پیرس (شِنہوا) فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے فوجی طاقت کا استعمال حقیقت پسندانہ نہیں۔
فرانسیسی نیوز چینل بی ایف ایم، ٹی وی کے مطابق جنوبی کوریا کے دورے کے موقع پر میکرون نے کہا کہ یہ کبھی بھی ہمارا منتخب کردہ راستہ نہیں رہا اور ہم اسے غیر حقیقی سمجھتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی جوہری مسئلے کا پائیدار حل فوجی کارروائی سے ممکن نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کا کوئی باقاعدہ فریم ورک نہ ہوا تو صورتحال چند ماہ یا چند سال میں دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے جواب میں میکرون نے دوبارہ کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں “ہماری کارروائی نہیں ہیں ” اور یہ فیصلے امریکہ اور اسرائیل نے یکطرفہ طور پر کئے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فرانس نے اسرائیل جانے والے ان طیاروں، جو فوجی سامان لے جا رہے تھے، کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔
انہوں نے فرانس کو “زیادہ غیر معاون” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ “اس بات کو یاد رکھے گا۔”
فرانسیسی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے فوجی کارروائی غیر حقیقی قرار دے دی



