کراچی (نیشنل ٹائمز) رہنما متحدہ قومی موومنٹ فاروق ستار نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ان سے ملاقات میں اعتراف کیا کہ کامران ٹیسوری کو بطور گورنر سندھ ہٹانا سیاسی مجبوری تھی۔ فاروق ستار نے میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم کے حالیہ دورہ کراچی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے جہاز میں بیٹھنے سے پہلے ڈیڑھ گھنٹہ ہمارے ساتھ ملاقات کی۔رہنما ایم کیو ایم کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے خود مانا کہ سندھ میں 18 سال سے براجمان جماعت کے دباؤ میں فیصلہ کیا، حکومت کو کامران ٹیسوری سے مسئلہ نہیں تھا بلکہ ان کی خدمات کو سراہا گیا۔فاروق ستار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے یقین دلایا ہے کہ کراچی والوں کو جلد بڑی خوشخبری ملے گی، ہمارے ساتھ تمام معاہدے ہو چکے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ ان پر عملدرآمد ہو، اگلے ہفتے ہماری دوبارہ شہباز شریف سے ملاقات ہوگی۔ صحافیوں سے گفتگو میں فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگے بلکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کیا جائے ۔ گیس، بجلی اور مہنگائی کے باوجود کراچی ملک کا پہیہ چلا رہا ہے ، اسلام آباد میں بیٹھ کر 25 کروڑ عوام کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات ملنے چاہئیں، اسی سے گاڑی آگے چل سکتی ہے ، آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کیا جائے ، اضلاع کو بااختیار بنایا جائے ، معیشت میں فرنیچر مارکیٹ کا بڑا حصہ ہے ، انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا میں پاکستان کا بہتر مقدمہ لڑا، جنگ بندی میں پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا جس سے وقار بلند ہوگا۔
وزیر اعظم نے اعتراف کیا ٹیسوری کوہٹانا سیاسی مجبوری، فاروق ستار



