چین اور پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لئے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کر دیا

بیجنگ (شِنہوا) چین اور پاکستان نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لئے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کر دیا۔ یہ پیش رفت بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان منگل کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران ہوئی۔چینی وزیر خارجہ، جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں اور اسحاق ڈار نے بات چیت میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔دونوں ممالک کی جانب سے پیش کئے گئے نکات میں فوری جنگ بندی سر فہرست ہے۔ دونوں ممالک نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ جنگ سے متاثرہ تمام علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے۔دوسرے نکتے میں جلد از جلد امن مذاکرات کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران اور خلیجی ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنازعات کے حل کے لئے مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد موثر راستہ ہے۔ دونوں ممالک نے متعلقہ فریقین کی جانب سے مذاکرات کے آغاز کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق پرامن حل کے لئے پرعزم رہیں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔تیسرے نکتے میں غیر فوجی اہداف کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے اصول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ چین اور پاکستان نے مطالبہ کیا کہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر بند کئے جائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اس کے علاوہ توانائی، پانی صاف کرنے کے نظام، بجلی کی تنصیبات اور پرامن جوہری ڈھانچے جیسے ایٹمی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے سے بھی باز رہا جائے۔چوتھے نکتے میں سمندری راستوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری علاقے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لئے نہایت اہم ہیں۔ دونوں ممالک نے مطالبہ کیا کہ یہاں پھنسے ہوئے جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے، تجارتی اور شہری جہازوں کی محفوظ اور جلد آمد و رفت ممکن بنائی جائے اور اس اہم سمندری گزرگاہ پر معمول کی نقل و حرکت جلد بحال کی جائے۔پانچویں نکتے میں اقوام متحدہ کے منشور کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حقیقی کثیرالجہتی نظام کو فروغ دیا جائے اور اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنایا جائے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی بنیاد پر امن کا ایک جامع فریم ورک تشکیل دے کر دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔



  تازہ ترین   
بھارت ایک سال بعد بھی معرکہ حق میں شکست تسلیم کرنے سے انکاری ہے: آئی ایس پی آر
بھارت میں گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں: دفتر خارجہ
مون سون شجرکاری کا آغاز، درختوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: صدر مملکت
پاکستان نے اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ کی صدارت سنبھال لی
میر واعظ عمر فاروق کو نظر بند کر کے مذہبی اجتماع میں شرکت سے روک دیا گیا
لاہور: داماد نے بیوی سمیت 4 سسرالی قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی
امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہوئے: فرزانے صادق
ٹرمپ کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کو سراہتے ہیں: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر