اسکواڈرن لیڈر علاؤالدین احمد (ستارۂ جرأت) — 1965 کی فضائی جنگ کا بے خوف شاہین

تحریر: عامر اعوان

اسکواڈرن لیڈر علاؤالدین احمد، جنہیں ان کے ساتھی محبت سے “بچ” یا “بچ احمد” کہا کرتے تھے، پاک فضائیہ کے ان جانباز افسروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں غیر معمولی جرأت اور قیادت کا مظاہرہ کیا۔ وہ 3 اکتوبر 1930 کو ڈھاکہ (اس وقت برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے اور 13 ستمبر 1965 کو گورداسپور کے محاذ پر شہید ہوئے۔ انہیں بعد از شہادت ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔

ان کی زندگی محض ایک پائلٹ کی داستان نہیں بلکہ قیادت، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی مکمل تصویر ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

علاؤالدین احمد ایک تعلیم یافتہ اور معزز بنگالی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر تاجمال احمد ایک معروف ماہرِ امراضِ چشم تھے جن کی شہرت مشرقی پاکستان اور برصغیر کے دیگر حصوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے علمی ماحول میں پرورش پانے والے علاؤالدین نے بچپن ہی سے نظم و ضبط اور محنت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔

ڈھاکہ میں ابتدائی تعلیم کے دوران ہی وہ غیر معمولی ذہانت اور جسمانی فٹنس کے لیے مشہور ہوگئے تھے۔ انہوں نے ایف ایس سی نمایاں نمبروں سے مکمل کیا۔ کالج کے زمانے میں وہ ایک بہترین باکسر بھی تھے اور ضلعی و صوبائی سطح پر متعدد تمغے جیتے۔ ان کی شخصیت میں اعتماد، جرات اور قائدانہ صلاحیتیں اسی دور میں نمایاں ہوگئی تھیں۔

ذاتی زندگی

علاؤالدین احمد نے 3 نومبر 1955 کو صوفیہ شیریں سے شادی کی۔ ان کے چار بچے تھے، دو بیٹے ظفر احمد اور جمال احمد، اور دو بیٹیاں یاسمین اور نیلوفر۔ وہ نہایت خوش مزاج اور دوست نواز شخصیت کے مالک تھے۔

ان کے قریبی ساتھی سجاد حیدر نے اپنی کتاب “فلائٹ آف دی فالکن” میں لکھا کہ بچ احمد کا کوئی دشمن نہیں تھا، سب انہیں پسند کرتے تھے۔ ان کی ملنساری اور سادہ طبیعت نے انہیں ساتھیوں میں خاص مقام عطا کیا۔

پاک فضائیہ میں شمولیت اور پیشہ ورانہ تربیت

انہوں نے 1951 میں آر پی اے ایف کالج میں شمولیت اختیار کی اور 13 جون 1952 کو کمیشن حاصل کیا۔ وہ ان منتخب افسروں میں شامل تھے جنہیں جرمنی بھیجا گیا جہاں انہوں نے جیٹ ٹرانزیشن کورس مکمل کیا۔ بعد ازاں امریکہ میں ایف-86 سیبر طیاروں پر ایڈوانس تربیت حاصل کی۔

پاکستان واپسی پر انہیں نمبر 11 اسکواڈرن میں تعینات کیا گیا جہاں سیبر طیارے شامل کیے گئے تھے۔ انہوں نے فائٹر لیڈرز اسکول موری پور سے امتیازی کارکردگی کے ساتھ گریجویشن کیا اور بعد میں بطور انسٹرکٹر خدمات انجام دیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور فلائنگ آورز کی بڑی تعداد انہیں ممتاز پائلٹس کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔

عالمی ریکارڈ “ڈائمنڈ لوپ”

2 فروری 1958 کو موری پور میں ایک شاندار فضائی مظاہرہ منعقد ہوا جس میں افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ، صدر اسکندر مرزا اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔ اس ایئر شو میں فالکنز ایروبٹک ٹیم نے ایف-86 سیبر طیاروں کے ساتھ 16 طیاروں پر مشتمل “ڈائمنڈ لوپ” بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

فلائٹ لیفٹیننٹ علاؤالدین احمد اس فارمیشن میں نمبر 2 پوزیشن پر تھے۔ یہ مظاہرہ نہ صرف تکنیکی مہارت کا شاہکار تھا بلکہ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عالمی سطح پر اعلان بھی تھا۔

نمبر 18 اسکواڈرن کی قیادت

جون 1962 میں انہیں نمبر 18 اسکواڈرن “شارپ شوٹرز” کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔ ان کی قیادت میں اسکواڈرن نے اعلیٰ معیار کی جنگی تیاری برقرار رکھی۔ 1965 کی جنگ کے دوران انہوں نے اپنی اسکواڈرن کے ساتھ بیس سے زائد جنگی مشنز میں حصہ لیا۔

6 ستمبر 1965 کو ترن تارن کے قریب ایک فضائی جھڑپ میں انہوں نے دشمن کے ہاکر ہنٹر طیاروں کا مقابلہ کیا۔ ان کی اسکواڈرن نے بھرپور حکمت عملی اپناتے ہوئے ڈاگ فائٹ میں برتری حاصل کی۔ اگرچہ اس واقعے کی بعض تفصیلات متنازع قرار دی جاتی ہیں، مگر یہ طے ہے کہ انہوں نے غیر معمولی قیادت اور جرات کا مظاہرہ کیا۔

گورداسپور مشن اور شہادت

13 ستمبر 1965 کو ان کا آخری مشن تاریخ کا یادگار باب بن گیا۔ صبح کے وقت انہوں نے چونڈہ-نارووال سیکٹر میں دشمن کے ٹینکوں اور توپ خانے پر کامیاب حملہ کیا۔ مختصر آرام کے بعد وہ دوبارہ مسلح ریکی مشن پر روانہ ہوئے، اس بار ہدف گورداسپور کا علاقہ تھا۔

وہاں انہوں نے ریلوے یارڈ میں ایک فوجی سامان سے بھری ٹرین دیکھی۔ انہوں نے بغیر ہچکچاہٹ حملے کا فیصلہ کیا۔ پہلے حملے میں زوردار دھماکہ ہوا، مگر وہ مزید نشانہ بنانے کے لیے نچلی پرواز کرتے ہوئے دوبارہ حملہ آور ہوئے۔ دوسرے حملے میں ہونے والے دھماکے سے فضا میں دباؤ کی شدید لہریں پیدا ہوئیں۔

اسی دوران ان کے طیارے کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے زخمی طیارہ پاکستانی حدود کی جانب موڑنے کی کوشش کی مگر کاک پٹ دھوئیں سے بھر گیا۔ ان کا آخری ریڈیو پیغام تھا: “میرا کاک پٹ دھوئیں سے بھر گیا ہے۔” اس کے بعد رابطہ منقطع ہوگیا اور وہ دشمن کی سرزمین پر شہید ہوگئے۔

ستارۂ جرأت اور عسکری اعتراف

ان کی بے مثال قیادت، جرات اور قربانی کے اعتراف میں انہیں بعد از شہادت ستارۂ جرأت عطا کیا گیا۔ سرکاری اعزازی بیان کے مطابق انہوں نے بیس جنگی مشنز کی قیادت کی اور دشمن کے ٹینکوں، گاڑیوں اور اسلحہ بردار ٹرین کو تباہ کیا۔

ان کی شہادت نے پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کیا۔ وہ ان افسروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے فرض کی ادائیگی کو ذاتی سلامتی پر ترجیح دی۔

عسکری ورثہ اور یادگار مقام

علاؤالدین احمد کی زندگی پیشہ ورانہ مہارت، غیر معمولی قیادت اور حب الوطنی کا استعارہ ہے۔ وہ ان بنگالی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کی، جو اس دور کی قومی یکجہتی کی ایک علامت بھی ہے۔

ان کا نام پاک فضائیہ کی تاریخ میں عزت اور فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی قربانی نئی نسل کے لیے یہ پیغام ہے کہ فرض کی راہ میں جرأت اور دیانت ہی اصل شناخت ہوتی ہے۔



  تازہ ترین   
ہمارا قومی اتحاد دشمن کو جھکنے پر مجبورکر دے گا: مجتبیٰ خامنہ ای
جنگ کا21 واں روز: پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نائینی شہید
اسرائیل کی دہشتگردی، فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز عید نہ پڑھنے دی
امریکا کے بغیر نیٹو کاغذی شیر، جنگ فوجی طور پر جیت لی: ٹرمپ
سری لنکا نے امریکی جنگی طیاروں کو اڈہ دینے سے انکار کردیا
شوال کا چاند نظر آگیا، ملک بھر میں عید الفطر کل بروز ہفتہ منائی جائے گی
سعودیہ، امارات، ترکیہ سمیت کئی ممالک میں آج عید الفطر، فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے محروم
جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی، افغان دعویٰ مضحکہ خیز ہے: وزارت اطلاعات





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر