کابل: (نیوز ڈیسک) افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے۔ جنگجوؤں نے ہرات شہر کے تاریخی قلعے اور پولیس ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔
افغنستان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر امریکی سفارتخانہ نے اپنے تمام شہریوں کو فوری افغانستان سے نکلنے کی ہدایت کر دی ہے۔ تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے افغانستان چھوڑ دیں۔ تاہم جو امریکی فوری طور پر ٹکٹ نہیں خرید سکتے وہ امریکی سفارتخانہ سے رابطہ کریں۔طالبان نے اہم شہر غزنی پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ طالبان کا ایک ہفتے سے کم وقت میں دسویں صوبائی دارالحکومت پر قبضہ ہے۔ طالبان نے شہر کے کئی اہم علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے جن میں گورنر آفس، پولیس ہیڈ کوارٹرز اور جیل شامل ہیں۔ شہر کے کئی مقامات پر لڑائی جاری ہے لیکن صوبائی دارالحکومت کا زیادہ تر حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔
اب طالبان کی نگاہیں شمالی کے سب سے بڑے شہر مزار شریف پر ہیں جو روایتی طور پر طالبان مخالف گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ روز طالبان نے قندھار میں جیل پر قبضہ کرکے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کر دیا تھا۔
دوسری جانب افغان حکومت نے طالبان کو جنگ بند کرنے کے بدلے میں اقتدار میں شراکت کی پیشکش کر دی ہے۔ اس پیشکش کے تحت طالبان ملک میں تشدد بند کرنے کے بدلے میں اقتدار میں شریک ہو سکتے ہیں۔
طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں فی الوقت اس بات کا علم نہیں ہے۔
طالبان نے ہرات شہر کے پولیس ہیڈ کوارٹرز پر بھی قبضہ کر لیا



