تحریر: سعدیہ نارو
قراقرم کے بلند و بالا سلسلے، برف سے ڈھکے گلیشیئرز اور لمحہ بہ لمحہ بدلتا موسم، یہ سب مل کر کےٹو ٹریک کو ایک مہم سے بڑھ کر ایک آزمائش بنا دیتے ہیں۔ یہاں ہر قدم احتیاط کا تقاضا تو کرتا ہی ہے لیکن کچھ ایسے مقام بھی آتے ہیں جہاں ہر فیصلہ بقا اور خطرے کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔ ایسے کٹھن سفر میں ایک ماہر، ذمہ دار اور مخلص گائیڈ کی موجودگی سہولت نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی ایسا رہبر جو راستوں کی نبض پہچانتا ہو، فطرت کے تیورسمجھتا ہو اور تھکے وجود میں ہمت کی نئی رمق پیدا کرنا جانتا ہو۔ ہوشے کا نور عالم ایسا ہی ایک گائیڈ تھا۔
نور عالم سے میری پہلی ملاقات ۱۸ جولائی ۲۰۲۵ کی شام سکردو کے سمٹ ہوٹل میں ہوئی۔ اسی روز میں لاہور سے کےٹو ٹریک کے لیے وہاں پہنچی تھی۔ ہوٹل میں اپنے ٹور آپریٹر عمیر حسن سے جی جی لا کے لیے درکار سامان کرائے پر لینے کے بارے میں رہنمائی طلب کی تو انہوں نے نور عالم کو میرے ساتھ کر دیا۔ ہم پانچ ساتھی، جو لاہور سے اکٹھے آئے تھے، اسی کی معیت میں اسکردو بازار گئے اور ضروری سامان خریدا۔ رات کے کھانے کے لیے وہ ہمیں شاہی دیوان نام کے ایک خوبصورت ریستوران لے گیا۔ واپسی پر مہمان نوازی کا تقاضا نبھاتے ہوئے اس نے میرا سامان خود اٹھا لیا اور ٹیکسی کی تلاش اور ڈرائیور کے ساتھ کرایہ طے کرنے کی ذمہ داری بھی نبھاتا رہا۔
سمٹ ہوٹل واپس آ کر ہم کچھ دیر پچھلے لان میں بیٹھے رہے۔ میری نظر چیری سے لدے درخت پر پڑی تو میں نے بےساختہ فرمائش کر دی۔ نور عالم نے چیریاں توڑیں اور انہیں دھو کر ہمارے سامنے پیش کر دیا۔
پایو اور کنکورڈیا میں جی جی لا کی پریکٹس کے دوران ہارنیس پہننا سکھانے سے لے کر چڑھائیوں اور اترائیوں میں مدد دینے تک، وہ ہر لمحہ متحرک نظر آیا۔ ہر کیمپ سائٹ پر اس نے اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن انداز میں ادا کیں۔ جب بھی کسی نے اسے پکارا، اس کا جواب ہمیشہ ایک ہی ہوتا، “جی سر جی” اور خندہ پیشانی سے ممبرز کی طرف سے دئیے گئے ہر کام کو انجام دیتا رہا۔
کنکورڈیا میں ٹیم لیڈر عمیر حسن نے میری اور دو ساتھیوں کی رہنمائی کے لیے نور عالم کو مقرر کیا۔ علی کیمپ اور پھر جی جی لا تک کا سفر اسی کے ساتھ طے ہونا تھا۔ کنکورڈیا سے علی کیمپ تک وہ قدم بہ قدم میرے ساتھ رہا۔ وائن گلیشیئر پر جب کہیں میرے قدموں کی رفتار سست پڑتی تو وہ میری ہمت افزائی کرتا اور مجھے ساتھ لے کر یوں چلنے لگتا جیسے کوئی بزرگ اسکول جانے سے انکاری بچے کو زبردستی ساتھ لیے جا رہا ہو۔
وقت کی نزاکت کا احساس دلانے کے لیے وہ اکثر سادگی سے کہتا،
“باجی، ہمیں تیز چلنا ہو گا، ورنہ آگے بڑی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔”
میں ہنس کر جواب دیتی،
“نور عالم، ہم زندگی کی مشکلات سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں، کیا یہاں بھی وہ ہمارا انتظار کر رہی ہیں؟”
علی کیمپ پر اس نے میرے خیمے میں کھانا اور چائے پہنچانے کی ذمہ داری بھی خوش اسلوبی سے نبھائی۔ جی جی لا کی کٹھن چڑھائی اور خطرناک اترائی کے دوران وہ سائے کی مانند میرے ساتھ رہا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس مرحلے کو کامیابی اور اعتماد کے ساتھ طے کرنے میں اس کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا کلیدی کردار رہا۔ وہ ایک ایسا قابلِ اعتماد رہنما ثابت ہوا جسے ہر راستے، ہر دراڑ اور ہر ممکنہ خطرے کا بخوبی ادراک تھا۔
کےٹو ٹریک کے آخری روز، جب ہم ہوشے کی طرف بڑھ رہے تھے، میں نے عمیر حسن سے نور عالم کی پیشہ ورانہ مہارت کا ذکر کیا۔ وہ مسکرا کر بولے،
“نور عالم نہایت قابل انسان ہے۔ اگر تعلیم یافتہ ہوتا تو آج ایک لائسنس یافتہ گائیڈ ہوتا اور اس فیلڈ میں بہتر مقام پر ہوتا۔”
ہوشے پہنچنے پر نور عالم نے حسبِ روایت مسکرا کر میرا استقبال کیا، ٹریک مکمل کرنے پر مجھے مبارکباد دی اور میرا بیگ مجھ سے لے کر اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ یوں ہماری رفاقت اپنے اختتام کو پہنچی۔
نور عالم اور اس جیسے دوسرے کئی گائیڈز موسم گرما میں ٹریکرز کے ہمراہ ان دشوار گزار راستوں پر چلتے ہیں اور سردیوں میں لاہور اور اسلام آباد کے ریستورانوں میں محنت کر کے اپنے بچوں کے لیے رزق کماتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے دوبارہ ملاقات کب اور کہاں ہو گی، مگر میری کےٹو ٹریک سے وابستہ یادوں میں وہ ہمیشہ ایک روشن ستارے کی طرح جگمگاتا رہے گا۔



