تہران، واشنگٹن، ابوظہبی(نیشنل ٹائمز) مشرق وسطیٰ میں جنگ 35 ویں روز میں داخل ہو گئی، امریکا اسرائیل کے حملوں میں شدت آ گئی، تہران، کرج، قم، بندرعباس اور ایران کے دیگر علاقوں پر حملے کیے گئے، ایران نے امریکی تنصیبات اور اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، قیشم جزیرے پر لڑاکا طیارہ مار گرایا، ابراہم لنکن بیڑے پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔سوشل میڈیا صارفین اور ذرائع ابلاغ نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران مغربی تہران، ملارد، پارچین، کرج، مہرشہر، شہریار، بندرعباس، بہبہان، برازجان اور بوشہر میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، اسی طرح تبریز، شیراز اور قم میں بھی دھماکوں اور حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔جنگ کے آغاز سے اب تک ایران میں 2076 افراد شہید ہو چکے ہیں، 26 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوئے، ایک لاکھ 13 ہزار شہری املاک کو نقصان ہوا، 90 ہزار گھر اور 760 تعلیمی ادارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔
دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نشانہ
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملہ گزشتہ روز کمال خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کی کوشش کے جواب میں کیا گیا، تاہم دبئی انتظامیہ نے ایران کی جانب سے اوریکل کمپنی پر حملے کے دعوے کی تردید کی ہے۔یہ کارروائیاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں، اس کے بعد کہ پاسدارانے انقلاب نے اس سے قبل امریکہ کی 18 بڑی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں اور انھیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
امریکا سے جڑی تنصیبات اور شہری ڈھانچے پر حملے
ایران اور اس کے اتحادیوں کا اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ حملوں کا تبادلہ ہوا ہے جب کہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ سے جڑی تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا، بڑھتے ہوئے حملوں کا رخ اب معاشی اور صنعتی مقامات کی طرف ہو گیا ہے، جس سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی زیادہ متاثر ہو سکتی ہے اور جنگ کے اثرات میدان جنگ سے باہر بھی مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ایران نے کہا ہے کہ اس کے تازہ حملوں کی لہر میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ اس کی صنعتی تنصیبات پر پہلے ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب تھا، ایران کے مطابق ان اہداف میں ابوظہبی میں امریکی سٹیل صنعتیں، بحرین میں امریکی ایلومینیم صنعتیں، اور صہیونی حکومت کی رفائیل اسلحہ فیکٹریاں‘ شامل تھیں۔
حوثیوں کے تل ابیب میں اسرائیل کے اہم اہداف پر مزید حملے
یمن کے حوثیوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف میزائل کا چوتھا حملہ کیا گیا اور اہم مقامات نشانہ بنائے گئے اور اسرائیل کی فوج نے یمن سے میزائل حملوں کی تصدیق کی ہے۔حوثی ترجمان یحییٰ سیری نے ویڈیو بیان میں کہا کہ گروپ نے بلیسٹک میزائلوں سے اسرائیلی دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور یہ حملوں کا چوتھا مرحلہ ہے، اس سے قبل اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے یمن سے فائر کیے گئے میزائل ناکارہ بنایا ہے، اسرائیل کی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن سے اسرائیل کی حدود کی طرف فائر کیے گئے میزائلوں کو مار گرایا گیا اور مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد یمن سے فائر کیے گئے میزائلوں کا یہ چوتھا حملہ ہے۔
اردن میں امریکی بیسز پر حملے، لاجسٹک سینٹر اور جنگی طیارے نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایران نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی لاجسٹک سینٹر اور اردن میں قائم بیس میں جنگی طیارے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔عراقی سکیورٹی فورسز کے دو عہدیداروں نے بتایا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ڈرون حملہ ہوا ہے، لاجسٹک سینٹر پر دو ڈرون گرے، جس کے نتیجے میں آگ لگی لیکن کسی کے زخمی ہونے کی رپورٹ نہیں ہے جبکہ ایئرپورٹ کے قریب ہی ایک اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔رپورٹ کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کمپلیکس میں عراقی فوجی بیس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کی تنصیابات بھی قائم ہیں، ایرانی فورسز نے دعویٰ کیا کہ اردن میں کیے گئے ایک ڈرون حملے میں امریکی بیس کو نشانہ بنایا گیا جہاں جنگی طیارے نشانہ بنے۔ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس میں ایک امریکی فوجی اڈے پر امریکی لڑاکا طیاروں پر ڈرون حملہ کیا گیا، جو امریکہ کا ایک اہم فوجی مرکز ہے، ایران کی فوج کے بہادر سپاہیوں نے اردن کے الازرق بیس پر تعینات امریکا کی دہشت گرد فوج کے جدید لڑاکا طیاروں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا۔ایران کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بحرین میں ایمیزون کلاؤڈ کمپیوٹنگ مرکز پر حملہ کیا گیا۔
35 واں روز: امریکا اسرائیل کی تہران، کرج، قم، تبریز اور بندر عباس پر بمباری



