اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)وزیر اعظم شہباز شریف نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس ہفتے 56ارب کا بوجھ حکومت برداشت کرے گی جبکہ مٹی کا تیل 4 روپے 66 پیسے فی لٹر مہنگا کردیا گیا،نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی نئی قیمت 433روپے 40 پیسے فی لٹر ہوگئی،دوسری جانب پٹرول کی فی لٹر قیمت 321روپے 17 پیسے اور ڈیزل کی فی لٹر قیمت 335روپے 86 پیسے برقرار رکھی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول پر 95 روپے 59 پیسے اور ڈیزل پر203 روپے 88 پیسے فی لیٹر پی ڈی سی کی مد میں اداکرے گی۔وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ پٹرول 95 روپے فی لٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی جو انہوں نے مسترد کردی ہے ،وفاقی حکومت نے اس ہفتے مزید 56ارب روپے کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔شہباز شریف نے کہا آج کی تاریخ میں پٹرول فی لٹر 544 روپے ہونا چاہیے تھا جو حکومت آپ کو 322 روپے میں دے رہی ہے جبکہ ڈیزل کی فی لٹرقیمت 790 روپے ہونی چاہیے تھی جو حکومت آپ کو 335 روپے میں فراہم کررہی ہے ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے لیے عوام کے معاشی تحفظ کے سوا کچھ نہیں ہے دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں دو گنی ہوچکی ہیں، حکومت نے مہنگائی کے اس طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے ۔تین ہفتوں کے اندر 125 ارب کا بوجھ حکومت نے اپنے کاندھوں پر اٹھا کر عوام کے کاندھوں کو بوجھ سے جھکنے سے روک دیا، یہ خطیر رقم فلاح اور تعمیر کیلئے استعمال ہوسکتی تھی مگر عوام کا معاشی تحفظ سب سے زیادہ عزیز ہے ۔پاکستان موجودہ صورتحال میں دو اہم محاذوں پر سرگرم ہے ۔ ایک طرف حکومت عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے ، جبکہ دوسری جانب سفارتی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ تباہ کن جنگ کو روکنے کے لیے دن رات متحرک ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ برادر اسلامی ممالک اور پورے خطے کو اس جنگ کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے پاکستان سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کردار ادا کر رہا ہے ۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی مشاورت، دانشمندی اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی پائیدار امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں محض بین الاقوامی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے کی جا رہی ہیں، مسلمان ایک خدا، ایک رسول ﷺ اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں، اس لیے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے ہی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اس نازک وقت میں اتحاد، صبر اور یکجہتی کا مظاہرہ کرے تاکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے متعدد مرتبہ ایران اور خلیجی ممالک کے سربراہان سے تفصیلی گفتگو کی، پاکستان کی سفارتی کوششیں محض بین الاقوامی کوشش نہیں بلکہ مذہبی فریضہ ہے ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار پوری محنت اور خلوص نیت سے کام کررہے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا آج وہ لمحہ آچکا ہے کہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں انقلابی تبدیلیاں فوری طور پر لے کر آئیں،سفر کرنے سے پہلے سوچیں کیا یہ سفر ضروری ہے ، کیا ہر بار گاڑی یا موٹر سائیکل کو نکالنا ضروری ہے ، کفایت شعاری اب اختیار ی نہیں،بلکہ یہ مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے ،دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتیں دوگنا ہو چکی ہیں اور وہاں پر پٹرول پمپوں پر عوام کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں،قیمتیں عوام کے بس سے باہر جبکہ حکومتیں بھی بے بس نظر آ رہی ہیں۔لیکن آپ کی حکومت نے اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اقدامات سے مہنگائی کے اس طوفان کو اب تک آپ تک پہنچنے سے روک رکھا ہے ، یہ جدوجہد صرف حکومت اکیلے نہیں کر سکتی ،میری عوام سے درخواست ہے کہ اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کیلئے جو جامع منصوبہ ہم بنارہے ہیں،اس میں بھر پور تعاون کریں، جس کا اعلان آئندہ چند دنوں میں کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ کے فضل اور قوم کے اتحاد و تعاون سے پاکستان اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلے گا، دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، عزت اور وقار عطا فرمائے اور ملک کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے ،آمین، دریں اثنا وزیراعظم کو کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الحمد الصباح کی جانب سے ٹیلیفونک کال موصول ہوئی ، گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے کویت پر ہونے والے حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا اور ان مشکل حالات میں کویت کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔وزیراعظم نے کویتی قیادت کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے موجودہ بحران میں کویت کے ساتھ پاکستان کی حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کویتی قیادت کے نام وزیراعظم کے حالیہ اظہارِ یکجہتی کے خط پر بھی اظہار تشکر کیا اور حالات بہتر ہوتے ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔وزیراعظم نے ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کر لیاہے ، غیرملکی شہریوں اور کمپنیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور حکومتی سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔ مزید برآں شہباز شریف نے بلین شاہ کو نیپال کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی ہے ۔
پٹرول،ڈیزل کی قیمت برقرار،56ارب کابوجھ حکومت برداشت کریگی:شہباز شریف



