آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کے لیے جامع اور کمیونٹی سطح پر مربوط حکمتِ عملی پر زور

کراچی (نیشنل ٹائمز) آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے ڈیولپمنٹل پیڈیاٹریشنز، اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹس اور ماہر نفسیات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تاکہ ایک اہم مسئلے پر توجہ دی جا سکے: پاکستان میں آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے حامل بچوں کی تشخیص اکثر تاخیر سے ہوتی ہے، جبکہ خاندان اس پورے سفر میں مناسب رہنمائی اور سہولت سے محروم رہتے ہیں۔

“ری تھنکنگ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر سپورٹ” کے عنوان سے منعقدہ اس میڈیا راؤنڈ ٹیبل کا آغاز ایک ایسے سوال سے ہوا جس نے پوری گفتگو کا رخ متعین کیا۔ تھراپیز اہم ہیں لیکن کیا صرف تھراپیز کافی ہیں؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر 127 میں سے ایک بچے کو آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کی تشخیص ہوتی ہے۔ پاکستان میں قومی سطح پر نگرانی کا ڈیٹا محدود ہے تاہم خاص طور پر شہری مراکز میں کلینیکل سروسز کے ذریعے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی نشاندہی ہو رہی ہے۔

اے کے یو ایچ میں جاری ایک تحقیق، جس میں 5,445 بچوں کی اسکریننگ کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ بہت سے کیسز متوسط آمدنی والے ماحول میں بھی پائے گئےہیں جو مختلف آمدنی والے طبقات میں آگاہی اور رسائی کے خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ پروفیسر شہناز ابراہیم، پروفیسر اور سیکشن ہیڈ پیڈیاٹرک نیورولوجی، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے کہا”ہمیں درپیش سب سے بڑا چیلنج صرف دیر سے تشخیص نہیں بلکہ اس موضوع پر خاموشی ہے۔ خاندان ہمارے پاس آتے ہیں جبکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کیا ہے، کون سی معاونت دستیاب ہےاور کئی صورتوں میں انہیں صرف انتظار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ وقت بہت قیمتی ہوتا ہے اور ہم اسے ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

” پینلسٹس نے نشاندہی کی کہ آٹزم سے متعلق غلط فہمیاں اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ایک نیورو ڈیولپمنٹل کیفیت ہے، بیماری نہیں، اور یہ ویکسین، ناقص پرورش، صرف اسکرین ٹائم یا روحانی عوامل کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ دماغ کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے جو بات چیت، سماجی تعامل اور رویے سے متعلق ہوتی ہے اور اس کی علامات زندگی کے پہلے سال میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

گفتگو سے ایک اہم پیغام سامنے آیا کہ علاج کلینک سے باہر تک پھیلنی چاہیے۔ بچوں کی نشوونما کے “ایف-ورڈز” فریم ورک جو عالمی ادارہ صحت کی انٹرنیشنل کلاسیفیکیشن آف فنکشننگ پر مبنی ہے کے مطابق آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے شکار بچے کی مؤثر معاونت میں فنکشن، فٹنس، فیملی، فرینڈز، فن اور فیوچر شامل ہونے چاہئیں۔ تھراپی اس تصویر کا صرف ایک حصہ ہے۔ جامع تعلیم، ہم عمر بچوں سے روابط، خاندان کی فلاح اور کمیونٹی میں شمولیت بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ ڈاکٹر سدرا کلیم، ایسوسی ایٹ پروفیسر، سیکشن آف پیڈیاٹرک نیورولوجی، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال نے کہا”ہم چاہتے ہیں کہ والدین جانیں کہ ابتدائی اقدام نتائج بدل دیتا ہے۔

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر کے شکار بچے کی مدد صرف کلینک کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لیے خاندان، اسکول اور کمیونٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہی واحد طریقہ ہے جو حقیقی معنوں میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔” پینلسٹس نے اسکولوں، صحت کے اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ معمول کی نشوونما کی اسکریننگ کو ترجیح دیں، بڑے شہری مراکز سے باہر تربیت یافتہ ماہرین تک رسائی بڑھائیں اور ایسے ماحول پیدا کریں جہاں خاندان بغیر بدنامی یا تنقید کے خوف کے مدد حاصل کر سکیں۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر