اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ برطرفی کے دوران اگر کوئی ملازم کسی دوسرے ادارے میں باقاعدہ ملازمت کرتا رہے تو وہ اس عرصے کے بیک بینیفٹس (تنخواہ و مراعات کے واجبات) کا حقدار نہیں ہوتا، بیک بینیفٹس کا اصول صرف ایسے ملازمین کے لیے ہے جو برطرفی کے دوران بے روزگار رہے ہوں، اگر کوئی شخص اس دوران ملازمت یا کاروبار کر رہا ہو تو وہ اس مدت کی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم نہیں، لہذا سول پٹیشن مسترد کرتے ہوئے اپیل کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے ایک شہری کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لیو ٹو اپیل دینے سے انکار کر دیا۔تحریری تفصیلی فیصلہ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا جس میں افتخار احمد کی دائر سول پٹیشن خارج کی گئی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات کو انٹری ٹیسٹ 2011کے پرچے لیک کرنے کے الزام پر انکوائری کے بعد 30 مارچ 2012 میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ عدالتی ہدایت پر محکمہ نے اسے بحال کیا اور کچھ عرصے کی تنخواہ و مراعات بھی دیں۔ درخواست گزار نے 21 دسمبر 2012 سے 5 ستمبر 2016 تک یو ای ٹی ٹیکسلا میں ڈپٹی ڈائریکٹر خدمات انجام دیں جس پر متعلقہ ادارے نے اس عرصے کو بغیر تنخواہ چھٹی قرار دیا اور بیک بینیفٹس دینے سے انکار کر دیا۔
برطرفی کے دوران ملازمت کرنے والا پچھلے واجبات کا حقدار نہیں : سپریم کورٹ



