کراچی (نیشنل ٹائمز)پبلک اکائونٹس کمیٹی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سوئی ناردرن کے اپنے ہی ملازمین کا 41 کروڑ روپے سے زائد کے گیس پائپ کی چوری میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔
نوید قمرکی زیر صدارت اجلاس کے دوران آٓڈٹ حکام نے بتایاکہ مانگا منڈی میں گیس پائپ کی چوری سے 41 کروڑ روپے سے زائد نقصان کا ہوا ،سٹور سے 41 کروڑ روپے سے زائد کے پائپ چوری کئے گئے ،ٹرکوں کے حساب سے ایس این جی پی ایل سٹور سے مال نکالا گیا ۔ممبرکمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ یہ ادارے کی اپنی چوری ہے ، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے ۔حکام ایس این جی پی ایل کا کہنا تھاکہ سکیورٹی کیمرے براہ راست ہیڈآفس میں رپورٹ کرتے ہیں، 41 کروڑ روپے میں سے ایک کروڑ 60لاکھ روپے کی ریکوری کرلی گئی ہے ، سوئی ناردرن نے 41 لوگوں کو چوری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ایف آئی اے حکام کا کہنا تھاکہ 18 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، سب کی ضمانت ہوگئی۔ کمیٹی نے معاملے پر ایف آئی اے حکام کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اورمعاملے پر 2ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی ہے ۔ اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کے 24 ۔ 2023 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ 23 ۔ 2022 میں پٹرولیم لیوی اور ایل پی ایس کی مد میں 14631 ملین روپے کی ریکوری نہیں کی گئی ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ یہ تو ایف بی آر سے متعلقہ معاملہ ہے ،ایسا نہیں ہونا چاہئے میں اس معاملہ پر چیئرمین ایف بی آر کو ذاتی حیثیت میں بلاؤں گا ۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے عوام سے پٹرولیم لیوی وصولی کے باوجود پٹرولیم کمپنیوں کی جانب سے قومی خزانے کو منتقل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر طریقہ کاربنانے کی ہدایت کی ہے ۔
41کروڑ کا گیس پائپ چوری سوئی ناردرن کے ملازم ملوث



