چنئی/بنگلورو (نیشنل ٹائمز) بھارت بھر میں گھروں کے باورچی خانوں سے گرم کھانے اور چائے مینو سے غائب ہورہی ہے اور ان کی جگہ فاسٹ فوڈ اور لیموں پانی لے رہے ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ملک میں کوکنگ گیس کی شدید کمی پیدا ہو گئی ہے ۔باورچی ایسے سادہ کھانے بنانے لگے ہیں جن میں کم ایندھن استعمال ہوتا ہے تاکہ ان کا ایل پی جی زیادہ عرصے تک چل سکے ۔یہ قلت اس وقت پیدا ہوئی جب ایران کی جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور خلیج کے راستوں سے جہاز رانی تقریباً رک گئی، جس سے توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ کے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے ۔ دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بھارت ہنگامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریفائنریوں کو پیداوار بڑھانے کا حکم دے چکا ہے ، مگر اس کے باوجود کینٹینوں اور ہاسٹلز کا کہنا ہے کہ گیس کی فراہمی اب بھی محدود ہے ، جس کے باعث مینو میں فوری تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔مغربی ریاست گجرات میں آٹو پارٹس بنانے والے ایک کارخانے نے اپنی کینٹین میں تلی ہوئی اشیاء ختم کر دی ہیں، چائے کی جگہ لیموں پانی اور گرم سوپ کی جگہ لسی یا دہی پیش کیا جا رہا ہے ۔جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ہاسٹلز کو عارضی طور پر چائے اور کافی بنانے اور روٹیاں پکانے سے روک دیا ہے ۔ایلارا سیکیورٹیز کے تجزیہ کار کرن تورانی کے مطابق ممکن ہے صارفین فاسٹ فوڈ یا کوئیک سروس چینز کا رخ کریں جو زیادہ تر برقی اوون اور فرائرز استعمال کرتی ہیں۔دوسری جانب نئی دہلی میں ایک مشہور سڑک کنارے ہوٹل پر ایک نوٹس آویزاں تھا جس میں لکھا تھا:آج صرف دال چاول ملیں گے ۔اسی طرح دہلی ہائی کورٹ کی کینٹین نے بھی کھانے پیش کرنا بند کر دئیے اور فی الحال صرف سینڈوچ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
بھارت میں گیس بحران ، باورچی خانوں کے چولہے بند



