تیل کی بڑھتی قیمتیں اور پاکستان کی ناتواں معیشت

منظر نقوی

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے حوالے سے جاری کی گئی حالیہ رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ ادارے نے اپنی تازہ “پالیسی ویو پوائنٹ” میں واضح کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کا باعث بن سکتی ہے جس کے پاکستان کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے، یہ صورتحال نہ صرف مہنگائی بلکہ بیرونی کھاتوں اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستان کی معاشی ساخت تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے پہلے ہی کمزور سمجھی جاتی ہے۔ ملک کی مجموعی درآمدات میں پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ شامل ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی فوری طور پر ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے نہ صرف ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور صنعتی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

PIDE کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے پاس اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر محدود ہیں اور ملک مسلسل بیرونی منڈیوں سے تیل کی فراہمی پر انحصار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی بڑے جغرافیائی بحران کا اثر فوری طور پر پاکستان کی معیشت پر پڑتا ہے۔ آبنائے ہرمز اس حوالے سےانتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ تقریباً ۲۰ فیصد سمندری تیل تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ صرف ممکنہ خطرے کے باعث ہی تیل کی قیمتوں میں جغرافیائی خطرے کا عنصر شامل ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بدترین صورتحال پیدا ہو جائے اور آبنائے ہرمز میں تین ماہ تک رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کا ماہانہ پیٹرولیم درآمدی بل نمایاں طور پر بڑھ جائے گا اور مہنگائی کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس طرح کے جھٹکے کے معاشی اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، بجلی کی پیداوار مہنگی ہوگی اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ یہ تمام عوامل اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیں گے۔ نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی عام شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی درآمدات میں اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مزید بڑھا سکتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

علاوہ ازیں جغرافیائی کشیدگی کے دوران جہاز رانی کے اخراجات، انشورنس پریمیم اور فریٹ چارجز بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اگر تیل کی ترسیل میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہو جائے تو اس سے نہ صرف درآمدی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتی سرگرمیوں اور سپلائی چینز بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس طرح کی صورتحال معاشی غیر یقینی کو بڑھا سکتی ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے چند فوری اور طویل المدتی اقدامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ قلیل مدت میں حکومت کو چاہیے کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر کی بہتر نگرانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سپلائی متاثر نہ ہو۔ اسی طرح تیل کی درآمدات کے لیے متبادل راستوں اور سپلائرز کی تلاش بھی ضروری ہے تاکہ کسی ایک راستے یا خطے پر انحصار کم کیا جا سکے۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے آئل ہیجنگ جیسی حکمت عملیوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اصل حل طویل المدتی توانائی اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کو اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ عالمی منڈی میں کسی بحران کے دوران ملک کے پاس عارضی تحفظ موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے متبادل ذرائع خصوصاً شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا بھی ناگزیر ہے۔ قابل تجدید توانائی کے فروغ سے نہ صرف درآمدی تیل پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا بھی اہم ہے۔ اگر صنعت، ٹرانسپورٹ اور گھریلو شعبوں میں توانائی کی بچت کے اقدامات کیے جائیں تو مجموعی طور پر تیل کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح پاکستان عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے جھٹکوں کے اثرات سے بہتر طور پر محفوظ رہ سکے گا –

پائیڈ کی یہ رپورٹ دراصل ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی بڑھ رہی ہے اور پاکستان کو اس صورتحال کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔ بروقت پالیسی اقدامات، توانائی کے متنوع ذرائع اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اس خطرے سے نمٹ سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور پائیدار توانائی نظام کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔ یہی راستہ ملک کی معاشی سلامتی اور مستقبل کے استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔



  تازہ ترین   
ایرانی حملوں کی 52 ویں لہر، آبنائے ہرمز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کیلئے کھلی ہے: عراقچی
کوہاٹ: سی ٹی ڈی اور پولیس کا خفیہ اطلاع پر آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک
پاک فوج کے کامیاب حملے، قندھار میں انتہائی اہم ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج ٹنل تباہ
ٹرمپ نے ایران کے خارگ جزیرے پر مزید بم برسانے کا عندیہ دے دیا
سوئٹزرلینڈ کا امریکی فوجی پروازوں کو فضائی حدود کی اجازت دینے سے انکار
دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے خاتمے کی ضرورت ہے: صدر، وزیراعظم
بھارت افغان سرزمین کے ذریعے دہشت گردی بند کرے: دفتر خارجہ
پٹرولیم کفایت شعاری سے حاصل رقم عوامی فلاح کیلئے استعمال ہوگی: وزیراعظم





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر