اپنی نئی کتاب عجز عاجزانہ کا مقدمہ مصنف کے قلم سے اہل ذوق حضرات کے لئے۔ عابد حسین قریشی۔
عدل بیتی سے عجز عاجزانہ
جوڈیشل سروس میں گزرے 37 سال کے شب و روز بلا کم و کاست و بلا مبالغہ بڑے فطری انداز میں جب اقساط میں سپرد قلم کر رہا تھا، تو یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میں کوئی کتاب لکھنے جا رہا ہوں، جو عنقریب مجھے سنجیدہ لکھاریوں کی صف ۔یں شامل کر دے گی۔ حادثاتی طور پر لکھنے لکھانے کا کام شروع تو ہو گیا، اب شاید اسے روکنا میرے بس میں نہیں تھا۔ صرف چار پانچ سال کے عرصہ میں تین کتابوں کا مصنف بن جانا دوست احباب کے ساتھ ساتھ میرے لئے بھی حیرت و استعجاب کے کئی در کھول گیا۔
کیا میرے اندر کوئی خوابیدہ صلاحیتیں تھیں جو سروس کے جھمیلوں کے دوران منتظر اظہار رہیں، سروس آشکار نہ ہو سکیں، اور پھر موقع ملتے ہی یوں رواں ہوئیں کہ اچانک ذہن و قلب میں اتنا مواد آگیا کہ تین کتابیں لکھی گئیں اور یہ سلسلہ ابھی تھم نہیں رہا۔
اگر احباب اسے مبالغہ آرائی اور خود ستائشی نہ سمجھیں تو یہ صرف اور صرف مالک ارض و سما کا خصوصی کرم، عنایت اور مہربانی اور سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت و محبت اور نظر کرم تھی کہ ناممکن بھی ممکن بن گیا۔ صاحب کتاب ہونا بلاشبہ ایک بڑا اعزاز اور استحقاق ہے، مگر اللہ جانتا ہے کہ لا شعور سے شعور تک کے اس سفر میں کس طرح اور کس قدر کوئی غیبی ہاتھ ہمہ وقت میری نصرت کے لئے موجود رہا۔
دو چار دیرینہ دوستوں نے تو میرے انتخاب مضمون ہائے پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ یہ موضوعات میں کہاں سے منتخب کرتا ہوں۔ میرا جواب یہی تھا کہ بس اچانک کوئی خیال ذہن میں آتا ہے، میں سیل فون پر ٹائپنگ شروع کرتا ہوں اور آرٹیکل مکمل کرنے کے بعد ہی چھوڑتا ہوں۔
عدل بیتی تو اپنی زندگی اور سروس کے شب و روز پر تھی، اسلئے آسان تھی کہ پہلی کتاب سوانح ہو، تو طویل عمر کے ذاتی اور سروس کے تجربات، یادیں اور باتیں اور واقعات و حوادث سے کافی مواد مل جاتا ہے۔ اصل کام دوسری اور مزید کتابیں لکھنا ہوتا ہے۔ دوسری کتاب تجاہل عادلانہ میرے اخباری کالمز کا مجموعہ تھی جو کہ ایک جج کے لئے ایک کالم نگار کا روپ دھارنا اس دور پر آشوب میں اتنا آسان نہ تھا، پھر شاید تاریخ میں پہلا ریٹائرڈ جج تھا جو باضابطہ کالم نگاری کے گورکھ دھندہ میں شعوری طور پر قدم رکھ رہا تھا، مگر جب قدرت مہربان ہو، تو کچھ بھی مشکل اور ناممکن نہیں رہتا۔
کسی بھی لکھاری یا مصنف کے لئے مطالعہ، تخیل، سوچ و فکر، الفاظ کا چناو اور بندش اور برمحل بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ذاتی طور پر زندگی میں بزلہ سنجی اور خوش گفتاری و خوش مزاجی، سخن فہمی اور شعر و ادب سے لگاؤ تو تھا ہی، مگر لکھنے لکھانے کی طرف طبیعت اسقدر مائل ہو جائے گی، اور جو کچھ لکھا جائے گا، وہ ڈھنگ کا بھی ہوگا اور الگ انگ اور رنگ کا بھی، تخیل پرواز کے ساتھ نفس مضمون کی چاشنی اور خوبصورت الفاظ کا چناو، یہ سب اپنے لئے بھی معمہ ہی ہے۔
عدل بیتی لکھنے کے بعد اور تجاہل عادلانہ کی کالم نگاری کے دوران یہ خیال دل و دماغ کے نہاں خانوں میں مچلتا رہا کہ اگر اللہ تعالٰی نے یہ لکھنے لکھانے کے فن سے آشنا کر ہی دیا ہے، تو پھر کیوں نہ سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے اہل بیت اطہار علیہ السلام کی نکہت و مدحت میں کچھ لکھا جائے۔ مگر اپنی کم مائیگی کا احساس ہر دم شامل حال رہا۔ پھر یہ خیال مجھے گہری سوچ میں گم کر جاتا کہ کیا مجھ جیسا خطا کار یہ مقدس و معطر فریضہ انجام دے پائے گا۔
اس دوران اللہ تعالٰی کی کمال مہربانی سے دو مرتبہ حجاز مقدس کا سفر میسر آیا۔ دونوں مرتبہ نمناک آنکھوں اور دل میں عقیدت و تحریم کے ابلتے جزبات کے ساتھ حجاز مقدس کی پر کیف و پر لطف فضاوں اور رحمتوں، برکتوں اور محبتوں کے سحر میں ڈوبے لمحات اور باد صبا کے مسحور کن اور مشک بو جھونکوں میں ایک مست بے خودی کے عالم میں ہی روضہ رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خانہ کعبہ میں اپنے جزبات و احساسات کو قلمبند کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، تو ناقابل یقین پزیرائی ملی۔ میرے یہ دو آرٹیکل ” سفر تشکر و عقیدت ” اور گزر ہوجائے میرا بھی اگر طیبہ کی گلیوں میں ” جو اس کتاب کا حصہ بھی ہیں، مجھے وہ بنیاد فراہم کر گئے کہ جس پر عجز عاجزانہ کی عالیشان عمارت تعمیر ہو گئی۔
اس مقدس مشن میں میری اہلیہ محترمہ جو شروع میں دیگر لوگوں کی طرح اس خاکسار کو لکھاری ماننے پر تیار نہ تھیں، مگر سوشل میڈیا پر میری تحریروں کی پذیرائی دیکھ کر کچھ قائل ہوئیں، اور سیرت النبی پر کچھ لکھنے کی نہ صرف فرمائش کی بلکہ میری مسلسل حوصلہ افزائی بھی کرتی رہیں۔ اسی دوران کنٹریکٹ پر میری تعیناتی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں بطور ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز ہو گئی۔ اکیڈمی میں پہنچنے کے بعد ایک نئی دنیا دیکھنے کو ملی۔
وہاں عزت مآب ڈائریکٹر جنرل سابق جج عدالت عالیہ جسٹس سردار احمد نعیم روزانہ کی بنیاد پر صبح کا آغاز قرآن کے پیغام جاں فزا سے کر رہے تھے۔ ہر صبح 30/ 40 منٹ قرآن کی کسی آیت یا سورہ مبارکہ کا ترجمہ، تفسیر، غرض و غایت اور بیک گراؤنڈ اتنی تفصیل اور جامعیت کے ساتھ بیان ہوتا کہ دل عش عش کر اٹھتا، کبھی تو آنکھیں نمناک ہوتیں اور کبھی دل میں قرآن پاک کے آفاقی پیغام سے سکون و طمانیت کی لہر دوڑ جاتی۔ محترم ڈائریکٹر جنرل صاحب کمال انہماک، گہرا مطالعہ اور الفاظ و بیان پر مکمل دسترس کے ساتھ قرآن کا پیغام پہنچاتے اور ساتھ بڑے ہی نفیس الطبع اور باوقار چھوٹے بھائی ارم ایاز نقابت کا فریضہ انجام دیتے جو دلوں میں ایک ولولہ تازہ پیدا کر دیتا، تو چونکہ یہ خاکسار بھی قرآن کریم کا ایک طالب علم ہے، لہزا کچھ آرٹیکلز قرآن پاک پر پہلے لکھ چکا تھا، مگر اس قرآنی پیغام کو سننے کے بعد دل و دماغ میں ایک تحریک برپا ہوئی کہ جو کچھ بھی اپنا محدود سا فہم قرآن ہے، اسے عجز عاجزانہ کا حصہ بنایا جائے۔
اسی تناظر میں عجز عاجزانہ کا سفر شروع ہوا۔ مجھے چونکہ اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا شدید احساس تھا، اور ہے، اور موضوعات کی حساسیت اور تقدس کی حرمت نے مجھے ترغیب دی، کہ کتاب کا نام عجز عاجزانہ رکھا جائے، کہ جس میں عجز بھی ہو اور عاجزی بھی، کہ جس اللہ کی آخری الہامی کتاب قرآن پاک کا ذکر مقصود ہے، اس کی تعبیر و تشریح میں مجھ جیسے کم فہم کا کچھ لکھنا ایک عاجزانہ کوشش ہی ہو سکتی ہے۔
ہمدم دیرینہ میاں محمد آصف نے پہلی دو کتابوں کی طرح اس کتاب کا نام اور جزو بندی کے عنوانات طے کرنے میں بڑی بروقت معاونت کی۔ اور پھر اپنے پبلشر جناب حس عباسی کی خواہش پر مضامین کی تعداد کو 63 کے ہندسہ تک محدود کیا گیا، جو سرکار مدینہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری عمر مبارک سے خصوصی طور پر موافقت پیدا کرتے ہیں۔
قرآن کریم کو بغور پڑھنے کے بعد جب اس چیز کا ادراک پوری طرح ہوچکا، کہ ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں، اسکے علاوہ جتنی چیزیں اور مخلوقات ہیں، سب اللہ تعالٰی کے سامنے عاجز اور محکوم ہیں۔ انسانی شعور کی معراج ہی یہی ہے، کہ خدا ہی قادر مطلق ہے، سب اختیارات کا بلا شرکت غیرے مالک، نہ کسی سے مدد کا طلب گار نہ کسی حاجت کا غرض مند۔ جبکہ انسان اللہ کے سامنے عاجز بھی ہے، اور غرض مند بھی۔ جو بھی یہ اعتراف کر لے، وہ اپنے خدا کو پہچان لیتا ہے، اور اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے، جسکو اپنے عجز کی شناخت اور شعور آجائے، وہ تکبر اور انکار کی بجائے عاجزی کا راستہ چنتا ہے، اور ” عجز عاجزانہ ” اسی شعور کی طرف ایک قدم ہی تو ہے۔
قرآن پاک کی حقانیت، فہم قرآن، مظاہر قدرت، قرآن کے مختلف پیغامات پر 26 مضامین اتنے کم وقت میں لکھے جانے ازخود ایک معجزہ ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ خاتم النبیین، والیء مدینہ، شافع روز محشر، راہ عشق و دلبری کے نقیب، انسانیت کے ماتھے کا جھومر، اپنی صفات میں یگانہ و عدیم النظیر اور نبیوں کے امام اور اماموں کے نبی حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نکہت و مدحت میں سیرت النبی کے کچھ دلکش و دلپزیر گوشے قارئین عجز عاجزانہ کی نظر کرتے ہوئے 27 مضامین قلمبند ہوئے، جو کتاب کا حصہ ہیں۔
بطور مصنف میری دلی خواہش تھی کہ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سیرت پر بات کرتے ہوئے، مسئلہ ختم نبوت کو اسکی حقانیت و صداقت کے ساتھ اور اپنی عقل و فہم اور تاریخی حوالوں سے اسکے قانونی اور آیئنی پہلووں کا کھل کر اور بے خوفی اور جرآت سے آشکار کیا جائے۔ ختم نبوت ہمارے ایمان و یقین کی بنیاد ہے۔ میں دعوٰی تو نہیں کرتا مگر نہایت فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں، کہ ختم نبوت کے حوالے سے اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا، پوری طرح مستند اور سچ ہے۔ اور انشاءاللہ یہ کتاب مجاہدین ختم نبوت کے دلوں کو منور تو کرے گی ہی، مگر یہ بوقت ضرورت حوالہ کے طور بھی پڑھی اور پیش کی جا سکے گی۔
اگر اللہ تعالٰی نے اس خاکسار کی یہ کاوش قبول فرما لی اور تاجدار ختم نبوت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پسند آگئی تو کتاب لکھنے کا مقصد تکمیل کو پہنچا، اور اللہ تعالٰی سے امید اور دعا ہے کہ اپنے حبیب مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے یہی چند الفاظ میرے اور میرے والدین اور اہل و عیال کے لئے توشہ آخرت ثابت ہوں۔
کتاب کا تیسرا حصہ اہل بیت اطہار علیہ السلام کی مدح و ستائش میں لکھے گئے 10 مضامین پر مشتمل ہے۔ نبی آخرالزماں صل للہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر انکی آل مبارک کے ذکر کے ساتھ ایک عجب طرح کی وارفتگی اور سرشاری عطا کرتا ہے، جو بیان سے باہر ہے۔ ہماری آخروی نجات آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے اہل بیت سے پورے اخلاص و محبت اور ایمان و یقین کے ساتھ وابستگی سے منسلک ہے۔ اہل بیت اطہار علیہ السلام سے بغض و عناد ایمان کے خلل اور آخرت کی نجات میں رکاوٹ کا باعث ہوگا۔
اپنی طرف سے یہ کاوش ہے۔ اہل بیت اطہار، سیدہ کائنات فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، علم و شجاعت کے شہنشاہ مولا علی علیہ السلام، ایثار قربانی اور جرات و بہادری کا منفرد نشان سیدنا حسین علیہ السلام کی شان و عظمت پر مشتمل ان چند مضامین کا نذرانہ اپنی سی کوشش کے ساتھ نظر قارئین بصد عجز عاجزانہ کر رہا ہوں۔
آخر میں ان تمام کرمفرماوں، دوست احباب کا تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں، کہ جنہوں نے عجز عاجزانہ کے لئے اپنے نہایت قیمتی اور خوبصورت الفاظ بطور پیش میری ستائش اور حوصلہ افزائی کے لئے لکھے۔ میں ان سب احباب کے ایک ایک لفظ پر ان کی محبتوں کا مقروض ہوں۔
مصنف عجز عاجزانہ کے لئے یہ بات باعث فخر و انبساط ہے، کہ اس ملک کی بہت بڑی اور نامور ادبی و علمی اور قد آور شخصیت، دو سو سے زائد کتابوں کے مصنف، سر تا پا پاکستانی جناب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم، عہد حاضر کے نامور سیرت نگار، خوبصورت اور منفرد سٹائل میں الفاظ کے موتی جڑنے والے اخلاص و مروت میں یکتا پروفیسر تفاخر محمود گوندل، مجاہد ختم نبوت، ایک درویش منش دانشور اور علم و حلم میں یکتا اور مسئلہ ختم نبوت پر کئی شہکار کتابوں کے مصنف جناب علامہ متین خالد، ضلعی عدلیہ کے نہایت نیک نام، بہترین انسانی خوبیوں سے مرصع، اور اپنی مشکل اور منفرد انگریزی دانی کی وجہ سے معروف سابق رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ جناب سید ناصر علی شاہ، زمانہ طالب علمی کے دیرینہ ساتھی، مونس و غمگسار، گہرا علمی اور ادبی ذوق رکھنے والے، انسانی خدمت کے داعی، ایک نیک نام پولیس آفیسر میاں محمد آصف، ایک دلبر و دلپزیر، باوقار و باصفا جج اور ہمدرد و انیس دوست جناب محمد ذوالفقار لون، اپنے بچپن اور جوانی کے ساتھی، منفرد شاعر و کالم نگار، پیکر اخلاص جناب محمد طارق بٹ شان، پبلیکیشن کی دنیا میں اپنی امانت و دیانت اور پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ معروف اور خوبصورت شاعر اور خوش اطوار و خوش مزاج جناب حسن عباسی نے عجز عجزانہ اور صاحب کتاب پر اپنی اپنی خوبصورت اور دلکش آرا اور تبصروں سے اس کتاب کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔
میرے پاس وسعت الفاظ کا وہ ذخیرہ نہیں، کہ انکے شکریہ کا حق ادا ہو سکے۔
اس امید کے ساتھ بات ختم کر رہا ہوں، کہ خدائے بزرگ و بر تر میری اس کاوش کو شرف قبولیت بخشے اور قرآن پاک اور ختم نبوت کے رکھوالوں اور نبی آخرالزماں صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے اہل بیت اطہار علیہ السلام سے محبت و عقیدت رکھنے والوں کی علمی تشنگی دور کرنے کا سبب بنائے۔
عابد حسین قریشی۔ (ر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن
مصنف عجز عاجزانہ



