مال روڈ

مال روڈ پہ جو اہم سینماتھا ان میں ایک ریگل تھا جو ریگل چوک پہ تھا کچھ تھوڑاسا اند رجاکے اس میں انگلش فلمیں لگتی تھیں جو ایک آدھ بارپہلےلگ چکی ہوتی تھیں یہیں ہم نے گنزآف نیوران جیسی معروف فلمیںد یکھیں دوسراسینما الفلاح تھا جو بعد ازاں نیف ڈیک کے پاس چلا گیا یہیں الفلاح بلڈنگ میں پاکستان نیشنل سینٹر تھا جہاں کسی زمانے میں کشورناہید اور دوسرے معروف ادیب اس کے ڈائریکٹر رہے نوے کی دہائی میں ہم نے یہاں کے پروگراموں میں شرکت کی ۔

یہیں چائینرریستوران تھا جو لاہور کا سب سے پرانا چائینز ریستوران تھا اب ختم ہو گیا الفلاح سینماکے باہر کھڑے ہونے والوں کو اچھی نظر نے نہیں دیکھاجاتا تھا۔

لارڈز گوگو کے پاس تھا پینوراما کے سامنے جہاں دوسرے ریستوران اُنچائی پہ تھے یہ سڑک کے برابر تھا بڑے بڑے شیشوں سے اندر کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا یہاں جانے کا ہمیں موقع نہیں ملا ۔۔ہمارے لیے تو پاک ٹی ہاؤس جو ہمارے تایا سراج الدین احمد کا تھا اور چینیز لینچ ہوم جو ہمارے چچا عبدالحمید کا تھا یہ دونوں مرکز و محور تھے پاک ٹی ہاؤس میں اباجی پچاس کی دہائی میں کاونٹر پہ بیٹھتے رہے سو ہمیں سب ادیبوں شاعرں کے نام بارہا سننے کو ملتے انہی سب کو ریڈیوکے مشاعروں میں بھی سننے کا موقع ملتا شاعروں کے کے نام کے ساتھ اباجی ان کی طبیعتوں اور عادات کی بھی کمنٹری کرتے تھے ۔ہم سب مشاعرہ اتنے ذوق و شوق سے سنتے تھے کہ ایک مصرع ضائع نہ ہوتاتھا۔

1965کی جنگ کے اسقدر ڈنکے بجائے گئے کہ کچھ نہ پوچھیے اسی کے لیے مسجدِ شہدا بنائی گئی یہ 1965 کے شہدا کی یاد میں بنائی گئے یہاںصادق پلازہ کی جگہ کوہِ نور مل کا آؤٹ لیٹ تھا جہاں سے ہم نے ستر کی دہائی میں پہلی پینٹ شرٹ اپنی کمائی سے خریدی اور نقی روڈ سے سلوائی ، سامنے صوبہ خان درزی تھا ۔

ہال روڈ کا کوئی حال نہیں تھا چند ایک دکانیں تھیںجہاں ریڈیوں فروخت ہوتے تھےسب سےپہلا ٹیپ ریکارڈر ہم نے یہاں سےخریدہ دکان کانام ریڈیوہاوس تھا یہ گندے نالے کا سامنے تھا کیتھریڈل کے سے پہلے یہ خریدنے کےکچھ دن بعد ہمیں واپس کرکے فلپس کا ریکارڈنگ والا خریدنا پڑا ۔۔

واپڈا ہاؤس لاہور کی سب سے بلند و بالا بلڈنگ بنی اس کے سامنے فری میسن ہال تھا جو اب وزیرِ اعلی ٰ کے قبضہ میں ہے ستر کی دہائی میںیہاں فری میسن تنظیم باقاعدہ اپنے پروگرام کرتی تھی بعد ازاں جب مذہبی جنونی اخبارات نے اس کے خلاف شور مچایا تو اسے بند کردیاگیا سُناہے یہاں مرد وخواتین کے مشترکہ اجتماع ہوتے تھے جہاں مبینہ خیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی تھیں ان میں کسی کم حیثیت شخص کے داخلے کو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔۔ ستر کی دہائی میں ہم تنویر علوی کے ساتھ یہاں آئے جب تک اسے لاہور آرٹس کونسل کے سپر د کردیا گیا تھا یہاں ادبی پروگرام منعقد ہوتے تھے اس جہاں ہم نے بھی شمولیت اختیار کی یہیں طاہر اسلم گورا کےادارے کے کسی سفرنامے کی تقریب میں شرکت کی تھی پھریہاں کے لان میں اسٹیج ڈرامے بھی ہوتے تھے یہاں ایک خاتون ڈائریکٹر کا ڈرامہ دیکھا تھا مفت میں تب ڈرامے مفت ہی میں دیکھتے تھے ہم لوگ

ایک ڈرامے میں اداکار رنگیلا نے بھی کردار ادا کیا تھا یہ بہت خوبصورت بلڈنگ تھی اسے ایک مرتبہ راؤ خورشید کے ہمراہ بھی دیکھا تھا اند رے پھر شہباز شریف کی نظر پڑی اور وزیرِ اعلی ٰ ہاؤس بن گیا ۔۔

الحمرا آرٹس کونسل میںہم نے خود وہ کوٹھی دیکھی تھی جس میں میوزک اور ڈانس کی کلاسز ہوتی تھیں جہاں ہال نمبر تین اور ادبی بیٹھک ہے یہیں ہمارے چچا ہمیں سب بچوں کو ساٹھ کی دہائی میں اپنی کار میں بھر کے لائے تھے یہاں چینی

بازیگروں کے کمالات دیکھے تھے یہ کار کونسل کورٹینا تھا۔۔

چڑیا گھر بہت ہی حیران کن سمجھا جاتا تھا ساٹھ کی دہائی میں خاندان کے ہمراہ دیکھ لیا تھا آگے درختوں سے بھرا مال روڈ تھا کہیں کہیں کوٹھیاں تھیں اور بس ۔

یاد رہے کہ ہم سائکلیں چلاتے تھے سوہمیں سائکل چلانےوالی پریشانیوں کا بھی احساس تھا لاہور میں دوجگہوں پہ اُنچی گھاٹیاں تھیں ایک ضلع کچہری کے ساتھ ساتھ اونچی گھاٹی تھی جہاں سائکل چلانا مشکل تھا سو ایک سائکل پہ تین بیٹھے ہوؤں کو اُتار کے ہی پیدل چلا جاسکتا تھا یہی معاملہ جی ،پی ، او سے میکلوڈ روڈ کا تھا یہ گھاٹی بھی مشکل چڑھائی والی تھی پٹیالہ گراونڈ چرچ کے سامنے شربت والا بیٹھتا تھا جو تخم ِ بالنگاہ اور گوند کتیرا کا شربت بیچتاتھا دس پیسے کا گلاس تھا ہمیشہ دوگلاس پی کے ہی آگے جانے کی ہمت ہوتی تھی کہ ہم نے سینماجانا ہوتاتھا ۔

بیڈن روڈ پہ کیری ہوم تھا ان کے مالک کو دیکھا تھا جب وہ ریس کلب آیا کرتے تھے ہماے چچا سلیم ان لوگوں کے متعلق جانتے تھے وہی بتاتے تھے یہ ریستوران اپنے دیسی کھانوں کی وجہ سے مشہور ہے فائن بیکری کوپر روڈ پہ تھی جہاں ہمارے ہاں کی بیکری سے جانےوالے شریف مستری کام کرتے تھے ۔

شیزان میں ادبی پروگرام بہت ہوتے تھے یہیں ہم نے دلدار پرویز بھٹی کی نظامت میں بہت سے پروگرام دیکھے جن بڑے لوگوں کے ساتھ پروگرام میں شمولیت کی ان میں احمد ندیم قاسمی ، منیر نیازی ، اجمل، نیازی اور بہت سے اہلِ قلم حضرات سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا

اسلام اعظمی نے بتایا کہ بھٹو صاحب وزارتِ خارجہ سے استعفیٰ دینے کے بعد جب احتجاجی جلسوں سے خطاب کرنے آئے تو وائے ایم سی سے کے اوپر تقریر کرنے آئے تھے جہاں انہیں بیک سائڈ سے سیڑھی سے چڑھایا گیا تھا بھٹو صاحب چینیز لنچ ہوم میں بھی آتے تھے اُس زمانے میں ہم نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو چینیز لنچ ہوم میں دیکھا پریس کانفرنسیں بھی یہیں ہوتی تھیں تب پریس کلب نہیں بنان تھا ۔

سلاطین ریستوران میں بعد ازاں تھیٹر ہوتا تھا ہم نے امان االلہ کا ڈرامہ لنڈا بازار دہیں دیکھا تھا

بچپن میں کوکاکولاپینابہت بڑی عیاشی ہوتی تھی جو صرف عید پہ میسر آتی تھی عید کا ایک روپیہ فراخدلی سے خرچ کرتے تو بھی سارا دن لگ جاتاایک مرتبہ کوکاکولاوالوں نے ہوائی جہازسے پرچیاں پھینکیں جو ہمیں بھی ملیں ہم نے صرف دس پیسے ادا کرکے بوتلیں پیں یہ بڑا معرکہ تھا اس دور کا ۔

سب سے پہلے کون آئسکریم نقی مارکیٹ مال روڈ مسجدِشہدا کےسے آگے گوگو والا لایا یہ کون آئسکریم ہم نے عیدمیلا النبی کے دن کھائی شاید تیس پینتیس پیسے کی ہوگی تب ہمارے بہت سے ہمجولی تھے اکثریت اب نہیں رہی۔چرغہ طباق والےنے شروع کیا تھا مگر یہ بہت بعد کی بات ہے یعنی ستر کی دہائی میں۔ہم سب دوست پیسے جمع کرکے کھاتے تھےجو زیادہ کھاتا اسے گھورتے تھے سبھی۔ایک روپے کی تین تصویریں بلیک اینڈ وائٹ کئی علاقوں میں شروع ہوئیں چوبرجی میں ننھالیوں کے ساتھ تصویریں اتروائیں جن میں بلاقربان علی کمال اور طاہر تھے اسلامپورہ کی تصویرں میں ددھیالی کزن مبشر وجاہت شفقت تھے یہ تصاویر کم از کم ایک ہفتہ بعد ملتیں نعض اوقات اسے بھی زیادہ وقت لگ جاتا روح کھچ کیمرے کے بعد یہ بڑی ایجا د تھی اکثر تصاویر ضائع ہوگئیں جو ہیں وہ فضول قسم کی جگتوں نے لگانے سے باز رکھا۔

فلم دیکھنے جاتے تو شدید گرمیوں میں سائکل پہ ہم تین سے چار دوست ہوتےسائکل ہماری تھی ہمیں ہی چلانی ہوتی مال روڈ سے میکلوڈروڈ تارگھر کے ساتھ اونچی گھاٹی تھی جہں سب سواریوں کو اتار کے پیدل چلا جاتا پھر پٹیالہ گراؤنڈ کے پاس شربت والا بیٹھتا تھا اس سے شربت پیتے تھے رش بہت ہوتا کئی ملازم برف کے بلاک سوئے سے کترتے رہتے آدھے گلاس میں برف کا چورا اور تخم ِ بالنگا اور شربت ڈالا جاتا کئی گلاس چڑھا کے فلم دیکھنے کی طاقت آتی یہ دیسی بئیر بھی ختم ہو گئی۔



  تازہ ترین   
ایران کے خلاف جنگ کا براہ راست حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیراعظم
پاکستانی بہترین سفارتکاری کی دنیا معترف، ایران کا اردو میں اظہار تشکر
رحیم یار خان: بے نظیر انکم سپورٹ سنٹر کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 76 زخمی
پاکستان اور چین قابلِ اعتماد شراکت دار، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے: دفترخارجہ
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر دنیا خاموش، برطانیہ، فرانس، جاپان اور آسٹریلیا کا انکار
ڈونلڈ ٹرمپ ہمت کریں، خلیج فارس میں امریکی بحریہ بھیجیں: پاسداران انقلاب
افغان ترجمان کا بیان اپنی ہولناک کارروائیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے: وزارت اطلاعات
ایران میں دشمنوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 500 افراد گرفتار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر