ایران کی جانب سے امریکی MQ-9 ریپر (Reaper) ڈرونز کو گرانے کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ ایران نے انتہائی مہنگے امریکی فضائی اثاثوں کو تباہ کرنے کے لیے ایک “منفرد اور خودکار” (Autonomous) سرفیس ٹو ایئر میزائل سسٹم تیار کر لیا ہے۔
یہ نظام روایتی ریڈار گائیڈڈ میزائلوں سے ہٹ کر کام کرتا ہے، جس کی وجہ سے امریکی ڈرونز کے حفاظتی سینسرز اور جیمنگ (Jamming) سسٹم اسے بروقت شناخت کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اب تک امریکہ کے 11 ریپر ڈرونز کا گرنا، جن کی مجموعی مالیت 330 ملین ڈالر سے زائد بنتی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے “کم قیمت لیکن انتہائی موثر” دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ یہ خودکار میزائل خاموشی سے ہدف کا پیچھا کرتے ہیں اور ریپر جیسے بلندی پر اڑنے والے ڈرونز کو سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بنا دیتے ہیں۔
اس دفاعی حکمتِ عملی کی افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران نے فضائی جنگ کا معاشی توازن مکمل طور پر اپنے حق میں کر لیا ہے۔ ایک طرف امریکہ کا 30 ملین ڈالر کا ایک ریپر ڈرون ہے جس کی دیکھ بھال اور اڑان پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں، اور دوسری طرف ایران کا چند ہزار ڈالر کا “مقامی طور پر تیار کردہ میزائل” ہے جو اس مہنگے ترین طیارے کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔
یہ صورتحال محض عسکری نقصان نہیں بلکہ امریکہ کے لیے ایک بڑی “تزویراتی ہزیمت” ہے، کیونکہ اس نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی فضائیں اب امریکی نگرانی (Surveillance) کے لیے محفوظ نہیں رہیں۔ ایران کی یہ خودکار ٹیکنالوجی مستقبل کی جنگوں میں “ڈیجیٹل ڈیٹرنس” کی ایک نئی مثال قائم کر رہی ہے، جہاں مہنگے روایتی ہتھیار سستے اور ذہین خودکار نظاموں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔



