اپنے عہد کے بڑے طالب علم رہنما۔۔

راجہ انور کی مشہور کتاب “جھوٹے روپ کے درشن” 1999 میں پڑھنے کو ملی۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد راجہ صاحب کے متعلق جاننے ک تجسس دل میں جاگا ۔ تھوڈی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ راجہ انور کا شمار ساٹھ اور ستر کی دہائی کے بائیں بازو کی طلبہ سیاست کے بڑے ناموں میں رہا۔ انہوں نے طلبہ سیاست کا آغاز گورڈن کالج راولپنڈی سے کیا اور ان کی سیاست کو عروج ہنجاب یونیورسٹی میں ملا۔ پنجاب یونیورسٹی کا لائق طالب علم راجہ انور اس عہد میں سرخوں کے سرخیل تھے اور اسی زمانے میں مخدوم جاوید ہاشیمی یویورسٹی میں دائیں بازو کی طلبہ تنظیم جمعیت کے بڑے نیتاہوا کرتے تھے۔ ایوب خان کے وزیر خارجہ بھٹو جب عوامی نعرہ لگاکے وزارت سے مستعفی ہوکے پنڈی سے نکلے تو بائیں بازو والوں نے انہیں سر پر اٹھایا اور راجہ انور ہی نے انہیں راولپنڈی ریلوے سٹیشن سے رخصت کیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد بھٹو نے راجہ صاحب کو امور نوجوانان کا مشیر بنایا۔ بھٹو کے دور میں بینظیر بھٹو کے فیصل آباد کے جلسے کے لئے پہلی تقریر بھی راجہ نے ہی لکھی تھی۔ ضیا کے مارشل لا کے بعد نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو کو لے کے قزافی سٹیڈیم جاکے نعرہ بازی کرنے والا بھی راجہ انور ہی تھا۔ ضیا کے دور میں یوروپ گئے اور بھٹو کے بیٹے میر مرتضی بھٹو کی پکار پر کابل آئے ۔ الزولفقار کی بنیاد ڈالی۔ روپ بدل کے پاکستان آئے جان خطرے میں ڈال کے غریب کارکنؤں کو موبلائز کیا۔ کابل میں کام کے طریقہ کار پر میر مرتضی بھٹو سے اختلاف ہوا جیل کاٹی اور جرمنی چلے گئے۔ کابل کے واقعات اور مرتضی کے روایے پر کتاب “دیشتگرد شہزادہ ” لکھی۔ کابل کی جیل بیتی پر کتاب موت کی آغوش لکھ ڈالی۔ چین کے دورے کے متعلق کتاب ہمالہ کے پار لکھی۔ ان کا شمار طلبہ سیاست کے ان ناموں میں ہوتا ہے جو تحریر اور تقریر دونوں میدانوں کے شہسوار میں سر فہرست آتا ہے۔

ہم راجہ انور کی دو کتابیں جھوٹے روپ کے درشن اور دہشتگرد شہزادہ پڑھ کے ان کے فین ہوئے تھے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان سے مل بھی پائنگے مگر خوش قسمتی سے 2004 میں نا صرف مل پائے بلکہ ایک ہی سٹیج پر برابر بیٹھے اور ایک ہی سٹیج سے بولنا بھی نصیب ہوا۔ یکم مئی 2004 کو جے کے پی این پی کے پروگرام میں بطور مقریر ہم بھی مدعو تھے اور راجہ صاحب مہمان خصوصی تھے۔ اس کے بعد 2009 تک چار بار ملنے ایک ساتھ تقریر کرنے اور مکالمہ کرنے کا بھی موقع ملا۔۔ ضیا دور انہوں نے جرمنی میں گزارا کافی بعد میں اسلام آباد آئے۔ 2009 میں شہباز شریف نے آنہیں پنجاب میں ایجوکیشن ٹاسک فورس کی چیرمین شپ دی۔ راجہ صاحب سے آخری ملاقات 2010 میں ہوئی۔

گزشتے سال سوشل میڈیا پر ان کی فریضہ حج کی آدائیگی کی تصویر نظروں سے گزری ۔ آج ان کی پیرانہ سالی کی تصویر نظر آئے تو ایک بار پھر سے ہمارے زہن میں جھوٹے روپ کے درشن والے خوبرونوجوان , ایوب دور میں سیگریٹ سلگاتا ہوا راجہ انور اور ڈاکٹر نجیب کی طرف سے مرتضی بھٹو کی فرمائش پر پُل چرخی جیل کاٹتا ہوا راجہ انور گھومنے لگا ۔ پرانا راجہ انور تو 2008 کے بعد کھوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک بدلا ہوا راجہ انور تھا۔ راجہ انور اپنے نظریات کے ساتھ کتنا کھڑا رہا۔ کیا درست کیا کیا غلط یہ سب اپنی جگہے پر مگر راجہ انور کی تحریروں اور تقریروں نے مختلف ادوار میں مجھ جیسے ہزاروں بوجوانوں کو خوب متاثر کیا۔ نظریات جیسے بھی ہوں۔ لائق لوگ ہمیں ہر صورت اچھے لگتے ہیں اور راجہ انور ہیں ہی لائق انسان۔۔۔ راجہ انور اور اس کے عہد کے سیاسی عروج و زوال جانے کے لئے چھوٹے روپ کے درشن, چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک, ہمالیہ کے پار, موت کی آغوش اور ان کی دیگر تصانیف پڑھنی لازمی ہے۔

راجہ انورکسی فرد کا نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔

راجہ صاحب کی صحت اور سلامتی کے لئے نیک خواہشات۔



  تازہ ترین   
ایران کے خلاف جنگ کا براہ راست حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیراعظم
پاکستانی بہترین سفارتکاری کی دنیا معترف، ایران کا اردو میں اظہار تشکر
رحیم یار خان: بے نظیر انکم سپورٹ سنٹر کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 76 زخمی
پاکستان اور چین قابلِ اعتماد شراکت دار، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے: دفترخارجہ
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر دنیا خاموش، برطانیہ، فرانس، جاپان اور آسٹریلیا کا انکار
ڈونلڈ ٹرمپ ہمت کریں، خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیجیں: پاسداران انقلاب
افغان ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے: وزارت اطلاعات
ایران میں دشمنوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 500 افراد گرفتار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر