں کو یاد رکھنے اور اپنی خاندانی تاریخ کے ساتھ تعلق برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔تیانجن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر وانگ یی کا ماننا ہے کہ اگرچہ زبانیں اور رسم و رواج مختلف ہو سکتے ہیں لیکن جب لوگ قبروں کی صفائی اور پھولوں کے نذرانے کے ذریعے سوگ کا اظہار کرتے ہیں اور یادوں کے مشترکہ جذبات میں ہم آہنگی تلاش کرتے ہیں تو لفظوں سے ماورا ایک روحانی تعلق خاموشی سے جنم لیتا ہے۔ یہ عمل مختلف ثقافتوں کو مشترکہ انسانی جذبات کے ذریعے ایک دوسرے سے ملنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس سے متنوع تہذیبوں کے لئے قدر و منزلت اور رواداری کے جذبات مزید گہرے ہوتے ہیں۔رمضان اللہ کے لئے چھنگ منگ کا سب سے زیادہ متاثر کن پہلو اس کا خلوص ہے۔ یہ محض ایک روایتی رسم نہیں ہے، بلکہ خاندان کے مرحوم ارکان کے لئے محبت، یاد اور احترام کے اظہار کا ایک بامعنی طریقہ بھی ہے، جو چیز مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ چھنگ منگ کس طرح مرنے والوں کے غم اور نئی زندگی کی امید کو یکجا کر دیتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چینی لوگ خاندانی رشتوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کا کتنا احترام کرتے ہیں۔ یہ احساس روایتی ثقافت کے گرمجوش اور طاقتور ترین اظہار میں سے ایک ہے۔چین نے یاد منانے کے ایسے طریقوں کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے جو ماحول دوست ہوں، جیسے کہ پھول پیش کرنا، درخت لگانا اور آن لائن یادگاریں بنانا۔رمضان اللہ چھنگ منگ کو ایک زندہ روایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چھنگ منگ اپنے اندر تاریخ، خاندانی یادیں اور گہری جذباتی اہمیت سموئے ہوئے ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح چینی ثقافت ماضی کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ مسلسل حال کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔قبروں کی صفائی کے علاوہ چھنگ منگ بہار کی سیر و تفریح، صنوبرکے پودے لگانے اور بیج بونے کا وقت بھی ہے۔ چینی لوک ثقافت کے ماہر ما ژیاؤ نے کہا کہ چھنگ منگ کوئی اداس تہوار نہیں ہے۔ یہ اپنے اندر آباؤ اجداد کا سوگ اور فطرت و زندگی کو گلے لگانے کی خوشی دونوں کو سموئے ہوئے ہے۔رمضان اللہ نے کئی چینی دوستوں سے ان کے چھنگ منگ کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔ ان میں سے ایک نے انہیں بتایا کہ وہ بہار کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوگا اور اس تہوار کو سوگ اور زندگی کی امنگ دونوں کے ساتھ منائے گا۔یہ تہوار بہار کی گرم ہواؤں اور نئی زندگی کی امنگ کے ساتھ آتا ہے۔ لوگ دھوپ سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور چہل قدمی کرتے ہوئے کائنات کے اس لامتناہی تجدیدی عمل کو محسوس کرتے ہیں۔ہونگ نے کہا کہ بہار کی سیر و تفریح کی یہ قدیم روایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چینی لوگ کس طرح زندگی کے تسلسل کو فطرت کی رفتار کے ساتھ مضبوطی سے جوڑتے ہیں جو زندگی کے ایک ایسے فلسفے کی عکاسی کرتا ہے جس میں ‘نئی زندگی’ یا ‘تجدید’ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔رمضان اللہ نے بھی مقامی روایات کی پیروی کرتے ہوئے اپنے چینی دوستوں کے ساتھ بہار کی سیر کی تاکہ چھنگ منگ کے ثقافتی معنی کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ فطرت کو محسوس کرتے ہوئے میں موجودہ لمحے کی قدر کروں گا اور زندگی کی خوبصورتی کو سراہوں گا۔وانگ کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے چینی ثقافت مزید پھیل رہی ہے، چین کی روح اور تشخص کے حامل مزید روایتی تہوار دنیا بھر میں دیکھے اور محسوس کئے جا رہے ہیں۔ چھنگ منگ اپنی یادوں، خاندانی بندھنوں اور فلسفہ حیات جیسے موضوعات کی وجہ سے غیر ملکیوں کے لئے بڑھتی ہوئی دلچسپی کا باعث بن رہا ہے۔وانگ نے کہا کہ چھنگ منگ میں غیر ملکیوں کی شرکت نہ صرف چین کی بڑھتی ہوئی ثقافتی طاقت کی علامت ہے بلکہ یہ مشترکہ انسانی جذبات اور تہذیبوں کے درمیان بہنے والی ثقافتی ضروریات کا ایک قدرتی نتیجہ بھی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چین کے روایتی تہوار صرف چین تک محدود نہیں ہیں۔ اپنی گہری اور نرم طاقت کے ساتھ یہ دنیا بھر کے دلوں اور ثقافتوں کو جوڑنے والے پلوں کا کام بھی دے سکتے ہیں۔رمضان اللہ نے اسی نظریے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ چھنگ منگ جیسے تہوار ثقافتی حدود سے بالاتر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی جڑیں ان جذبات اور اقدار میں پیوست ہیں جو پوری انسانیت میں مشترک ہیں۔ مختلف ممالک یاد منانے کے لئے مختلف طریقے اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اپنے پیاروں کی عزت کرنے، زندگی کا احترام کرنے اور یادوں کو محفوظ رکھنے کی خواہش عالمگیر ہے۔ یہ احساسات کسی زبان یا قومیت تک محدود نہیں ہیں۔وانگ نے مزید کہا کہ زندگی اور موت، خاندانی بندھن اور فطرت جیسے موضوعات جو چھنگ منگ میں سموئے ہوئے ہیں، پوری انسانیت کے لئے مشترک ہیں۔ جب غیر ملکی چھنگ منگ کے دوران آباؤ اجداد کی تعظیم، قبروں کی صفائی کی رسومات اور فطرت کے بارے میں نظریات کے ثقافتی مفہوم کو سمجھ لیتے ہیں تو لوگ انسانیت کے مشترکہ مقدر کو زیادہ گہرائی سے پہچان سکتے ہیں۔ اس طرح عالمی تعاون اور افہام و تفہیم کو تقویت ملتی ہے اور انسانی تقدیر کی اشتراکیت میں جڑیں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔
چین میں مقیم پاکستانیوں کی مشترکہ یادوں کے ساتھ چھنگ منگ تہوار میں شرکت



