میں نے اپنی زندگی کی خوبصورت چار دہائیاں لاہور کے مال روڈ پر گزاری ہیں۔ لاہور کا یہ خوبصورت مال روڈ جو کبھی لارنس روڈ کہلاتا تھا، جس کو بعد میں مال روڈ کہا گیا، جبکہ پرانا مال روڈ آج کا لوئر مال ہے۔ اپنی زندگی کے حسین شب و روز یہیں بسر کیے۔
اکثر شام ڈھلے جی پی او چوک سے ہوتا ہوا الحمرہ تک چلا جاتا۔ راستے میں بے شمار کردار نظر آتے۔ وہ مال روڈ کی خوبصورت شامیں میں کیسے بھول سکتا ہوں، جب اپنے والد صاحب کے ساتھ سکوٹر پر بیٹھ کر بندو خان اور بیڈن روڈ پر کیری ہومز، تو کبھی پیراڈائز سے مزے کے کھانے کھاتا۔ کبھی رولو کے قصے سنتا تو کبھی ہوپسن کے جوتوں کی تعریف کرتا۔
مال روڈ میں بیٹھنے کی میری پسندیدہ جگہ جینڈرز اینڈ جینڈرز سپورٹس تھا۔ یہاں مسز خواجہ مجھے لاہور کی پرانی عمارتوں کے بارے میں بتایا کرتی تھیں۔ ان کے شوہر وفات پا چکے تھے اور کاروبار کی ذمہ داریاں انہی کے کندھوں پر تھیں۔ آج وہ جگہ بھی ختم ہو چکی ہے۔ اس کی جگہ کبھی ٹوبیکو شاپ بنی اور کل ہی گزرا تو دیکھا وہاں کوئی برگر والا بیٹھا تھا۔
مال روڈ کی ہر عمارت نایاب ہے، لیکن واپڈا ہاؤس کی خوبصورت بلڈنگ ہمیشہ مجھے اپنی طرف کھینچتی تھی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس کے اندر جا کر اسے دیکھ سکوں گا، مگر خدا کی قدرت کہ میرے ایک مہربان دوست اور درویش صفت انسان جناب عزیز احمد جمالی کی بدولت اس تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جو آج کل سیکرٹری واپڈا اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میرے لیے یہ یقیناً اعزاز کی بات تھی کہ واپڈا ہاؤس کو اس کے تاریخی پس منظر کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔
میں نے کیا دیکھا، وہ تو تصاویر میں واضح ہے، مگر اس عمارت کا تاریخی پس منظر بیان کرنا بھی ضروری ہے۔
واپڈا ہاؤس 33 کنال پر محیط ہے۔ اس کے لیے جگہ میلا رام اور جودھا مل بلڈنگ کو خرید کر مسمار کرنے سے حاصل کی گئی۔ اسی مقام پر مشہور ہوٹل میٹرو بھی تھا، جہاں ڈانسر انجیلا رقص کیا کرتی تھی۔ اس عمارت کا نقشہ نیو یارک کے ممتاز ماہر تعمیرات ایڈورڈ ڈیورل اسٹون نے تیار کیا۔ تعمیر کا آغاز اکتوبر 1963ء میں ہوا۔ دو تہہ خانوں سمیت واپڈا ہاؤس کی نو منزلیں ہیں اور اس کی بلندی 127 فٹ ہے، جس میں اس کا 12 فٹ اونچا اور 65 فٹ قطر کا گنبد بھی شامل ہے۔ پلیکسی گلاس کے اس گنبد “روف گارڈن” اور باہر نکلے ہوئے چھجوں نے اسے چیئرنگ کراس کی خوبصورت ترین عمارات میں شامل کر دیا۔ اس کی تعمیر پر 4 کروڑ 26 لاکھ 42 ہزار روپے لاگت آئی۔

اے حمید اپنی کتاب “لاہور کی یادیں” میں لکھتے ہیں کہ جہاں اب واپڈا ہاؤس ہے وہاں میٹرو ہوٹل ہوتا تھا۔ یہاں شراب سرو ہوتی تھی اور انجیلا رنگ برنگی روشنیوں میں نیم عریاں لباس پہن کر چبوترے پر رقص کرتی تھی۔ جب شراب پر پابندی لگی تو چائے کی کیتلیوں میں سرو ہونے لگی۔ لاہور کا یہ واحد ہوٹل تھا جہاں عرف عام میں لوگ چائے پی کر مدہوش ہو جاتے تھے۔
کچھ عرصہ قبل پرانے لاہوری، جو مال روڈ پر مقیم رہے اور آج کل یورپ و امریکہ میں آباد ہیں، اس میٹرو ہوٹل اور انجیلا کے قصے بڑے شوق سے سناتے تھے۔ جب واپڈا ہاؤس زیر تعمیر تھا تو انہوں نے اس ہوٹل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آج اس کا ایک حصہ لائبریری اور باقی آڈیٹوریم میں تبدیل ہو چکا ہے۔
انجیلا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے لاہور میں ایک جہاز کا حادثہ پیش آیا۔ اس کا ایک گورا بوائے فرینڈ جہاز میں سوار تھا۔ انجیلا نے رقص کرتے ہوئے رومال لہرایا، جہاز نیچی پرواز پر آیا اور چڑیا گھر کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد انجیلا نے رقص چھوڑ دیا اور اینگلو انڈین دور کا ایک باب بند ہو گیا۔

واپڈا ہاؤس کی نہ صرف عمارت بلکہ اس کی چھت بھی ایک خاص تلسم رکھتی ہے۔ جمالی صاحب نے چھت کا مکمل وزٹ کروایا۔ وہاں سے کچھ باغات اور عمارتوں کا ہجوم دیکھا۔ وہ لاہور یاد آیا جو کبھی باغوں کا شہر تھا۔

میرے اندرون شہر کے گمشدہ فوٹوگرافر محمد ارشد بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم نے کیمرے سے زیادہ مناظر اپنی آنکھوں میں محفوظ کیے۔

اسی واپڈا ہاؤس کے ساتھ کسی زمانے میں نیڈوز ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ یہ تمام جائیداد لالہ میلا رام کی تھی۔ انہوں نے ایک ہوٹل تعمیر کر کے مس نیڈوز کو کرائے پر دیا، جو بعد میں مشہور نیڈوز ہوٹل بنا۔ یہی بعد میں اواری ہوٹل کہلایا۔ اس سے کشمیر کے شیخ عبداللہ بھی منسلک رہے، جس پر آئندہ تفصیل سے لکھوں گا۔
واپڈا ہاؤس کی پرانی لفٹ میں سفر کیا۔ بٹن آج بھی پرانے طرز کے لگے ہوئے ہیں۔ روشنی اور ہوا کا ایسا انتظام تھا کہ ہر کمرے میں بآسانی داخل ہو سکے۔ مین ہالز میں فوارے نصب تھے جو خوبصورتی کے ساتھ درجہ حرارت بھی کنٹرول کرتے تھے، مگر اب وہ بند ہیں۔ عمارت چاروں اطراف سے داخلے کی سہولت رکھتی ہے۔ لائبریری بھی گیا مگر کتابیں اچھی حالت میں نہ تھیں۔

قریب ہی شادین بلڈنگ میں لورین اور سٹیفلز جیسے بہترین ریسٹورنٹس ہوا کرتے تھے۔ سٹیفلز جلد بند ہو گیا مگر لورین کافی عرصہ رہا۔ اس کی کافی، پیسٹری اور دیسی کھانے مشہور تھے۔ سٹیفلز میں بڑی شخصیات کی دعوتیں ہوتی تھیں۔ 31 جنوری 1930 کو پنجاب خلافت کمیٹی نے افغان کونسل جنرل ہدایت اللہ خان کو چائے پر مدعو کیا۔ اس تقریب میں علامہ محمد اقبال، سر محمد شفیع، میاں عبدالعزیز مالواڈہ، مولانا شوکت علی، عبدالمجید سالک اور سید حبیب شریک تھے۔ 3 جنوری 1930 کو سردار سردول سنگھ کویشر نے پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی سٹیفلز میں مدعو کیا تھا۔
آج انہی عمارتوں کو بند دیکھ کر وہ دور یاد آ جاتا ہے جب یہاں موسیقی اور لائیو ڈانس کی محفلیں سجتی تھیں۔
واپڈا ہاؤس آج بھی اپنی شان و شوکت کے ساتھ کھڑا ہے۔ کتنے لوگ آئے اور چلے گئے، مگر افسوس کہ ہم نے اپنی تاریخی عمارتوں کا حق ادا نہیں کیا۔ بنانے والے بنا کر چلے گئے اور ہم سنبھال نہ سکے۔ مگر جمالی صاحب کی آنکھوں میں ایک امید ہے کہ آنے والے وقت میں واپڈا ہاؤس کی اہمیت مزید بڑھے گی۔

رخصت ہوتے وقت میں اور ارشد صاحب دیر تک اس عمارت کو دیکھتے رہے اور وہ تمام یادیں تازہ کرتے رہے جب یہاں میلا رام ٹھاٹھ باٹھ سے رہا کرتا تھا۔
آخر میں بس یہی کہوں گا:
لاہور جو ایک شہر تھا، اب ایک ہجوم ہے۔



