تہران (نیشنل ٹائمز)خلیج جنگ کے منفی معاشی اثرات کے باعث دنیا بھر میں زراعت بھی متاثر ہونے لگی ہے اور کھادوں کی قلت بڑھ رہی ہے جس سے خوراک مہنگی ہونے کا خطرہ ہے ۔زرعی شعبے کے ماہرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور پھر آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں خلیج فارس کے راستے بین الاقوامی سطح پر کھادوں کی ترسیل اتنی زیادہ متاثر ہوئی ہے کہ اب اس شعبے کی عالمی تجارت کم از کم 30 فیصد کم ہو چکی ہے ۔تفصیلات کے مطابق امریکا اسرائیل اور ایران کی جنگ کے اقتصادی، تجارتی اور زرعی شعبوں پر اثرات اب دنیا بھر کے کسانوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہونا شروع ہو گئے ہیں، پہلے ایران جنگ شروع ہونے اور پھر خلیج فارس میں ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے لیکن اب مختلف ممالک میں زرعی شعبے کو کھادوں کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے ۔ویت نام سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق بہت سے ترقی پذیر ممالک میں کھادوں کی کمیابی اور نئی ترسیل میں کمی نے کروڑوں کسانوں کی آمدنی اور اقتصادی بقا کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ زرعی شعبے سے منسلک انسانوں کا بین الاقوامی سطح پر یہ وہی طبقہ ہے ، جس کے ایک بڑے حصے کو خاص طور پر غریب اور ترقی پذیر ممالک میں، بڑھتے ہوئے زمینی درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا پہلے ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اب کسانوں کو کھادیں کم یا نہ ملنے کی وجہ سے زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست نتیجہ یہ نکلے گا کہ اشیائے خوراک کی قیمتیں زیادہ ہو جائیں گی اور سبھی معاشروں میں زندہ رہنے کیلئے خوراک کی اب تک کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتیں عام صارفین ہی کو ادا کرنا پڑیں گی۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاؤ کے مطابق شمالی نصف کرہ ارض کے انتہائی غریب کسان اپنے لئے کھادوں کی اس ترسیل پر انحصار کرتے ہیں، جو خلیج فارس کے علاقے سے مال بردار بحری جہازوں کے راستے لائی جاتی ہیں۔لیکن ان کسانوں کو آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے کھادوں کی ترسیل میں تعطل ایک ایسے وقت پر برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ان کیلئے نئی فصلیں بیجنے کا موسم ابھی شروع ہی ہوا ہے ۔بھارتی پنجاب میں چاول کے کاشتکار 55 سالہ بلدیو سنگھ کاکہناہے کہ کھادوں کی کمی کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ زرعی پیداوار کم رہے گی، کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کسانوں کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور یوں موجودہ سیزن کے اختتام پر عام صارفین کو اشیائے خوراک کی خریداری کیلئے اب تک کے مقابلے میں کہیں زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑیں گی۔
خلیج جنگ:زراعت بھی متاثر،کھاد کی قلت،خوراک مہنگی ہونے کا خطرہ



