ایک عہد کا اختتام یا مزاحمت کا نیا آغاز؟

تاثرات: مظہر طفیل

آیت اللہ علی خامنہ ای کی زندگی، قیادت اور ایران پر مسلط جنگ کا تناظر

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض شخصیات محض حکمران نہیں ہوتیں بلکہ عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید بھی ایسی ہی شخصیت تھے جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی نظریاتی، سیاسی اور اسٹریٹجک سمت متعین کی۔ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ان کی شہادت واقع ہوٸی ہے تو یہ واقعہ صرف ایک فرد کی موت نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست میں ایک بھونچال کے مترادف ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای شہیدکی زندگی کا سفر ایک مذہبی طالب علم سے لے کر انقلاب کے سپاہی اور پھر سپریم لیڈر تک کا ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی تربیت اُس ماحول میں حاصل کی جہاں ایران میں شاہی آمریت کے خلاف مزاحمت جنم لے رہی تھی۔ وہ روح اللہ خمینی کے قریبی رفقا میں شامل تھے اور 1979 کے انقلاب کے بعد نئی ریاستی ساخت کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد جب انہیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تو دنیا کے کئی مبصرین نے اسے ایک عبوری فیصلہ سمجھا، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ ایک طویل اور مضبوط قیادت کا آغاز تھا۔
ان کے منصب سنبھالنے کے وقت ایران جنگِ عراق کے زخموں سے چُور تھا، معیشت کمزور اور عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا۔ آیت اللہ خامنہ ای شہید نے داخلی استحکام کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے ریاستی اداروں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، عدلیہ اور مذہبی قیادت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی۔ ان کا نظریہ سادہ مگر سخت تھا: ایران کو بیرونی دباؤ کے آگے جھکنے کے بجائے خود انحصاری، مزاحمت اور نظریاتی استقامت کا راستہ اختیار کروایا۔
ان کی قیادت میں ایران نے “مزاحمتی معیشت” کا تصور پیش کیا۔ مغربی پابندیوں کے باوجود مقامی صنعت، دفاعی ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق پر سرمایہ کاری کی گئی۔ انہوں نے نوجوان نسل کو یہ باور کرایا کہ عالمی دباؤ دراصل ایران کی خودمختاری کی قیمت ہے۔ ان کا بیانیہ یہی رہا کہ اگر ریاست اپنے نظریے پر قائم رہے تو مشکلات وقتی ہوتی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ان کے دور میں مسلسل کشیدہ رہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو وہ خطے میں مداخلت کی علامت سمجھتے تھے جبکہ اسرائیل کے وجود کو وہ فلسطینی مسئلے کے تناظر میں ایک مستقل تنازع قرار دیتے رہے۔ ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اتحادیوں کی حمایت اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ اسی پالیسی کا تسلسل تھا۔ مغرب کے لیے یہ اقدامات اشتعال انگیز تھے، مگر تہران کے نزدیک یہ قومی سلامتی کی ضمانت تھے۔
حالیہ جنگی صورت حال میں ان کی شہادت کے بعد اس کے اثرات کئی سطحوں پر مرتب ہوں گے۔ داخلی طور پر ایرانی معاشرہ شدید صدمے سے دوچار ہوا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ایران بیرونی حملوں کے وقت متحد ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ ان کی موت کو ایک نظریاتی شہادت کے طور پر پیش کیا جائے اور ریاستی بیانیہ مزید مضبوط ہو جائے۔ علاقائی سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے، پراکسی محاذ سرگرم ہو سکتے ہیں اور عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی شخصیت کی رخصتی سے نظریہ کمزور ہو جاتا ہے؟ آیت اللہ خامنہ ای کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ انہوں نے اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ایک نظام کو مضبوط کیا۔ ایران کا آئینی ڈھانچہ سپریم لیڈر کی تقرری کے لیے واضح طریقہ کار رکھتا ہے، اس لیے قیادت کی منتقلی ممکن ہے، اگرچہ عبوری مرحلہ سیاسی آزمائشوں سے خالی نہیں ہوگا۔
ان کی طویل قیادت کو صرف تنقید یا تعریف کے ایک رخ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے ایران کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھارا، مگر اسی پالیسی نے ملک کو مسلسل عالمی دباؤ میں بھی رکھا۔ انہوں نے قومی وحدت کو بیرونی خطرے کے گرد منظم کیا، مگر داخلی اختلافات بھی وقتاً فوقتاً ابھرتے رہے۔ یہ تضادات ہی ان کی سیاست کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا عہد جنگ کے شعلوں میں ختم ہوا ہے لہذا تاریخ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر ہمیشہ یاد کرے گی جس نے عالمی طاقتوں کے مقابل نظریاتی استقامت کو ترجیح دی۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نظریات اور شناخت کی جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے سے بھی لڑی جاسکتی ہے۔
آج جب ایران ایک نئی آزمائش سے گزر رہا ہے تو اصل سوال یہ نہیں کہ ایک رہنما رخصت ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے نظریاتی اور اسٹریٹجک راستے پر قائم رہتی ہے یا کسی نئے توازن کی تلاش کرتی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای شہید کی داستان ایک ایسے دور کی کہانی ہے جس میں مزاحمت کو ریاستی شناخت بنایا گیا۔ اگر یہ داستان کسی جنگ کے باب پر ختم ہوتی ہے تو شاید یہی ان کے نظریے کا سب سے طاقتور اظہار ہوگا — کہ طاقت کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں، یقین اور وحدت سے بھی کیا جاتا ہے۔



  تازہ ترین   
ایران کا امریکا کے 6 فوجی اڈوں، مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی
پاکستان دل و جان سے ایران کیساتھ، فریقین کو مذاکرات کیلئے آمادہ کر رہے ہیں، اسحاق ڈار
ایرانی 174 بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے: اماراتی وزارتِ دفاع
مشرق وسطیٰ جنگ، حکومت کا پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے: خواجہ آصف
لبنان پر اسرائیلی حملے جاری: جاں بحق افراد کی تعداد 52 ہوگئی، 150 سے زائد زخمی
سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری پر اسرائیل نے حملہ کیا: ایرانی میڈیا
ٹرمپ نے ایرانی رجیم چینج کی کوشش ترک نہ کی تو تیسری عالمی جنگ ہوگی: روس





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر