ایران، امریکا اور اسرائیل جنگ کا چھٹا روز۔ مشرقِ وسطیٰ صورتحال ایک خطرناک موڑ پر۔

تحریر: منظر نقوی

ایران ایک جانب اور امریکہ و اسرائیل دوسری جانب کے درمیان جاری تنازع آج چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک وسیع علاقائی جنگ کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ جو تصادم ابتدا میں محدود نوعیت کے حملوں سے شروع ہوا تھا وہ اب تیزی سے ایک پیچیدہ اور خطرناک محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکا ہے جو قومی سرحدوں سے کہیں آگے تک پھیل رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافہ، فوجی کارروائیوں کا جغرافیائی پھیلاؤ اور مختلف ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی شمولیت نے عالمی برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے پانچ دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار دو سو سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جدید جنگ کے اس تلخ پہلو کی یاد دہانی ہیں جس میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ شہری ہلاکتیں، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچہ اور عام لوگوں پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ جنگیں اکثر سیاسی فیصلوں سے شروع ہوتی ہیں مگر ان کا انجام انسانی المیوں کی صورت میں ہوتا ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مبینہ “دہشت گردانہ سرگرمیوں” کے بارے میں خبردار کیا۔ ایک عراقی کرد سیاسی رہنما سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہوں نے ممکنہ دراندازی اور حساس سرحدی علاقوں میں عدم استحکام کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم اور ایرانی کرد سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ کرد جنگجو عراق سے ایران میں داخل ہوئے ہیں۔ متضاد بیانات اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس بحران میں اطلاعات اور بیانیہ بھی ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔

جنگ کا دائرہ اب خطے کی سرحدوں سے باہر بھی پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ ترکیہ نے اعلان کیا کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مشرقی بحیرہ روم میں نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ البتہ ایران نے اسکی تردید کی ہے۔ اگرچہ اس میزائل کا ہدف واضح نہیں ہو سکا مگر اس واقعے نے یہ ظاہر کر دیا کہ یہ تنازع کسی بھی وقت مزید فوجی اتحادوں کو براہِ راست اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ نیٹو کے دفاعی نظام کی مداخلت اس بات کا اشارہ ہے کہ بحران اب صرف دو ممالک یا ایک محدود خطے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے وسیع تزویراتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ ایک امریکی آبدوز نے سری لنکا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو ٹارپیڈو حملے سے تباہ کر دیا۔ یہ واقعہ اس جنگ کے جغرافیائی پھیلاؤ کی ایک بڑی مثال ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع اب خلیج فارس سے بہت دور سمندری راستوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس طرح کی پیش رفت عالمی بحری تجارت اور بین الاقوامی بحری سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

سیاسی محاذ پر بھی صورتحال سخت ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی سینیٹ کی اکثریت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس حمایت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن میں اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے سیاسی عزم موجود ہے۔ اگرچہ داخلی سیاسی حمایت فوجی حکمت عملی کو مضبوط بناتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ سفارتی حل کی فوری ضرورت کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔ ایران کے اتحادی سمجھے جانے والے مسلح گروہ حزب اللہ نے اعلان کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے ساتھ براہ راست جھڑپیں کی ہیں۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان یہ تصادم اس خدشے کو مزید بڑھاتا ہے کہ لبنان ایک بار پھر ایک بڑی جنگ کا میدان بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے۔

ان تمام پیش رفتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ایک محدود تنازع کس تیزی سے ایک کثیر الجہتی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس میں مختلف ریاستیں، غیر ریاستی عناصر اور عالمی اتحاد شامل ہو جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے سیاسی تنازعات، کمزور ریاستی ڈھانچوں اور جغرافیائی کشمکش کا شکار ہے۔ اگر موجودہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں سفارتکاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں شاذ و نادر ہی کسی واضح فتح پر ختم ہوتی ہیں بلکہ اپنے پیچھے تباہ حال معاشرے اور طویل عدم استحکام چھوڑ جاتی ہیں۔ عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔

اس تنازع کے ابتدائی دنوں نے ہی ثابت کر دیا ہے کہ حالات کتنی تیزی سے بگڑ سکتے ہیں۔ اگر تحمل، مکالمہ اور سفارتکاری کو ترجیح نہ دی گئی تو دنیا ایک کہیں زیادہ تباہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ اب فیصلہ صرف جنگ میں شامل ممالک کے ہاتھ میں نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے ہاتھ میں بھی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور بڑے سانحے سے بچانے کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان میں پٹرول کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ، مہنگائی کے سیلاب کا خدشہ
امریکا، اسرائیل کے شہری آبادیوں پر حملے، مہرآباد ایئرپورٹ دھماکوں سے گونج اٹھا، شہدا کی تعداد 1332 ہوگئی
گڈز ٹرانسپورٹرز کا مال بردار کرایوں میں 20 فیصد اضافے کا اعلان
بلوچستان میں دو کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ 15 دہشت گرد ہلاک
حکومت کا ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں 55،55روپے فی لٹر اضافےکا اعلان
عرب ممالک سے کوئی دشمنی نہیں، حملے میں فریق نہ بنیں: ایران کا پیغام
امریکی صدر کا ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر