تحریر: ڈاکٹر زاھد حسن چغتائی
ڈاکٹر رشید امجد کی رحلت پر دل گرفتہ ھو کر میری آنکھیں چھاگل کی طرح بہہ نکلیں۔ سوچ میں پڑ گیا قحط الرجال کے اس دور میں بہت سے بڑے لوگ جاتے جاتے ایک ھمالیہ مثال لکھاری اور بے پناہ خوبیوں والے قد آور انسان کو بھی ساتھ لے گئے۔سچ کہوں تو ڈاکٹر رشید امجد ایک فرد نہیں دبستان تھے۔انہوں نے اپنا جہان خود مرتب کیا۔ھزاروں شاگرد سوگوار چھوڑے اور بہت سی طبع زاد اور مرتبہ کتابیں پسماندگان میں چھوڑ کر وھاں چلے گئے ،جہاں آسودگی اور راحت ان کی حفظ جاں اور ثمرہ ھو گی۔ان شا اللہ۔دعا ھے اللہ کریم انہیں جنت الفردوس کا مکین بنا کر رکھے کہ ھزاروں ھاتھ ان کے لیئے دعاوءں اور مناجات کی خاطر اٹھ رھے ھیں۔وہ اپنی وضع کے ایک منفرد قلم کار تھے،جو تا زندگی لکھتے،لکھاتے اور پڑھتے ھی رھے۔کتاب اور شاگرد ان کی شخصیت کا سائبان بنے رھے۔وہ غربت کےاندھیروں سے نکل کر علم کی روشنی کی طرف آئے تو پھر نور کا حالہ ان کے کھلے سر پر تنا ھی رھا۔وہ زندگی اور روشنی کو باھم مربوط کر کے دیکھنے کے خوگر ھوئے اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ علم نور ھے اور اللہ کریم نور کا منبع ھے،لہذا اس تک پہنچنے کے لیئے کہکشاں کا راستہ ھی بہتر ھے۔سو وہ علم کی کہکشاں پر بچھ بچھ کر چلتے رھے۔ان کے پاوءں خاکی تھے،اور وہ نورانی و ماورائی ڈگ بھرتے ھوئے آج بعد از موت بھی اسی راستے پر گامزن نظر آتے ھیں۔گویا آ رھی ھے دما دم صدائے کن فیکون۔۔۔۔یہ صدائے رسد آسا انہیں یوں ھی عطا نہیں ھوئی بلکہ اک مجاھدہ تھا جو اس منزل کے پس منظر میں وقوع پذیر تھا۔۔۔۔۔جبھی تو انہوں نے پوٹھوھار کی قلم کے اولین وارث عزیز ملک رح کی رحلت پر تحیر انگیزی سے کہا یہ لوگ کسی کرشماتی دیس کے باسی تھے۔ ان کا کہنا تھا عزیز ملک مرحوم جب کبھی راولپنڈی صدر کی کسی سڑک پر سر جھکائے پیدل چلتے نظر آتے تو میں دل میں سوچتا نجانے یہ کس ملک کے باسی ھیں اور ان کی ماورائی منزلیں کون سی ھیں۔۔۔۔۔ان کے اس فکر انگیز تاثرءات پر عہد حاضر کے جانان شاعر افتخار عارف نے قرآن کریم سے اس کی سند پیش کرتے ھوئے کہا ارشاد باری ھے رحمان کے بندے زمین پر سر جھکا کر چلتے ھیں۔۔۔۔۔
ڈاکٹر رشید امجد سے میرے کئی چپ چپیتے سے ناتے تھے۔وہ اپنی اولین عملی زندگی میں میرے سگے چچا ماسٹر نثار حسن کے ساتھ چکلالہ 502 ورکشاپ میں معمولی سی ملازمت کرتے تھے۔یہ میرے سکول کی اولین جماعتوں کا ماجرا ھے۔کئی مرتبہ سائیکل پر چچا کے ھمراہ ھمارے گھر تشریف لائے۔کھانا کھایا،چائے پی اور ڈھیروں باتیں کرتے رھے۔کئی دھائیاں بعد بھی جب وہ ڈاکڑ رشید امجد ھو گئے تھے،گاھے ماھے لالکڑتی بازار میں خریداری کرتے ھوئے مجھے مل جاتے تو سب سے پہلے چچا نثار حسن کی خیریت پوچھتے۔پھر کہتے میں نے آپ کوبچپنے میں دیکھا ھے۔آپ کے چچا کبھی کبھار مجھے دفتر سے گھر کھانا کھلانے کے لیئے لے کر آتے تھے۔آپ کی دادی اماں کی بنی ھوئی ماش کی دال کا ذائقہ آج تک میری لذت کام و دھن کا سبب ھے۔جب بھی ملتے میں ھمیشہ کہتا ڈاکٹر صاحب گھر چلیں آپ کو چچا نثار حسن سے ملوا دوں،کہتے آپ کے ساتھ ضرور جاتا مگر جلدی میں ھوں۔پھر کبھی سہی۔۔ ایک روز میں انہیں اصرار کر کے گھر لے ھی آیا۔چچا نثار تو گھر پر نہیں تھے اور دادی اماں کے انتقال کو بھی کئی سال گزر چکے تھے،البتہ اس روز میری امی جان نے بھی اتفاقا” ماش کی پھریری دال بنائی ھوئی تھی۔کھانا کھاتے ھوئے بولے یار یہ تو اسی ذائقے والی ماش کی دال ھے اور تڑکا بھی دیسی گھی کا لگا ھوا ھے۔۔۔۔۔۔
زندگی مہ و سال کی گردشوں میں رھی ، اتفاقات زمانہ کے بہت سال گزر گئے ،میں صحافت کی دنیا میں آ گیا، نوائے وقت کا دفتر صدر بنک روڈ پر تھا۔ایک دن شدید گرمی کے موسم میں دوپہر کے وقت دفتر سے باھر نکلا تو کیا دیکھتا ھوں داتا ریسٹورنٹ کے دروازے پر ڈاکٹر رشید امجد کھڑے ھیں۔میں لپک کر گیا،علیک سلیک ھوئی اور احوال پرسی کے بعد بولے کالج میں بہت بھوک لگ رھی تھی،یہاں کھانا کھانے آیا ھوں۔آپ بھی آ جائیے،میں نے کہا میرا کشمیر روڈ پر مرحبا ریسٹورنٹ کی طرف رخ ھے،آپ میرے ساتھ چلیں،جناب کی من پسند ڈش حاضر ھو گی،بولے کیا؟؟؟میں نے کہا ماش کی دال۔۔۔ناصر زیدی نے مدعو کیا ھے،وہ آپ کو دیکھ کر خوش ھوں گے۔تیار ھو گئے اور بلا توقف مجھے اپنے ویسپا سکوٹر پر بٹھا کر چل پڑے۔مرحبا ریسٹورنٹ پر ناصر زیدی منتظر تھے۔ڈاکٹر رشید امجد کو میرے ھمراہ دیکھ کر کھل اٹھے۔بولے زاھد چغتائی بہت اچھا کیا جو ڈاکٹر صاحب کو بھی ساتھ لیتے آئے۔پھر میں نے ڈاکٹر رشید امجد کو بتایا کہ مرحبا ریسٹورنٹ والے غضب کی پھریری دال ماش بناتے ھیں۔ناصر زیدی کی چونکہ یہاں بیٹھک ھے،لہذا وہ دوستوں کو کھانے پر مدعو کرتے رھتے ھیں۔ میزبان نے کھانے کا آرڈر دیا اور اس اثناء میں سلطان رشک بھی آ گئے۔پھر چار یاری میں ماش کی دال سے حظ اٹھایا گیا۔ڈاکٹر رشید امجد نے چند لقمے کھانے کے بعد دال ماش کی ازحد تعریف کی اور کہا مجھے آج معلوم ھوا کہ شہر کے علاؤہ کینٹ کے اس ریسٹورنٹ میں بھی مزیدار اور پر لطف ماش کی دال ملتی ھے،یعنی داتا ریسٹورنٹ سے بھی زیادہ لذیذ۔۔۔۔۔۔
یادش بخیر ایف جی ٹیکنیکل ھائی سکول لالکڑتی سے شاندار نمبروں میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد میں نے ایف جی سرسید ڈگری کالج مال روڈ راولپنڈی میں گیارھویں جماعت میں داخلہ لیا۔کالج پہنچ کر معلوم ھوا پروفیسر رشید امجد بھی یہاں انٹر کی کلاسوں کو اردو پڑھاتے ھیں۔ایک دن زینے میں ملاقات ھو گئی تو مجھے دیکھ کر بہت خوش ھوئے۔بولے میرے ساتھ آوء۔مجھے لے کر سٹاف روم میں پہنچے،چائے منگوائی اور بڑی اپنائیت کے ساتھ پلائی۔پوچھنے لگے ایف ایس سی میں داخلہ لیا ھے؟؟؟میں نے بتایا ایف ایس سی پری انجیئنرنگ بی سیکشن میں ھوں۔۔کہنے لگے تمہیں پروفیسر گل نواز چودھری اردو پڑھائیں گے۔میں بھی حاضر ھوں کوئی مسلہء ھو تو بتانا۔اس کے بعد اکثر و بیشتر ملتے رھے،پڑھائی بارے بہت سے استفسار کرتے اور حوصلہ بڑھاتے ۔حصول علم کا یہ سلسلہ چلتا رھا اور میں انٹر کے بعد گریجوایشن کرنے کے لیئے گارڈن کالج چلا گیا۔بعد ازاں بقول یار لوگوں کے جسمانی معذور ھونے کے با وصف ایم اے اردو کرنے کے بعد شعبہء صحافت میں آ دھمکا۔ یہ میرے بہت سے بہی خواھوں سمیت پروفیسر رشید امجد کے لیئے بہت تشویش کی بات تھی۔وہ بہت تحیر کا شکار ھوئے کہ میں نے صحافت کا سنگلاخ اور خار زار شعبہء زندگی کیوں منتخب کیا؟؟؟ پھر کیا تھا ڈاکٹر رشید امجد ایک دن مجھے بطور خاص ملنے صدر بنک روڈ پر نوائے وقت آفس آئے اور کھل کر باتیں کرنے لگے۔بولے یار تم نے اس قدر متحرک اور انتھک شعبہء زندگی اختیار کیا ھے کہ مجھے تمہاری جسمانی معذوری اس میں مانع نظر آتی ھے۔میں نے جواب دیا سر میں خود کو اس شعبہ کے لیئے اھل اور پورا فٹ محسوس کرتا ھوں۔بہت خوش ھوئے اور مشورہ دیتے ھوئے بولے کبھی زندگی میں تدریس کے شعبہ کا ذائقہ بھی چکھ کر دیکھنا۔میں نے برملا اس کی حامی بھر لی،پھر کوشش کر کے صبح کے اوقات میں ایک پرائیویٹ کالج میں باقاعدہ پڑھانا شروع کر دیا ،یہی نہیں گاھے بگاھے ڈاکٹر رشید امجد کو شاد کرنے کے لیئے اپنی تدریسی سرگرمیاں بھی ان کے گوش گزار کرتا رھا۔ کچھ عرصہ بعد جب نوائے وقت کی ملازمت کے دوران میں نے ایم فل اقبالیات کر لیا تو میٹھائی لے کر ان کے دولت کدے پر حاضر ھوا،خوش ھوئے اور بولے پی ایچ ڈی بھی کرو۔میں نے اس کی بھی حامی بھر لی اور اس مقصد کے حصول کی خاطر کمر بستہ ھو گیا۔پی ایچ ڈی میں کامیابی کی خبر ملی تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور فون پر رنجیدہ خاطر بھی ھوئے،بولے وقت پر ڈاکٹریٹ کر لیتے تو میں تمہیں کسی یونیورسٹی میں ایڈ جسٹ کرا دیتا۔ کہنے لگے جس جامعہ میں بھی موقع ملے وزٹنگ فیکلٹی میں پڑھاوء،کوئی سبب بنا تو ضرور تمہیں آگے لائیں گے،میں نے ان کے حکم پر سی وی ارسال کی تو جوابا” فون پر کہنے لگے یار اب تو تمہاری عمر کا بھی مسلہء ھے،لہذا وزٹنگ ھی پڑھاوء۔۔یہاں یہ امر قابل ذکر ھے کہ میں نے کبھی ان سے کسی معاملے میں سفارش کرائی نہ ھی کوئی کام ذمے لگایا۔یہ ان کا بڑا پن تھا کہ میرے معاملات میں ذاتی دلچسپی لیتے اور نیک تمناؤں کا برملا اظہار کرتے تھے۔۔۔۔۔۔
یہ وہ دور تھا جب صدر داتا ریسٹورنٹ میں ھر پیر کے روز حلقہء ارباب غالب کا ھفتہ وار تنقیدی اجلاس ھوتا تھا۔اس ادبی اکٹھ میں کوئی اور شاعر،ادیب آئے نہ آئے،تین بڑے ضرور وقت پر پہنچ جاتے تھے۔جلیل عالی،یوسف حسن اور ڈاکٹر رشید امجد ۔۔۔باقی ان تینوں بڑوں کے شاگرد اور اصلاح لینے و ادبی مشاورت کرنے والوں کی آمد بھی ھو جاتی تھی۔۔۔۔ادھر حلقہء ارباب ذوق راولپنڈی ایک جانان اور توانا ادبی وتنقیدی فورم تھا۔جس کے فعال اراکین میں رشید نثار،احسان اکبر،نجمی صدیقی،علی محمد فرشی،انوار فطرت،صفدر قریشی،یوسف چودھری،شعیب خالق،اختر عثمان، سلطان صبر وانی اورعبید بازغ امر ایسے لکھاری تھے۔علاوہ ازیں راشد حسن رانا،ھارون عدیم،نصیر احمد ناصر ،اقبال آفاقی اور حمید شاھد بھی حلقہ میں خاصے سرگرم تھے۔ان کے ساتھ ساتھ سرور کامران،جلیل عالی اور رشید امجد حلقہ کے سینیئرز میں شامل تھے۔90 ء کی دھائی سے پہلے حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی پاکستان نیشنل سینٹر آدم جی روڈ کے بعد ایجوکیٹرز کلب صدر مارکیٹ اور پھر بلآخر پاکستان نیشنل سینٹر مری روڈ منتقل ھوا۔اسی دور میں مجھے نا مساعد حالات کے باعث دوستوں نے حلقہ کا سیکریٹری منتخب کرا دیا۔میں نے کام شروع کیا تو حلقہ کی رونقیں بڑھنے لگیں،تنقیدی اجلاس ایسے بھرپور ھونے لگے کہ کم از کم تیس ممبران کی حاضری بہت باقاعدہ ھو گئی۔میں نے گھروں میں بیٹھے ھوئے اھل قلم کو باھر نکالا، انہیں حلقہ کے تنقیدی اجلاسوں کی صدارتیں کروائیں نیز انہوں نے بیشتر مرتبہ حلقے میں اپنی تخلیقات بھی تنقید کے لیئے پیش کیں۔ ان میں عزیز ملک،سرور کامران،اختر ھوشیار پوری،ایوب محسن،ممتاز مفتی،ماجدالباقری،سید ضمیر جعفری،ھارون رشید،اختر امام رضوی،بشیر حسین ناظم،سید عارف اور بہت سے دیگر ممتاز لکھاری شامل تھے۔دیگر شہروں سے محسن بھوپالی،فاطمہ حسن،نذیر قیصر،جاذب قریشی،ڈاکڑ وزیر آغا اور ڈاکڑ نور احمد شیخ سمیت مقتدر اھل قلم بھی حلقہ کے تنقیدی اجلاسوں میں بطور خاص شرکت کرنے لگے۔میں کئی سال حلقے کا سیکریٹری رھا،پتھراوء بھی مسلسل سہتا رھا مگر ثابت قدم رھا۔میرے دور میں حلقہ کے پلیٹ فارم سے جدید نظم اور انشائیے کی تحریکیں بہت شد و مد کے ساتھ چلائی گئیں،لیکن علامتی افسانے کی تحریک ھم اس زور و شور کے ساتھ نہ چلا سکے،اس پر ڈاکٹر رشید امجد ھم سے قدرے ناراض بھی تھے۔اس حقیقت کے باوجود ان کا بڑا پن تھا کہ مجھ سے براہ راست اس کا کبھی شکوہ نہ کیا،بلکہ انہیں سلام کرنے کو جی چاھتا ھے کہ میں نے اپنی سیکریٹری شپ کے دور میں انہیں سالانہ اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی تو خوشی خوشی آ گئے اور حلقہ بارے بہت خوبصورت و فکر انگیز خیالات کا اظہار کیا۔
میں اگرچہ حلقہ ارباب ذوق میں ان کے مخالف دھڑے میں تھا اور یہ میری مجبوری بھی تھی،کیونکہ میرے تمام لکھاری دوست اسی دھڑے سے تعلق رکھتے تھے۔اس دور میں بھی کم آمیزی کے ساتھ عزت سب کی کرتا تھا اور آج بھی کرتا ھوں ۔ گروپ بندیوں کے ضمن میں کسی کا نام نہیں لیتا لیکن آج پوری زمہ داری اور خلوص نیت کے ساتھ کہتا ھوں کہ ادب میں یہ دھڑے بازیاں تخلیقی صلاحیتوں کے لیئے زھر قاتل رھی ھیں ۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست ھے کہ ان دھڑے بازیوں کے زمہ دار سراسر سینئر شعراء اور ادیب ھی ھوا کرتے ھیں۔جونیئر لکھاری تو سب کے ساتھ یکساں برتاوء روا رکھتے ھیں۔ڈاکٹر رشید امجد اپنے عہد کے سارے اھل قلم میں اس لیئے ممتاز حثیت رکھتے تھے کہ وہ دھڑے بازیوں اور گروہ بندیوں کے قائل نہ تھے۔ان کے ھاں سب سے زیادہ اھمیت خود سے محبت کرنے والوں اور اپنے شاگردوں کے لیئے وقف تھی۔میں ان کی بزرگی اور بڑائی کا قائل اس لیئے بھی ھوں کہ انہوں نے میری بعض نالائقیوں کے باوجود مجھ سے کبھی درینہ ناتا توڑا اور نہ ھی قطع تعلق کیا،مجھے یاد ھے ایک مرتبہ اکادمی ادبیات کے لیئے اردو شاعری کا انتخاب مرتب کرتے ھوئے اوراق میں میری شائع ھونے والی چند غزلیں ڈھونڈ نکالیں اور ان کو کتاب میں شامل کر لیا۔یہی نہیں پھر مجھے فون کر کے ان غزلوں کی تعریف بھی کی،کتاب شائع ھوئی تو خود لیکر میرے دفتر آئے اور اپنے دستخطوں کے ساتھ مرحمت فرمائی۔
ادھر میری بھی نیاز مندی ان کے ساتھ کبھی ماند نہیں پڑی،گاھے فون کر کے انکی خیریت دریافت کرتا،عیدین کے موقع پر میں دوسرے دن ان کو فون کرتا تھا،وہ انتظار میں رھتے اور لمبی بات کرتے۔ایک مرتبہ نا گزیر مصروفیت کے باعث فون نہ کر سکا تو عید کے چوتھے روز اچانک گھر آ گئے،اس زمانے میں عصا کے ساتھ چلتے تھے،مشکل سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر کی منزل تک آئے،میں بہت شرمندہ ھوا تو ھنستے ھوئے بولے تم نے دانستہ فون نہیں کیا تاکہ بالمشافہ ملاقات ھو جائے۔پھر مسکراتے رھے جبکہ میں پانی پانی ھو گیا۔اس دن بہت باتیں ھوئیں۔کہنے لگے پروفیسر فتح محمد ملک میرے لیئے تا زندگی ایسے رھنماء رھے،جن کو میں قطبی ستارہ بھی کہہ سکتا ھوں۔میرے سامنے ان کے لیئے ایسے خوبصورت اور نیک خیالات کا اظہار کیا کہ میں نہال ھو گیا۔میں بولا سر جی پروفیسر فتح محمد ملک میرے لیئے بھی قطبی ستارہ ھیں،اللہ ان کی عمر اور مساعی میں برکت دے۔ آمین
انتقال سے کچھ دن پیشتر فون پر بات ھوئی،ٹھیک ٹھاک تھے۔کہنے لگے یار اب نقاہت بہت ذیادہ ھو جاتی ھے،عمر کا تقاضا ھے،میں نے جواب دیا۔ھنسنے لگے اور پھر خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔مجھے کیا معلوم تھا کہ ان سے آخری باتیں ھو رھی ھیں۔ چند دن بعد رحلت کی خبر ملی تو میرے نطق پر ظفر اقبال کا یہ شعر جاری ھوگیا:
کاغز کے پھول سر پہ سجا کر چلی حیات
نکلی برون شہر تو بارش نے آ لیا



