نیو یارک (نیشنل ٹائمز) یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں ڈرون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظرکئی حکومتیں ہائی پاور لیزر سسٹمز تیار کرنے میں تیزی لا رہی ہیں جو روایتی مہنگے دفاعی ہتھیاروں کی نسبت سستے اورانتہائی مو ٔثر ہیں۔اس وقت ڈیریکٹڈ انرجی ویپنز جہاز یا بکتر بند گاڑیوں پر نصب کیے جاتے ہیں اور 20 کلومیٹر تک ہدف پر برقی شعاع چھوڑ سکتے ہیں۔ روس یوکرین کے ڈرونز کے خلاف مختلف سسٹمز استعمال کر رہا ہے ، اسرائیل نے لبنان کے ایران نواز حزب اللہ کے ڈرونز کے لیے آئرن بیم تعینات کیا جبکہ چین نے اپناایل وائے ون سسٹم پیش کیا۔ امریکا اور یورپ بھی اپنی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں فوجی آپریشنز اور ملکی دفاع کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔
ڈرون خطرات ، ہائی پاور لیزر ہتھیار تیارکرنے میں تیزی



