اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں پینے کے پانی کے معیار سے متعلق ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں وفاقی دارالحکومت کے 34 فیصد پانی کو مضر صحت قرار دے دیا گیا ہے۔
ادارہ برائے تحقیق آبی وسائل کی اس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے باسیوں کو فراہم کیے جانے والے پانی کا ایک بڑا حصہ انسانی استعمال کے لیے موزوں نہیں رہا۔
رپورٹ کے چونکا دینے والے حقائق کے مطابق سملی ڈیم کا 69 فیصد اور راول ڈیم واٹر سپلائی کا 44 فیصد پانی غیر محفوظ ہو چکا ہے جبکہ شہر کے ندی نالوں میں آلودگی کی شرح 74 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ راول ڈیم میں پانی صاف کرنے کے نظام میں بھی سنگین نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسلام آباد کے علاوہ پنجاب کے بڑے شہروں میں بھی پانی کی آلودگی ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے جس کی بڑی وجہ بھارت سے آنے والے مشرقی دریا بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دریائے راوی اور ستلج سرحد پار سے مضر صحت دھاتیں اور زہریلا مواد پاکستان لا رہے ہیں۔ فاضلکہ ڈرین، قصور نالہ اور ہدیارا ڈرین جیسے سرحدی نالے آلودگی لانے کا بڑا ذریعہ بن چکے ہیں جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کا معیار بھی تیزی سے گر رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی کارکردگی بہتر نہ بنائی گئی تو شہریوں میں پیٹ اور جگر کی بیماریاں وبائی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔



