راولپنڈی کی جامع مسجد جس کا سنگ بنیاد افغانستان کے بادشاہ نے رکھا

پنجاب میں تاریخی ورثے کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ویسے تو زیادہ کام لاہور یا ٹیکسلا میں ہو رہا ہے، لیکن دوسرے شہروں میں بھی کسی نہ کسی سطح پر کام کیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی میں بھی کئی تاریخی عمارات موجود ہیں جن میں جامع مسجد کی بحالی کو سب سے پہلے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس سلسلے میں پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی کے ہمراہ گذشتہ ہفتے مسجد کا دورہ کیا، جس میں جائزہ لیا گیا کہ کس طرح مسجد کی تعمیرِ نو کی جائے اور اس کے مخدوش ہوتے درودیوار کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کیا جائے۔

یہ مسجد کب بنی تھی اور راولپنڈی کی تاریخ میں اس کی کیا اہمیت ہے، یہاں ایسے کون کون سے واقعات ہوئے جن کا اثر شہر سے باہر نکل کر پورے ہندوستان تک پڑا؟

اس حوالے سے راقم کی کتاب ’راول راج‘ میں تفصیلات درج ہیں جنہیں تاریخی حوالوں سے رقم کیا گیا ہے۔

راولپنڈی کی اس تاریخی مسجد کی تعمیر 1896 میں شروع ہوئی جو 1903 میں مکمل ہوئی۔

جامع مسجد جس کا سنگ بنیاد افغانستان کے بادشاہ نے رکھا

راولپنڈی شہر ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔ یہاں اینگلو افغان جنگوں کی وجہ سے ہندوستان کی سب سے بڑی چھاؤنی قائم ہوئی تو ملک بھر سے کاروباری افراد یہاں آ کر آباد ہونے لگے جن میں پارسی اور بوہرہ برادری قابل ذکر ہیں۔

قیام پاکستان سے پہلے راولپنڈی ضلعے میں مسلمان کل آبادی کا 80 فیصد تھے، مگر شہر میں وہ اقلیت میں تھے جہاں 57 فیصد آبادی غیر مسلموں پر مشتمل تھی جن میں ہندو، سکھ اور پارسی شامل تھے۔

تقسیم کے وقت راولپنڈی شہر میں 48 مندر اور گردوارے تھے۔ مساجد تو اکا دکا تھیں مگر کوئی بڑی مسجد نہیں تھی۔

شہر کے وسط میں پرانے قلعے کے پاس نبی بخش والی مسجد اور نیاریہ محلہ میں گولیوں والی مسجد میں چند درجن لوگ ہی نماز پڑھ سکتے تھے۔

شہر کے لیے ایک جامع مسجد کی اشد ضرورت تو تھی مگر مسلمانوں کی مالی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ کوئی بڑی مسجد تعمیر کر سکتے۔

پھر یہ عالی شان مسجد کیسے تعمیر ہوئی؟ اس کا جواب ہمیں عزیز ملک کی کتاب ’راول دیس‘ میں ملتا ہے جو جنوری 1970 میں شائع ہوئی۔

اس میں وہ لکھتے ہیں ’بیسویں صدی میں مسلمانوں میں جماعتی شعور نے کروٹ لی تو انہیں ایک جامع مسجد کا خیال آیا۔

’شہر کے باہر جہاں جگہ ملی وہاں ایک بڑا گڑھا تھا جہاں برسات کا پانی تالاب کی شکل میں جمع ہو جاتا اور مچھروں کی بھرمار ہو جاتی۔ عقب میں سکھوں کا گردوارہ تھا۔

’مسجد کی تعمیر پر تنازع بھی ہوا۔ تعمیر کا بیڑہ شہر کے دو مسلمانوں میاں قطب الدین اور میاں نبی بخش نے اٹھایا۔

Rawalpindi jamia masjid

مسجد کی تعمیر پر سکھ مسلم تنازع

1896 میں جب اس جامع مسجد کے لیے جگہ کا انتخاب کیا گیا تو مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی، جس کی وجہ مسجد کے قریب ’باغ سرداراں‘ میں سکھوں کا مرکزی گردوارہ تھا۔

سکھ نہیں چاہتے تھے کہ گردوارے کے قریب مسجد بنائی جائے۔ بالآخر پیر مہر علی شاہ کی مداخلت سے سکھ مسجد کی تعمیر پر راضی ہو گئے۔

لیکن جب 1920 کے عشرے میں مسجد کے قریب سردار موہن سنگھ نے سینیما بنا ڈالا تو مسلمانوں نے عدالت میں کیس دائر کر دیا کہ اس سے مسجد کا تقدس مجروح ہوتا ہے، تاہم مسلمان کیس ہار گئے۔

اس کے بعد 1926 میں جب سکھوں کے گرو ارجن سنگھ دیو کا سالانہ جلوس مسجد کے سامنے سے گزرا تو مسلمانوں نے مطالبہ کر دیا کہ یہ جلوس یہاں سے موسیقی بجاتے ہوئے نہیں گزرے گا۔

چونکہ بنگال میں یہ قانون بن گیا تھا کہ مساجد کے سامنے سے گزرنے والے جلوس موسیقی نہیں بجائیں گے، اس لیے پنڈی کے مسلمانوں نے بھی یہی مطالبہ کیا۔

اس ماحول میں جب 13 جون، 1926 کو سکھوں کا جلوس مسجد کے سامنے سے گزرا تو دونوں فریقین کے درمیان فسادات پھوٹ پڑے جنہوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس دوران 172 دکانیں جلا دی گئیں، درجنوں گھر خاکستر ہوئے، کئی لوگ مارے گئے اور شہر کو فوج کے حوالے کر دیا گیا۔

12 ربیع الاول کا پہلا جلوس بھی اسی مسجد سے نکلا

راولپنڈی کے اولین وقائع نگار عزیز ملک اور عارف راجہ دونوں یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان میں 12 ربیع الاول کا پہلا جلوس اسی مسجد سے نکلا۔

اس سے پہلے سارے ہندوستان میں یہ دن ’بارہ وفات‘ کے نام سے منایا جاتا تھا۔

عارف راجہ لکھتے ہیں کہ 1926 کے فسادات کے بعد انگریز کشیدگی کم کرنا چاہتا تھا، لہٰذا ڈپٹی کمشنر نے دونوں طرف کے رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا۔

وہاں فیصلہ ہوا کہ جس طرح ہندو اور سکھ اپنے تہوار منانے کے لیے مسجد کے سامنے سے گزرتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی جلوس نکالیں اور مندروں و گردواروں کے سامنے سے گزریں۔



  تازہ ترین   
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے
مشاورتی اجلاس: صوبوں کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی مخالفت، کفایت شعاری اقدامات کا عزم
بھارت کی ایک اور فالس فلیگ کی سازش بے نقاب ہوگئی:ذرائع





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر