تحریر: عابد حسین قریشی
کسی کا کوئی تو ہوتا ہے، اتنے لوگوں میں۔ ہمارا کوئی نہیں ہے, حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دیکھیں ناں۔ نعت کا یہ شعر جب سنا، تو نجانے کس قدر تیزی سے قلب و نظر میں اتر گیا۔ دل کے سارے تار ہل گئے۔ کسی کا کوئی تو ہوتا ہے، اتنے لوگوں میں، اس ایک مصرعہ میں ہی جو انداز شکستگی اور کسمپرسی ہے، بیان سے باہر ہے۔
اور داد رسی اور مدد کن سے مانگی جارہی ہے، کہ جو اگر ہمیں اپنا بنا لیں، تو پھر اس بھری دنیا میں کسی کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر آقائے دو جہاں، شافع روز محشر، نبی آخرالزماں، وجہ تخلیق کائنات، تاجدار ختم نبوت، ہم بے کسوں اور بے سہاروں کے پشتبان، غریبوں اور یتیموں کے والی، انسانیت کے ماتھے کا جھومر، ہماری آن اور ہماری شان ، حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا دست شفقت ہم پر رکھ دیں، تو پھر بات ہی نہ بن جائے۔
وہ جو شکوہ کناں ہے، کہ ہمارا کوئی نہیں ہے، حضور دیکھیں ناں، تو اسکے رواں اشکوں کو سکوت اور بے چین اور بیقرار دل کو چین آجائے۔ ہم نبی آخرالزماں صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی ہی تو مانگتے ہیں۔ ہمارے مقدر میں اگر اللہ تعالٰی اپنے خاص لطف و کرم سے یہ غلامی مصطفٰی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھ دیں، تو اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی، اس سے بڑی خوشی، اس سے بڑی طمانیت، اس سے بڑا تحفہ خداوندی اور کیا ہوگا۔
مجھ جیسے خطا کار کو نبی محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قربت، شفقت، نظر کرم اور غلامی نصیب ہوجائے، تو یہ اس دنیا کی ساری رعنائیوں، ساری رفعتوں، نعمتوں، ساری خوشیوں اور ساری بادشاہتوں سے افضل اور ممتاز ہو۔ غلامی مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ طوق تو دوزخ سے رہائی کا ضامن ہے۔جسے یہ غلامی مصطفٰی نصیب ہو گئی، وہ تو سرخرو ٹھہرا، لوگ دنیا کی بادشاہت ڈھونڈتے ہیں، اصل بادشاہی تو سرکار مدینہ کی غلامی میں ہے، اگر وہ قبول فرما لیں۔
ہم کتنے خوش نصیب ہیں، اپنے اس نہایت محترم، عالیشان، عالی مرتبت، امام الانبیاء، اور تمام تر انسانی خوبیوں کے حامل نبی آخرالزماں کی امت سے ہیں۔ ہم میں سے جو بھی اپنے اس نبی محتشم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے ، ماننے اور عقیدہ ختم نبوت پر قائم رہا، اور اسی عقیدہ پر وہ اس دنیا سے رخصت ہوا، وہ انشاءاللہ روز محشر سرخرو ہوگا۔ یہ عقیدہ ختم نبوت تو ہماری شناخت ہے، ہمارے ایمان کی اساس ہے، روز محشر ہماری بخشش کی آس ہے، اور یہ تو ہمہ وقت ہمارے دلوں کے پاس ہے۔
مجھے تو ان بد بختوں کے نصیب پہ رونا آتا ہے، جو ختم نبوت کی اتنی بڑی اور واضح دلیل اور نشانی جسکی حقانیت قرآن کریم سے ثابت ہے، اسے جھٹلا کر کسی جعلساز اور شعبدہ باز کے پیچھے اپنی عاقبت خراب کئے بیٹھے ہیں۔ کیا روز محشر نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ بھی کوئی اور شفاعت کی سفارش کرے گا، کیا عقل و خرد یہ بات بھی نہیں سمجھاتی کہ اس روز میزان پر صرف اللہ کے آخری نبی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم دیگر انبیا کے ساتھ اپنی اپنی امتوں پر شہادت کے لئے موجود ہوں گے۔ اللہ کی کتاب تو یہی کہتی ہے۔ اور کیا جعلی نبوت کے سارے دعوےدار اس روز جہنم کی طرف نہیں دھکیلے جا رہے ہوں گے، وہ اپنے پیروکاروں سے تو نظریں بھی نہ ملا سکیں گے۔ اس روز تو اللہ تعالٰی کی ہی بادشاہی ہو گی اور محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کی بخشش کے لئے حوض کوثر پر خود موجود ہوں گے۔ کیا دلنشین اور دلربا منظر ہوگا۔ مگر منکرین ختم نبوت اس منظر کو نہ جان سکتے ہیں، نہ محسوس کر سکتے ہیں۔
ہم جب آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ التجا کرتے ہیں، کہ ہمارا کوئی نہیں ہے، حضور دیکھیں ناں، تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امتی پر اپنی نگاہ التفات ضرور ڈالیں گے۔ یہ ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ عشق مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری رگ رگ میں سرایت کر چکا ہے۔ اپنے اس عالیشان نبی کے بغیر ہم ادھورے ہیں، نامکمل ہیں، بلکہ کچھ بھی نہیں ہیں۔
عشق نبی تو بڑی سعادت کی بات ہے، بندہ اطاعت نبی اور تابعداری نبی تو کرے، اگلی منزل عشق کی ہی ہوگی۔ اور پھر یہ نہیں کہنا پڑے گا، کہ کسی کا کوئی تو ہوتا ہے، اتنے لوگوں میں۔ ہمارا کوئی نہیں ہے، حضور دیکھیں ناں۔ کیونکہ جب نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تابعداری اور پیروی کی جائے گی، تو پھر آپ نہ تنہا ہو سکتے ہیں، نہ بے یارو مددگار۔



