تحریر: منظر نقوی
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال تیزی سے ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ منگل کے روز جب یہ کشیدگی چوتھے دن میں داخل ہوئی تو خطے میں جاری عسکری کارروائیوں، شہری ہلاکتوں اور ممکنہ عالمی اثرات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ تنازع صرف ایک علاقائی بحران نہیں بلکہ عالمی امن، جوہری سلامتی اور بین الاقوامی قانون کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
ویانا میں قائم بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث جوہری سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران کی اہم جوہری تنصیبات جیسے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ اور تہران ریسرچ ری ایکٹر کو براہ راست نقصان نہیں پہنچا، تاہم جنگی حالات میں جوہری تنصیبات کے قریب عسکری کارروائیاں کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ خطے کے کئی ممالک جوہری ری ایکٹرز اور تحقیقاتی مراکز رکھتے ہیں، اس لیے کسی بھی غیر متوقع واقعے کے اثرات پورے خطے بلکہ عالمی سطح تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس تنازع کا انسانی پہلو بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران میں تقریباً سات سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ شہری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تہران کے گاندھی اسپتال کو ہونے والے نقصان پر عالمی ادارۂ صحت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے یاد دلایا کہ ہسپتال اور طبی مراکز بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت محفوظ ہوتے ہیں اور انہیں کسی بھی جنگی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ جب ہسپتالوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف انسانی المیہ ہوتا ہے بلکہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی بھی تصور کیا جاتا ہے۔
ایران کے نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حملوں میں غیر فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن میں اسکول اور امدادی ادارے شامل ہیں۔ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس میں مبینہ طور پر 160 سے زائد طالبات ہلاک ہوئیں۔ یہ واقعہ جنگی قوانین اور انسانی اقدار دونوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ تنازع اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات بحرین، اردن، عمان، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد خلیجی ممالک سے بھی سامنے آئی ہیں۔ ان ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنی خودمختاری کے دفاع کے حق پر زور دیا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ تاہم جنگ کا دائرہ متعدد ممالک تک پھیل جانا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صورتحال کسی بڑے علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تہران میں ان کی رہائش گاہ پر مبینہ حملے میں ہلاکت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کسی مذہبی اور سیاسی رہنما کی اس طرح ہلاکت اکثر کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہے اور اس سے جوابی کارروائیوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
ایران پہلے ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ جب تک اس کے خلاف جارحیت جاری رہے گی، خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور اثاثے اس کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تنازع کسی بھی وقت ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صورت میں یہ جنگ مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ایسے نازک وقت میں عالمی برادری کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ سفارتکاری اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنا اب ایک ضرورت بن چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں شروع ہونے والی جنگیں اکثر وسیع تر علاقائی تنازعات میں تبدیل ہو جاتی ہیں جن کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کو اس بحران کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ IAEA کی جانب سے تحمل اور سفارتکاری کی اپیل کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ جوہری سلامتی کا خطرہ ہی اتنا بڑا ہے کہ اس کے پیش نظر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام بھی ناگزیر ہے۔ شہریوں، اسپتالوں، اسکولوں اور امدادی اداروں کو ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ اگر یہ اصول نظر انداز کیے گئے تو عالمی نظام انصاف اور امن کی بنیادیں مزید کمزور ہو جائیں گی۔
آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر عقل و دانش سے کام نہ لیا گیا تو یہ بحران ایک بڑے اور طویل جنگی تصادم میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کے احترام ہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا عالمی قیادت بروقت اقدامات کے ذریعے اس بحران کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔



