عابد حسین قریشی
اللہ کی کتاب میں سال کی 365 راتوں میں سے ایک رات کو ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دینے میں کیا حکمت کار فرما تھی۔ کیا قرآن کریم کے اس رات نازل ہونے کے علاوہ بھی کوئی فضیلت ممکن تھی، جو لیلتہ القدر کے حصہ میں آئی۔
اللہ تعالٰی نے سورہ القدر میں یوں فرمایا،” کہ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کرنا شروع کیا۔” کیا پروٹوکول ہے قرآن پاک کا کہ اسی لیلتہ القدر کو ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دے دیا، جس میں شب بھر فرشتے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں اور یہ رات صبح تک امن اور سلامتی کی رات ہے۔ نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس منفرد، مقدس اور ایمان افروز رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا عندیہ فرمایا۔ مسلمانوں کی اکثریت نے ستائیسویں رمضان میں اسکا قیاس کر لیا۔
یہ رات آخری عشرہ کی جو بھی رات ہے، اسکی برکات و فیوض اس قدر زیادہ ہیں، کہ اللہ تعالٰی نے اسے ایک ہزار مہینے سے زیادہ قیمتی اور بہتر قرار دیا۔ اگر کسی خوش نصیب کو زندگی میں ایک بار بھی یہ رات مل گئی تو وہ تقریباً 83 سال کی عبادت کا صلہ لے گیا۔
اس رات کی فضیلت کا راز قرآن پاک کے نزول میں پنہاں اور پوشیدہ ہے۔ یہ قرآن پہلی آسمانی کتابوں کی طرح ایک دم سارا نازل نہیں ہوا۔ بلکہ نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب اطہر پر لمحہ بہ لمحہ، لحظہ بہ لحظہ نازل ہوتا رہا۔
کبھی مصطفٰی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان کی طرف دیکھتے تو وحی کا نزول شروع ہوتا اور کبھی وہ روز مرہ کے معمولات میں مصروف ہوتے تو جبرائیل علیہ السلام کسی نئی سورہ یا آیت مبارکہ کے ساتھ حاضر ہوتے۔ کبھی لوگوں کے پوچھے گئے کسی سوال کے جواب میں وحی آتی اور کبھی کسی گنجلک مسئلہ کے حل کے لئے فرمان خداوندی قلب مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ پر نازل ہوتا۔
کیا خوبصورت، دلکش اور دلربا انداز گفتگو محبوب اور محب کے درمیان تھا۔ اللہ تعالٰی نے وحی کے نزول کی ابتدا جس لمحہ مبارک سے کی، اسے ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ کبھی اسے لیلتہ القدر کہا اور کبھی مبارک رات سے تشبیہ دی۔
بلاشبہ قرآن کریم اللہ تعالٰی کی آخری الہامی کتاب اسکے نہایت معتبر اور برگزیدہ ترین پیغمبر محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ اللہ تعالٰی کو اس کتاب پر اس قدر ناز ہے، کہ وہ قرآن پاک میں مختلف جگہوں پر تکرار کے ساتھ اپنی اس کتاب کی عظمت، توقیر، ہیبت، حقانیت اسکے تقدس اور اسکی صداقت کی گواہی سے بات شروع کرتے ہیں۔
اللہ تعالٰی اپنے اس قرآن کو نور بھی کہتے ہیں، کتاب روشن بھی، کتاب ہدایت بھی، دلوں کا زنگ دور کرنے والی، حکمت بھری آیات والی کتاب، انسانیت کو سیدھا راستہ دکھانے والی بھی۔ کسی کجی اور ابہام سے پاک بھی، دلوں پر اثر کرنے والی اور دلوں میں اترنے والی بھی، کفر و شرک میں فرق کرنے والی بھی اور تابد انسانوں کو گمراہی سے بچانے والی بھی۔یہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔جو سراسر سچ اور صرف سچ ہے۔
اور اللہ تعالٰی تو اپنی اس کتاب میں یہ بھی فرماتے ہیں، کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ اسکی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہو جاتا، اور یہی قرآن قلب مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتا ہے اور دلوں میں اترتا چلا جاتا ہے، اور یہ وہی قرآن ہے، جسکی حفاظت کی ذمہ داری خود خالق کائنات نے لے رکھی ہے، اور دنیا کی واحد کتاب ہے، جس میں نہ کوئی اضافہ ممکن، نہ کچھ حزف کرنا ممکن۔ اور نہ اس جیسی کتاب تو کیا اس جیسی ایک آیت بنانا ہی ممکن۔
صرف اس ایک بات سے ہی قرآن کریم کی اہمیت کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، اور پھر معتبر ترین فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام اس قرآن کو لانے والے اور جن کے پاس آ رہی ہے، اس نبی کی شان کا کیا عالم ہے۔ اللہ تعالٰی تو اپنے اس آخری نبی سے وارفتگی اور آشفتگی میں محبت و تقدس کی سب منازل عبور کر گیا۔ اس نے تو اس قرآن کو اپنے اس نبی محتشم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت کی صورت بھی پیش کیا اور جگہ جگہ اپنے نبی آخرالزماں کی تعریف و توصیف میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
کیا مقام و مرتبہ ہے، حامل قرآن کا، کہ لوح محفوظ سے براہ راست انکے قلب اطہر پر 23 سال تک اس کتاب کا نزول ہوتا رہا۔ اور اسکا ایک ایک لفظ پوری طرح محفوظ رکھا گیا۔ جس کا کلام وہ مالک ارض و سما، جو لا رہا ہے، فرشتوں میں امانت دار اور برگزیدہ ترین اور جن پر اترتا رہا، وہ نبیوں کے امام اور اللہ کے آخری نبی ، اور جس رات اسکا نزول ہوا وہ لیلتہ القدر، تو پھر رمضان المبارک کی یہ لیلتہ القدر کیوں معتبر نہ ٹھہرے۔



