اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) بینکوں کی جانب سے صارفین کو بھیجے جانے والے ریگولیٹری اور سروس میسجز کے عوض سالانہ تقریباً 19 ارب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک ہفتے میں مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ صارفین سے فی ایس ایم ایس 3 روپے 40 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ 2021 میں یہی چارج صرف 42 پیسے تھا۔ سٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر عنایت حسین کے مطابق بینک صارفین سے سالانہ 18.7 ارب روپے وصول کرتے ہیں جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25.6 ارب روپے ادا کرتے ہیں، یوں بینکوں کو تقریباً 7 ارب روپے اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صارفین کی بڑی تعداد بینکوں کی جانب سے زیادہ چارجز وصول کرنے پر شکایات کر رہی ہے ۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود نے موقف اختیار کیا کہ صارف درحقیقت بینک اور ٹیلی کام کمپنی دونوں کے چارجز ادا کرتا ہے جبکہ موبائل کمپنیاں بینکوں سے زیادہ فیس لیتی ہیں۔ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا کہ ریگولیٹری تقاضوں کے تحت بینک صارفین کو میسجز بھیجنے کے پابند ہیں جبکہ ٹیلی کام کمپنیاں عام صارفین کے مقابلے میں بینکوں سے پانچ گنا زیادہ چارجز وصول کرتی ہیں۔کمیٹی کے رکن سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ بینک اربوں روپے منافع کما رہے ہیں، اس لیے 7 ارب روپے کی ادائیگی کوئی بڑی بات نہیں۔ اس موقع پر سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کی فی ایس ایم ایس لاگت ایک سے دو پیسے ہے جبکہ وہ بلک پیکیجز میں لاکھوں میسجز فراہم کرتی ہیں۔بینکنگ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں 88 فیصد بینکنگ ٹرانزیکشنز آن لائن ہو رہی ہیں جس سے صارفین کو سہولت ملی ہے ، تاہم ایس ایم ایس چارجز میں کمی کیلئے ٹیلی کام کمپنیوں کے نرخ کم ہونا ضروری ہیں۔حبیب بینک کے حکام نے بتایا کہ 2021 میں فی میسج چارج 40 پیسے تھا جسے بڑھا کر 2025 میں 3 روپے 40 پیسے کر دیا گیا۔ ٹیلی کام نمائندے کے مطابق ایک صارف کو روزانہ اوسطاً تین میسجز موصول ہوتے ہیں جن پر ماہانہ تقریباً 300 روپے خرچ آتا ہے ۔
خزانہ کمیٹی :بینک صارفین سے سالانہ 19ارب ایس ایم ایس چارجز وصولی،تفصیل طلب



